بدھ کے روز بلوچستان میں مختلف مقامات پر ہونے والی دہشت گردانہ کوششوں کو حملہ آوروں نے “ہیروف 2.0” کا نام دے کر ایک بڑی کارروائی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ مقصد واضح تھا، خوف پھیلانا، ریاستی نظم و نسق پر سوال اٹھانا، اور یہ تاثر دینا کہ حالات ہاتھ سے نکل رہے ہیں۔ مگر زمینی حقیقت یہ رہی کہ ہر جگہ سکیورٹی اداروں نے فوری ردعمل دیا، حملے ناکام بنائے، دہشت گردوں کو پسپا کیا، اور چند گھنٹوں میں صورتحال قابو میں آ گئی۔ ایسی کارروائیاں جب نتیجہ خیز نہ ہوں تو وہ طاقت کی علامت نہیں بنتیں، بلکہ کمزوری، بے بسی اور داخلی دباؤ کی نشانی بن جاتی ہیں۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آج کی دہشت گردی صرف گولی اور دھماکے کا نام نہیں۔ یہ ایک بیانیے کی جنگ بھی ہے۔ جب کوئی گروہ سکیورٹی فورسز کے سامنے براہ راست مقابلے میں ٹھہر نہیں سکتا، جب وہ کوئی علاقہ اپنے قبضے میں لے کر برقرار نہیں رکھ سکتا، تو وہ شور، تاثر اور پروپیگنڈا کے ذریعے اپنی موجودگی ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ دور سے فائرنگ، مختصر چھاپے، دستی بم، اور چند منٹ کی جھڑپیں، یہ سب ایسی ہی حکمت عملی کے اوزار ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر ردعمل تیز ہو، علاقے فوراً کلیئر ہو جائیں، اور عوام کو معمول کی زندگی میں واپسی نظر آئے تو پروپیگنڈا کی عمارت خود بخود کمزور پڑ جاتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق Quetta کے سریاب روڈ کے قریب ایک پولیس وین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، جس پر پولیس نے فوری فائر کیا اور Frontier Corps نے بھی کمک دے کر علاقے کو محفوظ بنایا۔ Nushki میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملے کی کوشش ہوئی مگر مستعد جوانوں نے بھرپور جواب دے کر حملہ آوروں کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ Dalbandin میں دھماکوں کی اطلاعات کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن جاری رکھا۔ Kalat میں ڈپٹی کمشنر دفتر اور پولیس لائنز جیسے اہداف کا چناؤ اس لیے اہم ہے کہ یہ ریاستی نظم و نسق اور عوامی اعتماد پر ضرب لگانے کی کوشش ہوتی ہے، مگر یہاں بھی فوری کارروائی نے بڑے نقصان اور پھیلاؤ کو روک دیا۔
ساحلی علاقوں میں حملوں کی نوعیت اور بھی زیادہ تشویشناک ہے، کیونکہ یہاں “سافٹ ٹارگٹس” کی جانب جھکاؤ واضح دکھائی دیتا ہے۔ Pasni میں Pakistan Coast Guards کی تنصیب پر دور سے فائرنگ کی کوشش اور Gwadar میں مزدوروں کی کالونی کو نشانہ بنانا، یہ سب اس بات کو نمایاں کرتا ہے کہ حملہ آور سکیورٹی پوسٹس پر فیصلہ کن وار کرنے کے قابل نہیں، اس لیے وہ عام شہریوں اور مزدوروں کو خوف زدہ کرنے کی راہ اپناتے ہیں۔ جو گروہ محنت کش آبادی، مخلوط آبادی والے علاقوں اور غیر جنگی اہداف کو نشانہ بنائے، وہ کسی “عوامی جدوجہد” کا نمائندہ نہیں رہتا، وہ سیدھا سیدھا مجرمانہ تشدد کا راستہ اختیار کرتا ہے۔
سرکاری سطح پر کہا گیا کہ مجموعی صورتحال قابو میں رہی، چند اہلکاروں کو معمولی چوٹیں آئیں، اور کوئی اسٹریٹجک تنصیب متاثر نہیں ہوئی۔ اگر یہ تصویر درست ہے تو “ہروف 2.0” جیسی مہم کا نتیجہ ایک واضح ناکامی بنتا ہے۔ مزید یہ کہ حالیہ ہفتوں میں صوبے میں بڑے پیمانے پر انسداد دہشت گردی کارروائیوں اور متعدد دہشت گردوں کے مارے جانے کی اطلاعات کے بعد ایسی کوششوں کو “دباؤ سے نکلنے” کی کوشش بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی گروہ کو میدان میں نقصان پہنچتا ہے تو وہ اچانک شور مچانے والی کارروائیاں کرکے اپنے حامیوں کو یہ دکھانا چاہتا ہے کہ وہ اب بھی فعال ہے۔ مگر فعالیت اور تاثیر دو الگ چیزیں ہیں، اور اس بار تاثیر نظر نہیں آئی۔
اس سارے معاملے میں سب سے تلخ پہلو انسانی قیمت ہے۔ قیادت اکثر محفوظ رہتی ہے، جبکہ مرنے والے زیادہ تر مقامی نوجوان ہوتے ہیں۔ پاکستانی حکام نے ذمہ داری Bashir Zeb Baloch، Allah Nazar اور Harbiyar Marri جیسے ناموں پر ڈالی ہے اور کہا ہے کہ وہ بیرون ملک، خصوصاً Afghanistan میں محفوظ ٹھکانوں سے کارروائیاں چلاتے ہیں۔ یہ دعوے ثبوت اور شفافیت کے متقاضی ہیں، مگر اصولی حقیقت یہی ہے کہ جو لوگ فیصلے کرتے ہیں وہ اکثر فرنٹ لائن پر نہیں ہوتے، اور جو فرنٹ لائن پر ہوتے ہیں ان کے لیے واپسی کا راستہ کم ہی بچتا ہے۔ پھر پروپیگنڈا شروع ہوتا ہے، اعداد و شمار بڑھائے جاتے ہیں، ناکامیوں کو کامیابی بنا کر بیچا جاتا ہے، اور ہلاکتوں کی نوعیت کو بدل کر عوامی جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
یہاں ایک اور حساس مگر اہم نکتہ بھی ہے۔ لاپتہ افراد کا مسئلہ ایک حقیقی سماجی زخم ہے، اور ریاست پر لازم ہے کہ ہر کیس میں قانون کے مطابق، شفاف انداز میں جواب دے، تحقیق کرے، اور اگر کہیں زیادتی ہوئی ہو تو ذمہ داروں کا تعین کرے۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ کچھ مسلح نیٹ ورکس اور ان کے ہمدرد میڈیا حلقے جنگی ہلاکتوں، اندرونی دھڑے بندی، اور آپسی تصادم کو بھی “زبردستی گمشدگیاں” بنا کر پیش کرتے ہیں، کیونکہ اس سے ہمدردی اور غصہ دونوں پیدا ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سچ تک پہنچنے کے لیے جذباتی نعروں کے بجائے ٹھوس شواہد، عدالتی عمل اور معتبر تحقیق کی ضرورت ہوتی ہے۔
اگر ریاست چاہتی ہے کہ آئندہ بھی ایسی مہمات اسی طرح ناکام ہوں تو صرف تیز ردعمل کافی نہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انٹیلیجنس پر مبنی کارروائیاں، مالیاتی اور لاجسٹک نیٹ ورکس کی کمر توڑنا، اور سرحدی و ساحلی نگرانی بہتر کرنا ہو گی۔ مگر اتنا ہی ضروری یہ ہے کہ طاقت کا استعمال منضبط ہو، تاکہ بے گناہ شہری متاثر نہ ہوں اور نفرت پھیلانے والوں کو مواد نہ ملے۔ اصل مقابلہ وہاں جیتا جاتا ہے جہاں عوام کو ریاست کی موجودگی انصاف، خدمت اور تحفظ کی صورت میں محسوس ہو۔ اسکول کھلے رہیں، ہسپتال چلیں، روزگار کے راستے بنیں، مقامی حکومتیں فعال ہوں، اور پولیس عوام کے ساتھ کھڑی نظر آئے، تو دہشت گردی کا بیانیہ خود بخود کمزور ہو جاتا ہے۔
آخر میں سادہ بات یہ ہے کہ “ہیروف 2.0” جیسی کارروائیاں اگر واقعی کسی مقصد کے لیے ہوتیں تو وہ عام مزدور، شہری آبادی اور مقامی امن کو نشانہ نہ بناتیں۔ یہ تشدد نہ بلوچستان کے لوگوں کے لیے ترقی لاتا ہے، نہ مسائل کا حل بنتا ہے۔ نقصان ہمیشہ اسی سرزمین کے نوجوانوں اور خاندانوں کا ہوتا ہے۔ بلوچستان کو بندوق نہیں، حفاظت، انصاف اور روزمرہ زندگی میں آسانی چاہیے۔ اور یہی وہ میدان ہے جہاں ریاست کو مسلسل بہتر کارکردگی دکھا کر دہشت گردی کو صرف ناکام نہیں، غیر متعلق بھی بنانا ہوگا۔
Author
-
محمد سلیم برطانیہ میں مقیم مصنف اور محقق ہیں جن کی اسٹریٹجک اسٹڈیز میں ایک مضبوط علمی بنیاد ہے۔ اس کا کام طاقت اور حکمت عملی کی پیچیدگیوں کو تلاش کرتا ہے۔ وہ جغرافیائی سیاست، علاقائی معاملات، اور آج کی دنیا کو تشکیل دینے والے نظریات کے لیے ایک باریک عینک لاتا ہے۔
View all posts