Nigah

بورڈ آف پیس اور پاکستان

[post-views]

غزہ کے المیے پر پاکستان کا مؤقف ہمیشہ صاف اور اصولی رہا ہے، یعنی فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت، آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست کا مطالبہ، اور قبل از 1967 سرحدوں کے مطابق دو ریاستی حل، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ یہ مؤقف صرف بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے، کیونکہ جب زمین پر لوگ بھوک، بیماری اور بمباری کے درمیان پس رہے ہوں تو اصولوں کی اصل قدر اسی وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ عملی حفاظت اور حقیقی مدد کی شکل اختیار کریں۔ اسی تناظر میں بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کو جذباتی نعروں یا فوری سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے زمینی حقائق اور انسانی ضرورت کے زاویے سے دیکھنا چاہیے۔

بورڈ آف پیس کے بارے میں بنیادی سوال یہ نہیں کہ اس کی سربراہی کون کر رہا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ انتظام غزہ میں جنگ بندی کو موثر بنا سکتا ہے، کیا یہ امداد کی راہ کھول سکتا ہے، اور کیا یہ فلسطینی عوام کو زبردستی بے دخل کرنے کی کوششوں کے آگے بند باندھ سکتا ہے۔ موجودہ حالات میں غزہ کی تباہی اتنی وسیع ہے کہ صرف احتجاجی بیانات سے نہ تو بم رکیں گے، نہ بھوکے بچوں تک خوراک پہنچے گی، اور نہ ہی تباہ شدہ اسپتال دوبارہ چلیں گے۔ اس وقت ایک ایسا ڈھانچہ ضروری ہے جو امدادی رسد، بحالی، اور سیاسی عمل کو ایک قابل عمل راستے پر ڈال سکے، اور یہی وہ جگہ ہے جہاں پاکستان کی موجودگی اہم ہو جاتی ہے۔

پاکستان کی شمولیت کا سب سے مضبوط جواز یہ ہے کہ پاکستان کسی مشرق وسطیٰ کے فوجی بلاک کا حصہ نہیں، اور نہ ہی اس خطے میں اس کے کوئی توسیع پسندانہ عزائم ہیں۔ اس وجہ سے پاکستان نسبتاً غیر جانب دار اور قابل اعتماد کردار ادا کر سکتا ہے، خاص طور پر جب بات انسانی امداد، شہریوں کے تحفظ، اور جنگ بندی کی نگرانی جیسے معاملات کی ہو۔ پاکستان کے پاس اقوام متحدہ کے امن مشنز میں عملی تجربہ بھی ہے، جس سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ کاغذی فیصلوں کو فیلڈ سطح کی ضرورتوں سے جوڑنے میں مدد دے گا۔ ایسے وقت میں بورڈ سے باہر رہنا بظاہر جذباتی طور پر خوش آئند لگ سکتا ہے، مگر اس کا نتیجہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فیصلہ سازی کے اہم مراحل میں فلسطینی عوام کی ترجیحات کمزور پڑ جائیں۔

کچھ حلقے بورڈ آف پیس کو کسی ممکنہ بین الاقوامی سکیورٹی فورس کے ساتھ جوڑ کر خوف پھیلاتے ہیں۔ یہ جوڑ اکثر سیاسی مقصد کے لیے استعمال ہوتا ہے، حالانکہ یہ دونوں چیزیں الگ ہو سکتی ہیں۔ ایک انتظامی اور سیاسی نوعیت کا عبوری ڈھانچہ لازماً فوجی شمولیت کا مطلب نہیں۔ پاکستان کو اس معاملے میں واضح رہنا چاہیے کہ کسی بھی سکیورٹی کردار پر فیصلہ صرف قومی مفاد، معتبر بین الاقوامی مینڈیٹ، اور عوامی حمایت کی بنیاد پر ہو گا، اور سب سے بڑھ کر فلسطینی عوام کی رضامندی کے بغیر کوئی قدم قابل قبول نہیں۔ اس واضح حد بندی کے ساتھ بورڈ میں رہ کر پاکستان وہ کام کر سکتا ہے جو باہر رہ کر ممکن نہیں، یعنی شرائط طے کروانا، عملدرآمد پر دباؤ ڈالنا، اور انسانی امداد کے لیے مسلسل راستہ کھلا رکھنا۔

پاکستان کی ایک اور قوت اس کی سفارتی پہنچ ہے۔ پاکستان بڑے عالمی کھلاڑیوں کے ساتھ متوازن تعلقات رکھتا ہے، اور یہی توازن اسے پل کا کردار ادا کرنے کے قابل بناتا ہے۔ جب عالمی سیاست تقسیم ہو اور ہر فریق اپنی ترجیحات کے ساتھ حرکت کر رہا ہو، وہاں ایسے ممالک کم رہ جاتے ہیں جو مختلف کیمپس میں بات کر سکیں۔ غزہ کے معاملے میں اگر کسی منصوبے کو حقیقی نفاذ درکار ہے تو اس کے لیے صرف قراردادیں نہیں، مسلسل سفارتی محنت چاہیے، دباؤ چاہیے، اور ایسے رابطے چاہیے جو بیک وقت کئی دارالحکومتوں میں اثر رکھیں۔ پاکستان اگر اس صلاحیت کو فلسطینی مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے تو یہ شمولیت ایک معنی خیز سفارتی سرمایہ بن سکتی ہے۔

البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ بورڈ آف پیس کے ساتھ خطرات موجود ہیں۔ سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ عبوری انتظام کہیں مستقل شکل نہ اختیار کر لے، یا بحالی کے نام پر ایسی پالیسیاں نافذ نہ ہو جائیں جو فلسطینیوں کی سیاسی آزادی کو مزید محدود کر دیں۔ پاکستان کو اس خطرے سے نمٹنے کے لیے اپنے کردار کو واضح بینچ مارکس سے مشروط کرنا چاہیے، یعنی مستقل جنگ بندی، بلا رکاوٹ امداد، شہریوں کے تحفظ کی قابل پیمائش ضمانتیں، زبردستی بے دخلی کی روک تھام، اور ریاستی حل کی سمت واضح سیاسی ٹائم لائن۔ اگر یہ نکات نظر انداز ہوں تو شمولیت ایک کمزور دفاع بن سکتی ہے، مگر اگر یہی نکات مرکزی شرط بن جائیں تو شمولیت فلسطینیوں کے لیے ڈھال کا کام بھی کر سکتی ہے۔

پاکستان کے اندر یہ بحث بھی ضروری ہے کہ فلسطین کی حمایت صرف جذباتی نہیں، حکمت عملی سے بھی جڑی ہے۔ جو لوگ ہر طرح کی سفارتی کوشش کو مشکوک کہہ کر رد کر دیتے ہیں، انہیں یہ بتانا چاہیے کہ متبادل کیا ہے۔ اگر سیاسی اور سفارتی راستہ بند کر دیا جائے تو بچتا کیا ہے۔ مسلسل جنگ، مسلسل محاصرہ، اور مزید قبریں۔ حقیقت یہ ہے کہ عام فلسطینی کی فوری ضرورت حفاظت اور خوراک ہے، اور طویل مدتی ضرورت ایک باوقار سیاسی حل۔ دونوں کے لیے عملی قدم اٹھانا پڑتا ہے۔ بورڈ آف پیس میں شمولیت اگر ان دونوں ضرورتوں کو قریب لانے میں مدد دے تو اسے اصولوں سے انحراف نہیں کہا جا سکتا۔

آخر میں بات سیدھی ہے۔ پاکستان کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ غزہ کے لوگ مزید اجتماعی سزا سے بچیں، امداد رکے نہیں، اور فلسطینی ریاست کے حق کو کسی عبوری بندوبست کے شور میں گم نہ ہونے دیا جائے۔ بورڈ آف پیس میں شرکت اسی وقت درست سمجھی جائے گی جب پاکستان وہاں بیٹھ کر نرم زبان نہیں، مضبوط شرائط رکھے، اور فلسطینی عوام کے مفاد کو ہر فیصلے کا مرکز بنائے۔ آج فلسطین کے لیے سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ جذبات کو اصولوں کے ساتھ جوڑ کر ایسا راستہ بنایا جائے جو زندگی بچائے اور انصاف کا دروازہ بند نہ ہونے دے۔

Author

  • Prof. Dr. Ghulam Mujaddid

    ڈاکٹر مجدد نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ وہ تین ماسٹرز ڈگریوں اور اسٹریٹجک اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی کے حامل ہیں۔ وہ پاکستان ایئر فورس میں ۳۳ سال خدمات انجام دینے والے سابق کمیشنڈ آفیسر بھی رہ چکے ہیں۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔