Nigah

بلوچستان میں دہشت گردی اور جدید اسلحے کا نیا خطرہ

[post-views]

پاکستان کے لیے بلوچستان میں ہونے والے حالیہ حملے صرف ایک اور خبر نہیں، یہ ایک سخت یاد دہانی ہیں کہ دہشت گردی کی شکل بدل چکی ہے۔ بیرون ملک سے آنے والے بیانات اپنی جگہ، مگر اصل سوال یہ ہے کہ حملہ آوروں کے ہاتھ میں اتنی جدید طاقت کہاں سے آ رہی ہے، اور وہ بار بار کیسے بچ نکلتے ہیں۔ جب کسی واقعے کے بعد یہ کہا جائے کہ ہم پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور مجرموں کو جواب دہ بنایا جائے گا، تو یہ اچھی بات ہے۔ لیکن زمین پر اس بات کی قدر تب بنتی ہے جب اس کے ساتھ عملی اقدامات بھی دکھائی دیں، خاص طور پر اس راستے کو بند کرنے کے لیے جہاں سے ہتھیار اور سامان دہشت گردوں تک پہنچ رہا ہے۔

حال ہی میں ایک تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں حملوں میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں میں جدید امریکی ساختہ اسلحہ بھی شامل ہے، اور بعض جگہوں پر اسرائیلی ساختہ سامان کا بھی ذکر کیا گیا۔ اس رپورٹ میں کہا گیا کہ بعض گروہ ایسے ہتھیار استعمال کر رہے ہیں جو پہلے افغانستان کی سرکاری فورسز کے لیے آئے تھے۔ یہ ہتھیار اس لیے لائے گئے تھے کہ افغان فوج مضبوط ہو، لیکن جب افغانستان میں حکومت کا نظام ٹوٹا تو ہتھیاروں کے ذخیرے مختلف ہاتھوں میں چلے گئے۔ پھر وہی ہوا جو ایسے حالات میں اکثر ہوتا ہے، کچھ ہتھیار قبضے میں آ گئے، کچھ بلیک مارکیٹ میں بک گئے، کچھ اسمگلنگ کے راستوں سے باہر نکل گئے، اور کچھ گروہوں کے لیے طاقت کا نیا ذریعہ بن گئے۔

اگر پانچ برس گزر جائیں اور پھر بھی وہی ہتھیار سرحد پار حملوں میں دکھائی دیں تو اس کا مطلب ہے کہ مسئلہ عارضی نہیں۔ یہ ایک مسلسل چلنے والا سلسلہ ہے۔ افغانستان کی جنگ ختم ہو گئی، مگر اس کے چھوڑے گئے ہتھیار اب بھی بول رہے ہیں۔ یہ ہتھیار صرف گولی نہیں چلاتے، یہ خوف کی زبان بولتے ہیں، اور حملہ آوروں کو یہ اعتماد دیتے ہیں کہ وہ زیادہ دور سے نشانہ لے سکتے ہیں، زیادہ دیر مقابلہ کر سکتے ہیں، اور رات کے وقت بھی حرکت کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جدید ہتھیار دہشت گردی کے طریقے بدل دیتے ہیں، کارروائی کی منصوبہ بندی بدل جاتی ہے، اور دفاع کرنے والوں کی مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔

مختلف رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا کہ افغانستان میں بڑی مقدار میں امریکی ہتھیار موجود تھے، اور بعد میں مکمل ریکارڈ محفوظ نہ رہ سکا۔ جب ریکارڈ کمزور ہو، اور نگرانی کا نظام ٹوٹا ہوا ہو، تو پھر ایک ایک ہتھیار کا راستہ معلوم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی خلا سے فائدہ اٹھا کر اسمگلنگ کے نیٹ ورک اپنا کام کرتے ہیں۔ سرحدی علاقوں میں پہلے ہی غیر قانونی تجارت کے راستے موجود ہوتے ہیں۔ وہاں اگر جدید ہتھیار اچانک بہت بڑی تعداد میں آ جائیں تو انہیں روکنا صرف ایک چوکی یا ایک کارروائی سے ممکن نہیں رہتا۔ پھر یہ معاملہ چھوٹے دکانداروں اور دلالوں سے لے کر بڑے نیٹ ورکوں تک پھیل جاتا ہے، اور ہر کڑی اپنا حصہ لے کر آگے بڑھ جاتی ہے۔

رپورٹ میں جن ہتھیاروں کا ذکر کیا گیا، ان میں جدید رائفلیں، ہلکی مشین گنیں، دور سے نشانہ لگانے والی رائفلیں، اور رات میں دیکھنے والے آلات شامل ہیں۔ ایسے آلات دہشت گردوں کو دو بڑے فائدے دیتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اندھیرے میں بھی حرکت کر کے اچانک حملہ کر سکتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ وہ فاصلے سے زیادہ درست نشانہ لگا سکتے ہیں۔ جب کسی گروہ کے پاس یہ صلاحیت آ جائے تو وہ صرف ایک سادہ حملہ نہیں کرتا، وہ سوچ سمجھ کر دباؤ بناتا ہے، راستے بند کرتا ہے، اور فورسز کو مصروف رکھ کر اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس سے عام لوگوں کا نقصان بھی بڑھتا ہے، کیونکہ لمبا مقابلہ زیادہ تباہی لاتا ہے۔

پاکستانی سکیورٹی اداروں کی طرف سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ کچھ کارروائیوں میں ایسے ہتھیار برآمد ہوئے جن پر امریکی نشان موجود تھا۔ اگر یہ بات درست ہے تو یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے، کیونکہ پھر یہ صرف اندازہ نہیں رہتا، ثبوت کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ مسئلہ صرف ایک صوبے یا ایک علاقے تک محدود نہیں۔ وزیرستان ہو یا بلوچستان، اگر ایک ہی قسم کے ہتھیار مختلف جگہوں پر نکل رہے ہیں تو یہ پھیلاؤ کو دکھاتا ہے۔ اس پھیلاؤ کے پیچھے وہی پرانے راستے ہو سکتے ہیں، بلیک مارکیٹ، اسمگلنگ، اور سرحدی تجارت کے پردے میں چھپے نیٹ ورک۔

یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ مسئلہ صرف پاکستان کا نہیں۔ جب افغانستان سے جدید ہتھیار باہر نکلتے ہیں تو پورا خطہ متاثر ہوتا ہے۔ آج ایک جگہ ہتھیار پہنچ رہے ہیں، کل دوسری جگہ بھی پہنچ سکتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ریاستیں سخت ردعمل دیتی ہیں، چیک پوسٹیں بڑھتی ہیں، نگرانی بڑھتی ہے، اور عام آدمی کی زندگی مشکل ہو جاتی ہے۔ پھر اسی ماحول میں ناراضی بڑھتی ہے، اور دہشت گرد گروہ اسی ناراضی کو استعمال کر کے نئے لوگ بھرتی کرتے ہیں۔ یوں ہتھیاروں کا پھیلاؤ صرف حملوں کی طاقت نہیں بڑھاتا، یہ مسائل کے دائرے کو بھی وسیع کرتا ہے۔

تو پھر حل کیا ہے۔ سب سے پہلے یہ ماننا ہوگا کہ ہتھیاروں کی اسمگلنگ کو روکنا صرف فوجی کارروائی نہیں، یہ ایک مکمل حکمت عملی ہے۔ اس میں سرحدی نگرانی، مالی لین دین کی نگرانی، دلالوں کے نیٹ ورک کو توڑنا، اور مقامی سطح پر اطلاعاتی نظام مضبوط کرنا شامل ہے۔ دوسرا یہ کہ جو ہتھیار برآمد ہوں، ان کی مکمل جانچ ہو، نشان اور نمبر محفوظ کیے جائیں، اور ان کے راستے کی چھان بین کی جائے۔ تیسرہ یہ کہ علاقائی تعاون بھی ضروری ہے، کیونکہ اسمگلنگ کے نیٹ ورک سرحد کے دونوں طرف کام کرتے ہیں۔ اگر ایک طرف دباؤ ہو اور دوسری طرف خلا ہو تو راستہ بند نہیں ہوتا، صرف بدل جاتا ہے۔

آخر میں بات سادہ ہے۔ اگر پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا دعویٰ سچا ہے تو اس کا مطلب یہ ہونا چاہیے کہ دہشت گردی کے پیچھے جو ہتھیاروں کی سپلائی ہے، اس پر بھی اتنی ہی توجہ دی جائے جتنی حملے کے بعد بیانات پر دی جاتی ہے۔ افغانستان کی جنگ ختم ہونے کے بعد جو اسلحہ پھیل گیا، وہ اب بھی لوگوں کی جان لے رہا ہے۔ جنگ کے فیصلے کسی اور جگہ ہوئے تھے، مگر اس کے اثرات یہاں محسوس ہو رہے ہیں۔ اب وقت ہے کہ اس حقیقت کو تسلیم کر کے ہتھیاروں کے اس راستے کو بند کیا جائے، ورنہ ہر چند ماہ بعد نئی رپورٹ آئے گی، نئے ہتھیار دکھائی دیں گے، اور پرانی غلطیاں نئے زخم بناتی رہیں گی۔

Author

  • مصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے  پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔