اسلام آباد کے مضافات میں خدیجہ الکبریٰ امام بارگاہ پر خودکش حملے کے بعد ایک اور محاذ بھی کھل جاتا ہے، وہ سوشل میڈیا والا محاذ ہے۔ ایک طرف جنازے ہوتے ہیں، خون دینے کی اپیلیں چلتی ہیں، اور دوسری طرف کچھ چینلز اور اوورسیز تبصرہ نگار واقعے کو ایسے فریم کرتے ہیں جیسے مسئلہ دہشت گردی نہیں، بلکہ ریاست ہی اصل مسئلہ ہو۔ اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ دہشت گرد گولی اور دھماکے سے جتنا نقصان کرتے ہیں، اتنا ہی نقصان وہ کنفیوژن اور بداعتمادی سے بھی کرتے ہیں۔ (AP News)
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ بیرون ملک بیٹھ کر بات کرنا آسان ہے۔ وہاں خطرہ نہیں، لاشیں نہیں، زخمیوں کی چیخیں نہیں۔ پھر بھی کچھ لوگ ہر سانحے کے بعد وہی لائن چلانے لگتے ہیں کہ سب کچھ اندر کا ڈرامہ ہے، یا یہ کہ مذہبی جگہوں پر حملے بھی ریاست کی ناکامی نہیں بلکہ ریاست کی بدنیتی کا ثبوت ہیں۔ یہ باتیں صرف غلط نہیں، ظالمانہ بھی ہیں۔ اگر آپ ایک مسجد یا امام بارگاہ میں عبادت کرنے والوں کے قتل کو بھی سازش کے لطیفوں میں بدل دیں، تو آپ لاشوں پر سیاست کر رہے ہیں۔
ایک وجہ یہ ہے کہ بہت سے یوٹیوبرز اور نام نہاد تجزیہ کار اپنے چینل کی کمائی اور اپنی شناخت اسی شور سے بناتے ہیں۔ انہیں سچائی سے کم، ویوز سے زیادہ غرض ہوتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ نفرت، طعنہ اور الزام تیزی سے پھیلتا ہے۔ اسی لیے وہ ہر واقعے میں فوراً کسی نہ کسی ادارے کو نشانہ بناتے ہیں، اور اصل سوال، حملہ کس نے کیا، کیسے کیا، سہولت کس نے دی، اس پر بات کم کرتے ہیں۔ اس انداز کا نتیجہ سیدھا عوام کے حوصلے پر پڑتا ہے۔ لوگ سوال کرنے کے بجائے ایک دوسرے پر شک کرنے لگتے ہیں۔
یہاں معاملہ صرف اندرونی سیاست کا نہیں رہتا۔ پاکستان نے ماضی میں اقوام متحدہ کو ایسے ڈوزیئر بھی جمع کرائے ہیں جن میں بھارتی مداخلت اور دہشت گردی کی سرپرستی کے الزامات شامل تھے، جبکہ بھارت نے ان الزامات کو رد کیا۔ (Ministry of Foreign Affairs Pakistan) اسی تناظر میں اسلام آباد کے حالیہ حملے کے بعد بھی پاکستان کے وزیر دفاع نے بھارت پر الزام لگایا، اور بھارت نے اسے بے بنیاد کہا۔ (Reuters) آپ چاہیں تو اس الزام سے اتفاق کریں یا نہ کریں، لیکن کم از کم اتنا ایماندار ہونا چاہیے کہ دونوں فریقوں کے مؤقف کو ساتھ رکھ کر دیکھا جائے۔ جو لوگ پہلے ہی فیصلہ لکھ چکے ہوں کہ ہر بات میں پاکستان غلط اور دوسرے درست ہیں، وہ تجزیہ نہیں کر رہے، وہ مہم چلا رہے ہیں۔
اسی طرح افغانستان کے حوالے سے بھی ایک کھینچا تانی چلتی رہتی ہے۔ پاکستان کے حکام نے کہا کہ حملہ آور وہاں سے آیا، افغان حکام نے اسے مسترد کیا۔ (AP News) اس میں شک نہیں کہ سرحد پار موجود نیٹ ورکس، سہولت کاری، اور محفوظ راستے ایک حقیقی سیکیورٹی مسئلہ ہیں، مگر اس پر بات ثبوت کے ساتھ ہونی چاہیے۔ جذباتی نعروں سے باہر والوں کو قائل نہیں کیا جا سکتا، اور اندر والوں کو بھی ایک حد کے بعد صرف ثبوت ہی مطمئن کرتا ہے۔
اوورسیز پراپیگنڈا کرنے والوں کا ایک ہتھیار یہ بھی ہے کہ وہ ہر ثبوت کو پہلے ہی جعلی کہہ دیتے ہیں۔ اگر ریاست کسی گرفتار فرد کا اعتراف دکھائے تو وہ اسے زبردستی کہتے ہیں، اگر کوئی ڈوزیئر دے تو اسے کہانی کہتے ہیں، اگر کوئی عدالت کا حوالہ آئے تو وہ اسے بھی اپنی مرضی کا رنگ دے دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر کلبھوشن جادھو کیس میں دونوں ممالک کے بیانیے الگ ہیں اور اس پر بین الاقوامی عدالت میں بھی قانونی بحث ہوئی، اس لیے اسے سادہ ایک لائن میں سمیٹنا درست نہیں۔ (icj-cij.org) مسئلہ یہ ہے کہ پروپیگنڈا کرنے والے باریکیوں میں نہیں جاتے، کیونکہ باریکیاں سنسنی نہیں بنتیں۔
کچھ لوگ تو اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ وہ کھلے عام دشمن ریاستوں کے بیانیے کو آگے بڑھاتے ہیں، پھر اسے آزادی اظہار کا نام دے دیتے ہیں۔ آزادی اظہار کا مطلب یہ نہیں کہ آپ مسجد میں شہید ہونے والے لوگوں کی موت کو بھی کسی غیر ذمہ دارانہ گیم میں بدل دیں۔ اختلاف رائے اپنی جگہ، حکومت اور اداروں پر تنقید اپنی جگہ، لیکن دہشت گردی کی نفسیات کو سمجھنے کے بعد کم از کم اتنی احتیاط تو لازم ہے کہ آپ قاتل کے مقصد میں مدد نہ کریں۔ قاتل کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ ریاست اور عوام کے درمیان کھائی بڑھے، اور فرقہ وارانہ تناؤ دوبارہ زندہ ہو۔
ریاست کے لیے بھی یہاں ایک سبق ہے۔ صرف یہ کہنا کہ ہمارے پاس ثبوت ہیں، کافی نہیں۔ جہاں ممکن ہو، تحقیقات کی سمت، کیس کی پیش رفت، اور گرفتاریوں کی بنیادی معلومات عوام کے سامنے لانی چاہئیں۔ جب ریاست خاموشی اختیار کرتی ہے تو افواہوں کو جگہ ملتی ہے، اور پھر اوورسیز چینلز اس جگہ کو بھر دیتے ہیں۔ اسلام آباد کے حملے کی ذمہ داری کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آئے، اس لیے شفافیت اور بروقت معلومات کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ (The Times)
میری رائے میں اس وقت سب سے ضروری چیز اخلاقی وضاحت ہے۔ جو لوگ مسجد اور امام بارگاہ پر حملہ کرتے ہیں، وہ کسی مذہب کے خیر خواہ نہیں۔ وہ صرف خون چاہتے ہیں۔ اس پر دینی قیادت کا واضح مؤقف بھی سامنے آیا، کہ عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے والے اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں، اور مجرموں کو سخت سزا ملنی چاہیے۔ (AP News) اسی طرح عوامی سطح پر بھی یہ طے ہونا چاہیے کہ ہم تنقید کریں گے، سوال کریں گے، مگر کسی غیر ملکی ایجنڈے کی زبان نہیں بولیں گے، اور نہ ہی شہداء کے خون پر ویوز کی دکان چلائیں گے۔
آخر میں بات سادہ ہے۔ دشمن گولیاں چلاتا ہے، دہشت گرد دھماکا کرتا ہے، اور کچھ لوگ باہر بیٹھ کر ذہنوں میں دھماکے کرتے ہیں۔ پہلی دو چیزوں سے نمٹنے کے لیے ریاست کی طاقت چاہیے، تیسری چیز سے نمٹنے کے لیے عوام کی سمجھ اور صبر چاہیے۔ اگر ہم ثبوت مانگنے کی عادت رکھیں، سنسنی سے انکار کریں، اور عبادت گاہوں کے شہداء کو سیاسی ہتھیار بنانے والوں کو رد کر دیں، تو ہم اپنے حصے کی لڑائی جیت سکتے ہیں۔
Author
-
ظہیرال خان ایک مضبوط تعلیمی اور پیشہ ورانہ پس منظر کے ساتھ، وہ بین الاقوامی تعلقات میں مہارت رکھتا ہے اور بڑے پیمانے پر سیکورٹی اور اسٹریٹجک امور کے ماہر کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔
View all posts