Nigah

پہچان کے نام پر قتل

[post-views]

یہ خبر، کہ بشیر زیب کا جتھہ بسوں سے لوگوں کو اتار کر شناختی کارڈ چیک کرتا ہے اور پھر قتل کر دیتا ہے، سن کر دل دہل جاتا ہے۔ انسان اپنی روزمرہ زندگی میں کتنی ہی احتیاط کیوں نہ کرے، سڑک پر سفر تو ہماری مجبوری ہے۔ ایسے واقعات کا سب سے بڑا ظلم یہی ہوتا ہے کہ وہ صرف جانیں نہیں لیتے، پورے معاشرے کے اندر خوف، شک، اور نفرت بھی انڈیل دیتے ہیں۔ پھر لاشیں جب پنجاب کے علاقوں میں پہنچتی ہیں تو غم کے ساتھ غصہ بھی اٹھتا ہے، اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں جذباتی بیانیے سچائی کی جگہ لینے لگتے ہیں۔

میں اکثر سوچتا ہوں کہ ہم نے اپنے اندر ہمدردی کو صوبوں کے نقشے کے ساتھ کیوں باندھ دیا ہے۔ جیسے ہی کوئی سانحہ ہوتا ہے، ہم فوراً کسی ایک شناخت کو مجرم اور کسی دوسری شناخت کو مظلوم کی مہر لگا دیتے ہیں۔ پنجاب میں جب کسی خاندان کا جنازہ اٹھتا ہے تو گھر والے یہی کہتے ہیں کہ ہمارے پیاروں کو دہشتگردوں نے مارا، اور بعض اوقات یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ سب بھارت کی ایما پر ہوا۔ یہ جملہ ایک طرف غصے اور بے بسی کی زبان ہے، مگر دوسری طرف یہ حقیقت سے فرار کا آسان راستہ بھی بن جاتا ہے۔ دشمن کا نام لے کر ہم اپنے اندر کے سوالوں سے بچ جاتے ہیں، کہ آخر ہمارے اپنے ملک کے اندر ایسے گروہ کیوں پنپتے ہیں، انہیں سہارا کہاں سے ملتا ہے، اور ریاست اور معاشرہ انہیں روکنے میں کیوں ناکام رہتے ہیں۔

اسی طرح دوسری سمت بھی ایک تلخ سوال کھڑا ہے، کیا آپ نے کبھی یہ سنا ہے کہ پنجاب کے لوگوں نے بلوچستان کا نام لیا ہو۔ بہت سے لوگ بلوچستان کا ذکر صرف تب کرتے ہیں جب وہاں سے کوئی خبر، کوئی دھماکہ، یا کوئی الزام آتا ہے۔ روزمرہ میں بلوچستان کے دکھ، وہاں کے لاپتہ افراد کے سوال، وہاں کی محرومیوں کی بات ہمارے ڈرائنگ رومز میں کم ہی ہوتی ہے۔ یہ خاموشی بھی ایک مسئلہ ہے۔ کیونکہ جب آپ کسی علاقے کے درد کو نظر انداز کرتے ہیں تو وہاں کے غصے کی زبان دوسروں کے لیے سمجھ سے باہر ہو جاتی ہے، اور پھر ہر طرف بس ایک ہی بات رہ جاتی ہے، ہم اور وہ۔ یہی تقسیم دہشتگردی کا ایندھن بنتی ہے۔

لیکن اس ساری تصویر میں ایک بات واضح رہنی چاہیے، شناختی کارڈ دیکھ کر قتل کرنا کسی بھی جواز کے تحت سیاسی عمل نہیں، یہ سیدھی سیدھی سفاکی ہے۔ جو لوگ یہ کرتے ہیں وہ بلوچوں کے نمائندے نہیں، وہ کسی حق کے علمبردار نہیں، وہ انسانیت کے دشمن ہیں۔ اسی طرح کسی پاکستانی کے دکھ کو صرف اس کے صوبے کی بنیاد پر کم یا زیادہ سمجھنا بھی ظلم ہے۔ پنجاب کا مزدور ہو یا بلوچستان کا طالب علم، سندھ کا کسان ہو یا خیبر پختونخوا کا ڈرائیور، موت کے سامنے سب برابر ہیں۔ اگر ہم نے اس برابری کو دل سے مان لیا تو پھر کسی جتھے کے لیے یہ آسان نہیں رہے گا کہ وہ شناخت کے نام پر نفرت بیچے۔

بھارت کی ایما والی بات پر بھی ہمیں سنجیدگی دکھانی چاہیے۔ یہ ممکن ہے کہ بیرونی ہاتھ کہیں موجود ہو، یہ بھی ممکن ہے کہ نہ ہو، مگر دونوں صورتوں میں فیصلہ جذبات نہیں، ثبوت اور تفتیش کریں گے۔ جب ہم ہر سانحے کو صرف بیرونی سازش کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں تو ہم اپنے اداروں سے جواب مانگنا چھوڑ دیتے ہیں۔ ہم یہ نہیں پوچھتے کہ روٹس پر سیکیورٹی کیوں کمزور تھی، انٹیلیجنس کی ناکامی کہاں ہوئی، اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف کب ملے گا۔ سازش کا بیانیہ غم زدہ دل کو کچھ دیر کے لیے سہارا دے دیتا ہے، مگر اصلاح کا راستہ نہیں دکھاتا۔

میڈیا اور سوشل میڈیا نے بھی اس زخم پر نمک چھڑکا ہے۔ ایک طرف سنسنی ہے، دوسری طرف تعصب۔ کسی ایک واقعے کی بنیاد پر پورے صوبے کو کٹہرے میں کھڑا کر دینا، یا ہر بلوچ کو مشکوک کہنا، نہ اخلاقی ہے نہ دانشمندانہ۔ اسی طرح بلوچستان کے حقیقی مسائل کو مکمل طور پر جھٹلانا بھی اتنا ہی خطرناک ہے۔ ہمیں ایک ساتھ دو باتیں کہنے کی ہمت چاہیے، دہشتگردی ناقابل قبول ہے، اور محرومی و ناانصافی کا علاج بھی ضروری ہے۔ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کی دشمن نہیں، اگر ہم انصاف اور ریاستی رٹ دونوں پر یقین رکھتے ہیں۔

آخر میں سوال یہ ہے کہ ہم بطور معاشرہ کیا کریں۔ سب سے پہلے تو ہمیں زبان کو ذمہ دار بنانا ہوگا۔ غصے میں پورے صوبے، پوری قومیت، یا پوری برادری کو مجرم کہنا دہشتگرد کے مقصد کو پورا کرتا ہے۔ دوسرا، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کے سفر کو محفوظ بنائے، اور ایسے گروہوں کے لیے جگہ تنگ کرے، مگر یہ کام صرف بندوق سے نہیں ہوگا، قانون، تفتیش، عدالت، اور شفاف احتساب سے ہوگا۔ تیسرا، ہمیں ایک دوسرے کے دکھ کو سننا ہوگا۔ پنجاب کے گھروں میں جب لاشیں آتی ہیں تو بلوچستان کے لوگوں کو خاموش نہیں رہنا چاہیے، اور بلوچستان کے گھروں میں جب ماؤں کی آنکھیں پتھر ہوتی ہیں تو پنجاب کے لوگوں کو لاتعلق نہیں رہنا چاہیے۔ یہی باہمی درد ہمیں ایک قوم بناتا ہے۔

اگر ہم نے ہر سانحے کے بعد صرف الزام تراشی کی، اور اپنی نفرت کو مزید تیز کیا، تو بسیں چلتی رہیں گی، شناختیں بانٹی جاتی رہیں گی، اور جنازے اٹھتے رہیں گے۔ مگر اگر ہم نے دہشتگردی کو مشترکہ دشمن سمجھا، اور انصاف کو مشترکہ ضرورت، تو پھر کسی جتھے کے لیے یہ ممکن نہیں رہے گا کہ وہ ہماری شناختوں کو ہتھیار بنا لے۔ یہی وقت ہے کہ ہم جذبات کے شور سے نکل کر انسان کی قدر کی بات کریں، اور ہر مقتول کے لیے ایک ہی سوال اٹھائیں، قاتل کون ہے، اور انصاف کب ہوگا۔

Author

  • ڈاکٹر مزمل خان

    مزمل خان سیاست اور بین الاقوامی معاشیات میں گہری دلچسپی کے ساتھ، ان کا تعلیمی کام اس بات کی کھوج کرتا ہے کہ کس طرح بنیادی ڈھانچہ اور جغرافیائی سیاسی حرکیات تجارتی راستوں اور علاقائی تعاون کو متاثر کرتی ہیں، خاص طور پر جنوبی اور وسطی ایشیا میں۔ موزممل شواہد پر مبنی تحقیق کے ذریعے پالیسی مکالمے اور پائیدار ترقی میں حصہ ڈالنے کے لیے پرجوش ہے اور اس کا مقصد تعلیمی انکوائری اور عملی پالیسی سازی کے درمیان فرق کو ختم کرنا ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔