امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی جانب سے افغانستان کو خصوصی تشویش کا حامل ملک قرار دینے کی سفارش محض ایک سفارتی جملہ نہیں، یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ وہاں مذہبی آزادی کی پامالی ایک حادثہ نہیں بلکہ نظامِ حکومت کا حصہ بن چکی ہے۔ جب کسی ریاست میں عقیدے، عبادت، شناخت اور اختلاف کو جرم بنا دیا جائے تو پھر بحث یہ نہیں رہتی کہ کون سا مسلک غالب ہے، بحث یہ بن جاتی ہے کہ انسان ہونے کے بنیادی حق کہاں گئے۔ افغانستان میں طالبان کی حکمرانی کے تحت جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اسی بنیادی حق پر حملہ ہے، جسے مذہب کے نام پر جائز ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
طالبان نے اپنے اقتدار کو دینداری کے لبادے میں لپیٹ کر پیش کیا، مگر کمیشن کی رپورٹیں یہ تصویر دکھاتی ہیں کہ یہ دینداری دراصل اختیار کی سیاست ہے۔ مذہب کو اخلاقی تربیت اور روحانی بالیدگی کے بجائے نگرانی، سزا اور اطاعت کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ریاست شہری کی نجی زندگی میں جھانکتی ہے، لباس اور گفتگو سے لے کر میل جول اور روزمرہ رویّوں تک سب کچھ ناپتی ہے، اور پھر خود کو شریعت کا محافظ کہہ کر ہر اعتراض کو بغاوت کے خانے میں ڈال دیتی ہے۔ یہ طرزِ عمل عبادت کی حفاظت نہیں، یہ سماج کی باگ ڈور پر مکمل قبضے کی کوشش ہے۔
طالبان کی حکمرانی کے مرکز میں شریعت کی ایک ایسی تعبیر رکھی گئی ہے جو وسعت، رحمت اور عدل کے بجائے تنگ نظری اور سزا پر کھڑی ہے۔ اس تعبیر کے نتیجے میں مذہبی اقلیتیں ہی نہیں، خود مسلمان بھی نشانے پر ہیں، خصوصاً وہ مسلمان جو فقہی یا فکری طور پر طالبان کے یک رنگ تصور سے اختلاف رکھتے ہیں۔ طالبان کا زور اس بات پر نہیں کہ لوگ بہتر انسان کیسے بنیں، زور اس بات پر ہے کہ ریاست کے مقرر کردہ سانچے میں کیسے ڈھلیں۔ جس معاشرے میں اختلافِ رائے کو گناہ بنا دیا جائے، وہاں انصاف کا دروازہ خود بخود بند ہونے لگتا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ طالبان کے نئے قانونی ڈھانچے میں فقہِ حنفی کے علاوہ کسی اور تعبیر کی پیروی کرنے والوں کی مسلم حیثیت ہی متنازع بنائی جاتی ہے، اور یہی نکتہ اس مسئلے کی جڑ ہے۔ جب ریاست کسی ایک فقہی شناخت کو شہریت اور عزت کا معیار بنا دے تو پھر دین کا عالمگیر پیغام ایک قانونی درجہ بندی میں بدل جاتا ہے، اور انسان برابر ہونے کے بجائے درجوں میں بٹ جاتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں مذہب ایک اخلاقی ضابطے کے بجائے طاقت کا آلہ بن جاتا ہے۔ اس کے بعد سزا، تذلیل اور خوف محض نتائج نہیں رہتے، یہ حکمرانی کا طریقہ بن جاتے ہیں۔
سزا کا یہ نظام صرف عدالتوں کی فائلوں میں نہیں، عوامی زندگی کے بیچوں بیچ دکھائی دیتا ہے۔ جب سرِ عام پھانسی، کوڑے، سنگساری یا اجتماعی تذلیل کو نمائش بنا کر پیش کیا جائے تو مقصد صرف ایک فرد کو سزا دینا نہیں ہوتا، مقصد پورے معاشرے کو پیغام دینا ہوتا ہے کہ ریاست کے سامنے کوئی نجی حد موجود نہیں۔ ایسے ماحول میں قانون کی بالادستی نہیں بنتی، قانون کا خوف بنتا ہے۔ اور خوف جب قانون کی جگہ لے لے تو پھر انصاف کا مفہوم بھی بدل جاتا ہے، حق مانگنا جرم لگنے لگتا ہے۔
مذہبی اقلیتوں کے لیے یہ صورت حال مزید سخت ہے۔ شیعہ، احمدیہ، ہندو، سکھ اور مسیحی برادریاں ایسی فضا میں زندہ رہتی ہیں جہاں ان کی عبادت، شناخت اور اجتماعیت کو مشکوک سمجھا جاتا ہے۔ غیر اسلامی مذہبی سرگرمیوں کی ممانعت اور نام نہاد غیر مومنوں سے تعلقات پر قدغنیں ایک ایسا جال بن جاتی ہیں جس میں معمول کی زندگی بھی جرم بن سکتی ہے۔ دباؤ کبھی کھلا ہوتا ہے، کبھی خاموش، مگر نتیجہ ایک ہی ہوتا ہے، خوف، بے دخلی، جبری خاموشی، اور بعض صورتوں میں عقیدے کی تبدیلی پر مجبور کرنا۔
سب سے گہرا زخم عورتوں اور لڑکیوں کے حصے میں آیا ہے۔ طالبان کے احکامات نے خواتین کی آواز، تعلیم، سفر اور کام کے حق کو بتدریج سمیٹ کر ایک تنگ دائرے میں بند کرنے کی کوشش کی ہے۔ بارہ برس سے بڑی لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کو مذہبی حکم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، اور مرد سرپرستوں کو نگرانی اور پابندی کے نفاذ کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ مگر اسلام کی تعلیمات میں علم کا دروازہ بند کرنا کوئی فضیلت نہیں، اور عورت کی تعلیم اور باوقار شرکت کو گناہ ثابت کرنا دراصل اپنی تنگ سوچ کو دین کے نام پر مسلط کرنا ہے۔ یہ عورت کی شخصیت کو مٹانے کی مہم ہے، نہ کہ مذہبی اصلاح۔
یہی ذہنیت تعلیمی اداروں اور مدرسوں کی سمت کو بھی بدل رہی ہے۔ جب تعلیم کو سوال کرنے، سمجھنے اور اخلاقی شعور بیدار کرنے کے بجائے ایک ریاستی بیانیے کی بھرتی گاہ بنا دیا جائے تو پھر نئی نسل آزادی کو خطرہ سمجھنے لگتی ہے۔ نام نہاد اخلاقی قوانین کے ذریعے گفتگو، اجتماع، بازار، سفر اور عوامی آداب تک پر پہرے بٹھا دیے جائیں تو سماج سانس تو لیتا ہے مگر جیتا نہیں۔ لوگ عمل سے پہلے قانون نہیں، سزا کا تصور سوچتے ہیں، اور یہی وہ ماحول ہے جہاں جبر خود کو دین کہہ کر پیش کرنے لگتا ہے۔
افغانستان کو خصوصی تشویش کا حامل ملک قرار دینے کی سفارش دراصل عالمی سطح پر اس اعتراف کی علامت ہے کہ وہاں مذہبی آزادی منظم طریقے سے کچلی جا رہی ہے، اور ایمان کو ایک سیاسی ہتھیار بنا کر انسانوں کی زندگیوں پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ اس نامزدگی کی معنویت یہی ہے کہ دنیا کو معاملہ مبہم نہیں رکھنا چاہیے۔ یہ بحث کہ یہ اندرونی معاملہ ہے یا ثقافتی فرق، اس حقیقت کے سامنے بے معنی ہو جاتی ہے کہ بنیادی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔ مذہب کے نام پر برتری، تذلیل اور تشدد کو معمول بنانا کسی بھی معاشرے کو امن نہیں دے سکتا۔
آخر میں سوال صرف افغانستان کا نہیں، اصول کا ہے۔ اگر کسی نظام میں عقیدے کی آزادی، اختلاف کی گنجائش، اور انصاف کی ضمانت نہ ہو تو وہ دین کے نام پر بھی آئے، نتیجہ ظلم ہی ہوتا ہے۔ طالبان کا ماڈل یہی بتاتا ہے کہ جب مذہب کو رحمت کے بجائے سزا کے تختے پر کھڑا کیا جائے تو سماج میں اخلاق نہیں بڑھتا، خوف بڑھتا ہے۔ اور خوف کے سائے میں نہ عبادت آزاد رہتی ہے، نہ انسان۔ دنیا اگر واقعی مذہبی آزادی اور انسانی وقار کو اہم سمجھتی ہے تو اسے صرف الفاظ نہیں، واضح موقف اور عملی دباؤ کے ساتھ اس جبر کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔
Author
-
ڈاکٹر حمزہ خان نے پی ایچ ڈی کی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں، اور یورپ سے متعلق عصری مسائل پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور لندن، برطانیہ میں مقیم ہے۔
View all posts