Nigah

الزام تراشی کا انجام

[post-views]

 

پاکستانی سیاست میں ایک مسئلہ بار بار سامنے آتا ہے، الزام تراشی کا چلن۔ جب کسی رہنما کا لہجہ تیز ہو اور الفاظ سخت ہوں تو کچھ لوگ اسے جرات سمجھتے ہیں، کچھ اسے غصہ اور مایوسی۔ مگر اصل سوال یہ نہیں کہ آواز کتنی بلند ہے، اصل سوال یہ ہے کہ بات میں ثبوت کتنا ہے۔ ریاستی ادارے ہوں یا سیاسی مخالفین، کسی پر بھی الزام لگانا آسان ہے، مگر اس الزام کو ثابت کرنا مشکل۔ اور جمہوریت میں مشکل کام ہی اصل ذمہ داری ہے۔

جاوید ہاشمی ایک تجربہ کار سیاست دان رہے ہیں۔ ان کی زبان میں تلخی اور ان کے بیانات میں سختی کبھی کبھار خبروں کی سرخی بن جاتی ہے۔ لیکن سیاست میں مقام زبان کی تیزی سے نہیں، دلیل کی مضبوطی سے بنتا ہے۔ اگر کسی بات کے ساتھ دستاویز، واضح حقائق، یا کم از کم قابل تصدیق تفصیل نہ ہو تو وہ بات محض دعویٰ رہ جاتی ہے۔ دعویٰ خبر نہیں ہوتا، اور دعویٰ انصاف بھی نہیں ہوتا۔ جو بات ثبوت کے بغیر کہی جائے، وہ سننے والے کے دل میں شکوک تو پیدا کر سکتی ہے، یقین نہیں۔

ہمارے ہاں مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم اکثر جذبات کو دلیل سمجھ لیتے ہیں۔ کوئی رہنما اگر ماضی کی محرومیوں کا ذکر کرے، اپنی ناقدری کی بات کرے، یا یہ کہے کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی، تو سامع فوراً ایک کہانی بنا لیتا ہے۔ مگر ذاتی دکھ، ذاتی رنج، یا ذاتی شکایت عدالت میں دلیل نہیں بنتی۔ یہی اصول سیاست میں بھی ہونا چاہیے۔ ذاتی ناراضی ثبوت نہیں، اور اندر کی بھڑاس عوامی سچ نہیں۔ اگر واقعی کوئی غلطی ہوئی ہے تو اس کی تفصیل بھی سامنے آئے، تاریخ بھی، گواہی بھی، اور طریقہ بھی۔

اسی لئے جب بھی کوئی سیاست دان ریاستی اداروں یا افراد پر سنگین بات کرے تو اسے دو راستوں میں سے ایک اختیار کرنا چاہیے۔ یا تو بات مکمل کرے، ثبوت دے، قانونی راستہ لے، یا پھر اس موضوع پر خاموشی اختیار کرے۔ درمیان والی راہ سب سے خراب ہے، یعنی اشارے بھی دینا، الزام بھی لگانا، مگر ذمہ داری سے بچ نکلنا۔ یہ انداز سیاست کو بھی گندا کرتا ہے اور عوام کو بھی الجھاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اصل مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں، مہنگائی، تعلیم، صحت، روزگار، اور انصاف جیسے سوال دب جاتے ہیں، اور ساری بحث کسی ایک بیان کے گرد گھومتی رہتی ہے۔

اداروں پر اعتماد کسی بھی ملک کے لئے بنیادی چیز ہے۔ اس اعتماد کا مطلب یہ نہیں کہ ادارے غلطی نہیں کر سکتے۔ غلطی ہو سکتی ہے، اور اس پر بات بھی ہونی چاہیے۔ مگر طریقہ درست ہونا چاہیے۔ اگر ہر الزام کے ساتھ شواہد نہ ہوں تو عوام کے دل میں اداروں کے بارے میں بدگمانی پھیلتی ہے، اور پھر وہ بدگمانی کسی ایک ادارے تک نہیں رکتی، پورے نظام کو کھا جاتی ہے۔ جب نظام کمزور ہوتا ہے تو طاقتور مزید طاقتور ہو جاتے ہیں، اور کمزور مزید کمزور۔ اس نقصان کا بوجھ عام آدمی اٹھاتا ہے، سیاست دان نہیں۔

جاوید ہاشمی یا کوئی بھی دوسری سیاسی آواز، اگر آج خود کو سنا ہوا محسوس نہیں کرتی تو یہ بھی ممکن ہے کہ وقت بدل گیا ہو۔ سیاست میں عروج اور زوال دونوں آتے ہیں۔ کچھ لوگ نئی نسل کی زبان سمجھ لیتے ہیں، کچھ پرانے انداز میں بات کرتے رہتے ہیں۔ مگر اپنی جگہ واپس لینے کا طریقہ یہ نہیں کہ ہر طرف الزام پھینکا جائے۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ لوگ اپنا کیس دلیل کے ساتھ رکھیں، اپنی بات کو حقائق کے ساتھ جوڑیں، اور اپنی ساکھ کو خود مضبوط کریں۔ کیونکہ ساکھ ہی سیاست کی کرنسی ہے۔ جب ساکھ کمزور ہو جائے تو سب سے اونچی تقریر بھی دیرپا اثر نہیں چھوڑتی۔

ایسے موقع پر سیاست دان کے لئے ایک سمجھدار قدم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ وقت خاموشی اختیار کرے، خود احتسابی کرے، اور اپنی بات کو ترتیب دے۔ سیاست میں وقفہ کمزوری نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی وقفہ ہی انسان کو وہ فاصلہ دیتا ہے جس سے وہ اپنی بات صاف دیکھ سکتا ہے۔ ہر مایوسی کو میڈیا پر نکالنا ضروری نہیں۔ ہر شکایت کو قومی مسئلہ بنا دینا بھی درست نہیں۔ اگر واقعی کوئی بڑی بات ہے تو اسے سنجیدہ راستے سے اٹھایا جائے، ورنہ خاموش رہنا بہتر ہے۔

آخر میں بات سیدھی ہے، شور حق نہیں بناتا، اور غصہ ثبوت نہیں بنتا۔ جو بیانیہ صرف ذاتی رنج پر کھڑا ہو، وہ دیر تک نہیں چلتا۔ وقت کے ساتھ وہ اپنی ہی کمزوری دکھا دیتا ہے، کیونکہ حقائق کے بغیر کہانی خود ٹوٹ جاتی ہے۔ اس لئے ہماری سیاست کو الزام سے نہیں، دلیل سے آگے بڑھنا چاہیے۔ اور جو بھی رہنما عوام سے بات کرے، اسے یاد رکھنا چاہیے کہ عوام کو جذبات نہیں، سچ چاہیے۔ سچ کی شرط ثبوت ہے، اور ثبوت کے بغیر ہر بات صرف ایک دعویٰ رہتی ہے۔

 

Author

  • مصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے  پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔