خیبرپختونخوا کی سرزمین ہمیشہ سے پاکستان کی سب سے زیادہ آزمائش زدہ سرزمین رہی ہے۔ یہ وہ صوبہ ہے جس کے لوگوں نے دہشت گردی کا سب سے زیادہ خمیازہ بھگتا، جس کی مائوں نے اپنے بیٹوں کو شہید ہوتے دیکھا، جس کے پولیس اہلکاروں نے سینہ سپر ہو کر جانیں قربان کیں۔ آج جب صدر پاکستان نے وفاقی کابینہ کی سفارش پر آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تو اس فیصلے پر سوات، شانگلہ، بٹ خیلہ، کوہاٹ اور چترال کے عام شہریوں نے جو ردِ عمل ظاہر کیا، وہ کسی سیاسی پروپیگنڈے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک تھکے ہوئے اور ستائے ہوئے عوام کی سچی آواز ہے۔
وہ لوگ جو روزانہ دھماکوں کی آوازیں سنتے ہیں، جو اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے سے ڈرتے ہیں، جو اپنی دکانیں بند کر کے گھروں میں قید ہونے پر مجبور ہیں، انہوں نے کھل کر اس اقدام کو سراہا۔ ان کی باتوں میں شکایت نہیں، راحت کا احساس تھا۔ یہ احساس کئی برسوں کی تکلیف سے جنم لیا ہے اور اسے سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اس صوبے کی سلامتی کی صورتحال کو سمجھا جائے۔
وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کے مطابق گزشتہ ڈھائی سالوں میں خیبرپختونخوا میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کے واقعات میں 196 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ کوئی معمولی ہندسہ نہیں، یہ سیکڑوں قیمتی جانوں کی داستان ہے۔ صوبے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی شہادتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا اور وفاقی کابینہ نے یہ اقدام اس لیے تجویز کیا کیونکہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جان بوجھ کر دور رہی۔
ان حالات میں جب ایک صوبائی حکومت سے یہ سوال پوچھا جائے کہ آپ کے دور میں یہ ہوا تو اس کا جواب احتجاج، لانگ مارچ اور وفاق پر چڑھائی کی صورت میں سامنے آئے، تو عوام میں مایوسی پیدا ہونا فطری ہے۔ سوات کے ایک شہری نے بالکل درست سوال اٹھایا کہ ایک صوبے کا سربراہ ہر وقت مرکز پر تنقید کرتا رہے اور اپنے صوبے کے شہیدوں کے جنازوں میں شرکت نہ کرے، تو یہ کس قسم کی قیادت ہے؟
قیادت اپنے عوام کے درد میں شریک ہونے کا نام ہے، محاذ آرائی کا نہیں۔
گورنر خیبرپختونخوا نے خود کہا کہ "خیبرپختونخوا نے کافی قربانیاں دی ہیں اور ہر ادارے کو مل کر اپنے عوام کی حفاظت اور دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے کام کرنا ہوگا۔” یہ الفاظ ایک ایسے شخص کے ہیں جو صوبے کے آئینی سربراہ کی حیثیت سے حالات کا قریب سے مشاہدہ کر رہا تھا۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے واضح کیا کہ مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری مکمل طور پر صوبائی وزیراعلیٰ پر عائد ہوتی ہے۔
خوارج اور دہشت گرد کوئی ایک صوبے کا مسئلہ نہیں، یہ پورے پاکستان کا مشترکہ درد ہے۔ لیکن جب ایک صوبائی حکومت اس مشترکہ لڑائی سے خود کو الگ کر لے، جب وہ وفاق کے ساتھ ہم آہنگی بنانے کے بجائے تصادم کا راستہ اختیار کرے، تو پھر وفاق کو آئین کے دیے ہوئے اختیارات استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے اجتماعی اور متحد رویے کی ضرورت ہے اور تمام صوبوں اور وفاق کو مل کر اس خطرے کا مقابلہ کرنا ہے۔
جو لوگ اس اقدام کو سیاسی انتقام کہتے ہیں، ان سے ایک سوال پوچھنا ضروری ہے: کیا ان 196 فیصد زیادہ دہشت گردی کے واقعات سیاسی انتقام ہیں؟ کیا شہید پولیس اہلکاروں کی لاشیں سیاسی بیانیہ ہیں؟ عوام کا درد حقیقی ہے اور عوام کی راحت کو سیاسی چشمے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔
گورنر خیبرپختونخوا نے اعلان کیا کہ دہشت گردی کے خلاف پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد کار بڑھائی جائے گی اور صوبے میں تعلیم، صحت اور انصاف سمیت دیگر شعبوں میں شفافیت لائی جائے گی۔ یہ وہ بنیادی ضروریات ہیں جن کے لیے خیبرپختونخوا کے عوام برسوں سے ترس رہے ہیں۔ ان وعدوں کو عملی جامہ پہنانا اب وفاق کی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کو پورا کر کے ہی اس اقدام کا جواز ثابت ہوگا۔
عوام کو سیاست نہیں چاہیے، انہیں امن چاہیے۔
انہیں لانگ مارچ نہیں چاہیے، انہیں اپنے بچوں کا محفوظ مستقبل چاہیے۔ سوات کے شہری کی وہ آواز جو کہتی ہے کہ "تیرہ سالہ انتشار کا دور اختتام کو پہنچا” وہ کسی پارٹی کی آواز نہیں، وہ اس زمین کی آواز ہے جو تھک چکی ہے اور صرف سکون مانگتی ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ریاست اپنا کردار ادا کرے، خوارج اور دہشت گردوں کے خلاف بھرپور آپریشن ہو، شہریوں کو تحفظ ملے اور وہ صبح جب اٹھیں تو دھماکوں کی نہیں، پرندوں کی آواز سنیں۔ یہی اصل تبدیلی ہوگی اور یہی اس اقدام کی حقیقی کامیابی کا معیار ہے۔