پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف ایک ایسی جنگ لڑ رہا ہے جو نہ صرف اس کی سرحدوں کے اندر بلکہ پوری دنیا کے امن و استحکام کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ اکتوبر ۲۰۲۶ء میں اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل میں منعقد ہونے والے "پاکستان کے ارتقا پذیر انسدادِ دہشت گردی منظرنامے” سے متعلق یک روزہ بین الاقوامی سیمینار نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان نہ تھکا ہے اور نہ ہی جھکا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اس موقع پر جو اعداد و شمار پیش کیے، وہ دل دہلا دینے والے ہیں۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف اپنی اس طویل لڑائی میں ۹۰ ہزار سے زائد قیمتی جانیں گنوائی ہیں اور ۱۰۰ ارب ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان اٹھایا ہے۔
یہ قربانیاں محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ہر عدد کے پیچھے ایک گھر کی تباہی، ایک ماں کے آنسو اور ایک قوم کا درد پوشیدہ ہے۔
سال ۲۰۲۶ء میں دہشت گردی کے واقعات کی تعداد اور شدت دونوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کے عالمی دہشت گردی اشاریے میں پاکستان پہلے نمبر پر آ گیا ہے، جو دنیا کے سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثرہ ملک کا درجہ ہے۔ یہ صورت حال نہ صرف المناک ہے بلکہ بین الاقوامی برادری کے لیے ایک چیلنج بھی ہے کہ وہ پاکستان کی حمایت کریں۔
سال ۲۰۲۶ء کے پہلے چھ ماہ میں دہشت گردی اور انسدادِ دہشت گردی کے واقعات میں ۲۱۶۶ افراد لقمہ اجل بنے، جن میں ۴۰۴ عام شہری اور ۳۰۷ سکیورٹی اہل کار شامل ہیں۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی سرزمین پر جو خون بہا ہے، اس کی داستان آنے والی نسلیں بھی نہیں بھول سکیں گی۔
اسلام آباد سیمینار کا سب سے اہم پیغام یہ تھا کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی۔ پاکستانی فوج کے مطابق افغان طالبان مسلسل ناکام ہو رہے ہیں کہ وہ اپنی زمین کو خوارج (ٹی ٹی پی) کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں اور نہ ہی سرحدی انتظام کو مؤثر بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ دوحہ معاہدے کے تحت جو وعدے کیے گئے تھے، ان پر عمل درآمد نہ ہونا نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
افغان طالبان نے پاکستان کی درخواستوں کے باوجود ٹی ٹی پی دہشت گردوں کی سرحد پار سرگرمیوں کو روکنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہزاروں خوارج افغان سرزمین سے پاکستان میں خون اور آگ کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ پاکستانی افواج نے ستمبر ۲۰۲۶ء میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کے خلاف سرحدی علاقوں میں کامیاب آپریشن کیے اور دہشت گردوں کے متعدد مراکز تباہ کیے۔
سیمینار میں ماہرین نے یہ واضح کیا کہ صرف فوجی آپریشنز سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ موثر حکمرانی، قانون کی بالادستی، سیاسی شمولیت اور عوامی اعتماد کے بغیر دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کا تدارک نہیں ہو سکتا۔ خوارج اور دہشت گرد تنظیمیں انہی خلاء کو اپنی بھرتی کا ذریعہ بناتی ہیں جہاں بے روزگاری، محرومی اور ریاست کی عدم موجودگی ہوتی ہے۔
ڈیجیٹل دور نے دہشت گردی کے طریقوں کو بھی بدل دیا ہے۔ سیمینار میں یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ خوارج اور دہشت گرد گروہ اب جدید ہتھیاروں، انکرپٹڈ مواصلاتی نظاموں اور سوشل میڈیا کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کو انٹیلی جنس صلاحیتوں کو جدید بنانا، جوابی بیانیے کو مضبوط کرنا اور بین الاقوامی سائبر تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔
پاکستان نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ وہ جنگ و جدل کے ساتھ ساتھ سفارتکاری کا بھی ہنر جانتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی اس کی واضح مثال ہے۔ چار دہائیوں تک ۴۰ لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کرنا بھی پاکستان کی انسانی اور اخلاقی عظمت کا ثبوت ہے۔ لیکن اس مہمان نوازی کا صلہ سرحد پار سے آنے والی بارود اور خون کی صورت میں ملنا کسی بھی مہذب قوم کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ طالبان حکومت ٹی ٹی پی کو محفوظ پناہ گاہیں، تحریک کی آزادی، ہتھیاروں کے اجازت نامے اور لاجسٹک مدد فراہم کر رہی ہے۔ یہ بین الاقوامی تصدیق پاکستان کے موقف کو مزید مضبوط کرتی ہے۔
آخر میں، اسلام آباد سیمینار کا یہ پیغام لمحہ فکریہ ہے کہ دہشت گردی صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ دشمن ہے۔ جب پاکستان کا کوئی سپاہی اپنی جان دیتا ہے تو درحقیقت وہ پوری دنیا کو محفوظ بناتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بین الاقوامی برادری محض بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ سفارتی دباؤ، انٹیلی جنس تعاون اور ٹھوس اقدامات کے ذریعے پاکستان کے ساتھ کھڑی ہو۔ عزمِ استحکام کا پرچم سرنگوں نہیں ہوگا، پاکستان زندہ باد!