Nigah

عوام نے سڑکوں کی سیاست کو مسترد کر دیا

عوام کا فیصلہ: سڑکوں کی سیاست مسترد
[post-views]

 

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہو چکا ہے، ایک ایسا باب جو عوامی شعور اور سیاسی بیداری کی داستان بیان کرتا ہے۔ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبے میں ایک نئی سیاسی حقیقت سامنے آئی ہے، اور اس حقیقت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ عوام اس بار سڑکوں پر نہیں نکلے۔

یہ محض خاموشی نہیں، یہ ایک واضح، باشعور اور پُرامن انکار ہے۔

دھرنوں کی سیاست اور جمہوریت کی غلط تشریح

گزشتہ تیرہ برسوں کے دوران ایک سیاسی جماعت نے عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ جمہوریت کا اصل اظہار پارلیمنٹ میں نہیں، بلکہ سڑکوں پر ہوتا ہے۔ دھرنا، لانگ مارچ، پہیہ جام، یہ الفاظ سیاسی جدوجہد کے نہیں بلکہ روزمرہ کی زندگی کو مفلوج کرنے کے آلات بن گئے۔ ملکی املاک کو نقصان پہنچایا گیا، عام شہریوں کی زندگیاں درہم برہم ہوئیں اور غریب آدمی کا چولہا ٹھنڈا ہوتا رہا، لیکن یہ سب "تبدیلی” کے نام پر ہوتا رہا۔

اس بار بھی PTI نے اکتوبر 4 کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا، تاہم حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ناکام ہوئے اور مارچ شروع کر دیا گیا۔ اس مارچ پر سوالات اٹھے کہ سرکاری وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں، عدالتی احکامات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے اور اس کے باوجود کہ خیبرپختونخوا ایک سنگین سیکیورٹی بحران کا شکار ہے، قیادت سیاسی سرگرمیوں میں مصروف رہی۔

یہی وہ لمحہ تھا جب عوام نے سوچا، کیا ہم ایک بار پھر وہی راستہ اپنائیں؟

کے پی میں دہشت گردی: ایک تلخ حقیقت

سرکاری دستاویزات کے مطابق جنوری سے ستمبر 2026 کے دوران خیبرپختونخوا میں دہشت گردانہ حملوں کی تعداد 680 تک پہنچ گئی۔ اطلاعات کے مطابق 2026 میں کے پی میں 2456 دہشت گرد حملے ہو چکے تھے، یعنی روزانہ اوسطاً دس واقعات۔ اس صورتحال میں صوبائی حکومت کا کردار ایک بڑا سوالیہ نشان بن گیا۔

وفاقی کابینہ کی ہنگامی نشست کے بعد وزیراعظم دفتر نے PTI قیادت پر "دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جان بوجھ کر لاپروائی” کا الزام لگایا اور صوبے میں دہشت گردی کی تیزی سے خراب ہوتی صورتحال کو ایمرجنسی کی وجہ قرار دیا۔ کے پی گورنر فیصل کریم کنڈی نے خود کہا کہ صوبے کو امن کی ضرورت ہے اور قانون و امن کی صورتحال بگڑتی جا رہی ہے۔

جب ایک صوبائی حکومت اپنے ہی صوبے کی حفاظت کرنے میں ناکام ہو جائے اور اس ناکامی کے باوجود سیاسی مارچوں میں مصروف رہے، تو عوام کے دل میں سوال اٹھتا ہے، آخر ہماری ترجیح کیا ہے؟

گورنر راج: آئینی ضرورت یا سیاسی قدم؟

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور صوبے کی بگڑتی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر مرکز نے گورنر راج اور ایمرجنسی پر غور شروع کیا۔ قانون وزیر نے واضح کہا کہ "اگر ایسے حالات پیدا ہو جائیں، یا پہلے سے موجود ہوں، جن میں آئین گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے کی اجازت دیتا ہو، تو یہ کیا جا سکتا ہے” اور تمام قانونی تقاضے پورے ہونے کا یقین دلایا۔

البتہ پشاور ہائی کورٹ میں اس اقدام کو غیر آئینی قرار دینے کے لیے ایک درخواست بھی دائر کی گئی۔ یہ جمہوری نظام کی خوبی ہے، ہر فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے اور کیا جانا چاہیے۔ یہ عمل خود اس بات کی دلیل ہے کہ ادارے موجود ہیں اور کام کر رہے ہیں۔

عوامی شعور: وقت کا سب سے بڑا انتخاب

اس بار کچھ مختلف ہوا۔ لانگ مارچ کی کال دی گئی، لیکن عوام گھروں سے نہیں نکلے۔ یہ نہ خوف تھا، نہ مجبوری، یہ شعور تھا۔ تیرہ سال کی کارکردگی نے عوام کو وہ آئینہ دکھا دیا جو سیاسی بیان بازی چھپا رہی تھی۔

عوام نے دیکھا کہ ان کے صوبے میں فتنہ الخوارج اور دہشت گرد روزانہ خون بہا رہے ہیں، کے پی کے وسائل کسی کی ذاتی جاگیر کی طرح استعمال ہو رہے ہیں، اور قیادت وہاں کھڑی ہے جہاں سے ووٹ ملتا ہے، نہ جہاں سے انصاف۔

باشعور عوام نے سمجھ لیا کہ سڑک بند کر کے طاقت نہیں آتی، طاقت آتی ہے اداروں پر اعتماد سے، قانون کی پاسداری سے اور حقیقی کارکردگی سے۔

آگے کیا؟

پاکستان کی سیاست ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ عوامی مسترد ہونا ایک سبق ہے، ہر اس جماعت کے لیے جو سمجھتی ہے کہ نعرے، دھرنے اور مارچ ہی اصل سیاست ہیں۔ اصل جمہوریت پارلیمنٹ میں بات کرنے، قانون کی حدود میں رہنے اور عوام کی زندگیاں بہتر بنانے میں ہے۔

ریاست کا فیصلہ آئین کے دائرے میں ہے۔ اور اگر عوام نے اسے خاموشی سے قبول کیا، تو یہ خاموشی ایک پیغام ہے:

ہم سمجھ گئے۔

Author

  • مصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے  پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔