بھارت کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے خصوصی نامہ نگاروں کے سوالات پر مسلسل خاموشی اب محض ایک سفارتی تاخیر نہیں رہی، بلکہ ایک گہرا سیاسی اور نظریاتی اشارہ بن چکی ہے۔ جب کسی ریاست کے سامنے بین الاقوامی سطح پر سنجیدہ سوالات رکھے جائیں، اسے جواب دینے کے لیے واضح مدت دی جائے، اور پھر وہ ریاست نہ جواب دے، نہ وضاحت کرے، نہ ہی کھلے طور پر اپنی قانونی پوزیشن پیش کرے، تو ایسی خاموشی خود ایک بیان بن جاتی ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارت کا طرزِعمل اسی نوعیت کا ہے۔ یہ رویہ اس تاثر کو مضبوط کرتا ہے کہ نئی دہلی کے نزدیک بین الاقوامی قانون، معاہداتی ذمہ داریاں، اور جواب دہی کے اصول اس وقت تک قابلِ قبول ہیں جب تک وہ اس کی داخلی سیاسی ضرورتوں سے متصادم نہ ہوں۔ جیسے ہی کوئی بین الاقوامی سوال اس کی پالیسی، ترجیحات یا نظریاتی بیانیے کو چیلنج کرتا ہے، وہاں خاموشی، ٹال مٹول، اور انکار کی سیاست شروع ہو جاتی ہے۔
یہ معاملہ اس لیے زیادہ سنگین ہے کہ سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں محض پانی کی تقسیم کا ایک انتظامی بندوبست نہیں، بلکہ امن، استحکام اور بقا کا ایک بنیادی ستون ہے۔ اس معاہدے نے عشروں تک دونوں ممالک کے درمیان شدید کشیدگی، جنگوں اور سیاسی تلخی کے باوجود ایک قابلِ عمل فریم ورک مہیا کیا۔ ایسے معاہدے کے بارے میں اگر اقوامِ متحدہ کے ماہرین سوال اٹھاتے ہیں، تو کسی بھی ذمہ دار ریاست کے لیے یہ لازم ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی پوزیشن فوری، واضح اور مدلل انداز میں پیش کرے۔ مگر بھارت نے اس راستے کے بجائے خاموشی کا انتخاب کیا۔ یہی خاموشی اصل تشویش ہے، کیونکہ یہ صرف ایک جواب نہ دینے کا معاملہ نہیں، بلکہ اس سوچ کا اظہار ہے جس میں قانون کو ایک اصولی بندھن نہیں بلکہ سیاسی سہولت کے تابع چیز سمجھا جاتا ہے۔
بھارت کی یہ خاموشی ایک بڑے نظریاتی پس منظر میں سمجھی جانی چاہیے۔ گزشتہ چند برسوں میں وہاں جو سیاسی مزاج غالب ہوا ہے، وہ تحمل، مکالمے اور معاہداتی سنجیدگی سے زیادہ طاقت کے اظہار، داخلی جوشیلے نعروں اور جارحانہ قوم پرستی پر قائم ہے۔ آر ایس ایس سے متاثر ہندوتوا سیاست نے ریاستی طرزِفکر کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں بین الاقوامی تنقید کو دشمنی، قانونی سوالات کو مداخلت، اور معاہداتی پابندیوں کو کمزوری سمجھا جانے لگا ہے۔ ایسی فضا میں جواب دینا، وضاحت کرنا، یا کسی عالمی ادارے کے سامنے قانونی مؤقف رکھنا داخلی سیاست کے لیے پرکشش عمل نہیں رہتا۔ اس کے برعکس خاموشی کو سختی، ضد کو استقلال، اور عدم تعاون کو خود مختاری کا نام دے دیا جاتا ہے۔ یہی وہ خطرناک ذہنیت ہے جو بھارت کے موجودہ رویے میں جھلکتی ہے۔
اس طرزِعمل کے اثرات صرف دو ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات تک محدود نہیں رہتے۔ پانی زندگی کا بنیادی وسیلہ ہے، اور سندھ طاس معاہدہ کروڑوں انسانوں کی زراعت، خوراک، روزگار اور روزمرہ بقا سے جڑا ہوا ہے۔ اگر اس معاہدے کے بارے میں غیر یقینی پیدا ہو، اگر پانی کے بہاؤ کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر برتنے کا تاثر ابھرے، یا اگر معاہداتی تنازعات کے حل کے طے شدہ طریقہ کار کو نظرانداز کیا جائے، تو اس کے نتیجے میں صرف ریاستی تعلقات نہیں بگڑتے بلکہ انسانی سلامتی بھی براہِ راست متاثر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کی خاموشی کو محض ایک سفارتی حربہ قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ خاموشی ایک پورے خطے کے مستقبل کے بارے میں بے یقینی پیدا کرتی ہے۔
مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ اس معاملے میں توجہ اب صرف سندھ طاس معاہدے کی مخصوص شقوں تک محدود نہیں رہی۔ اب سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا بھارت میں ایک وسیع تر رجحان پیدا ہو چکا ہے جس کے تحت بین الاقوامی قانونی عمل، نگرانی کے طریقہ کار، اور جواب دہی کے اداروں کو دانستہ طور پر کم اہم ثابت کیا جا رہا ہے۔ جب ایک ریاست مسلسل یہ پیغام دے کہ وہ سوالات کا جواب دینے کی پابند نہیں، کہ وہ معاہدوں کی اپنی من پسند تشریح کرے گی، اور یہ کہ وہ بین الاقوامی فورمز کے سامنے خاموش رہ کر بھی خود کو بری الذمہ سمجھتی ہے، تو پھر مسئلہ کسی ایک معاہدے یا ایک تنازع کا نہیں رہتا۔ پھر معاملہ ایک ایسے رویے کا بن جاتا ہے جو قواعد پر مبنی عالمی نظام کی بنیادوں کو کمزور کرتا ہے۔
عالمی نظم اسی اصول پر قائم رہتی ہے کہ طاقتور اور کمزور، دونوں ریاستیں قانون کے سامنے جواب دہ ہوں۔ اگر کوئی بڑی ریاست یہ سمجھنے لگے کہ اسے معاہداتی بندشوں، عالمی اصولوں، یا اقوامِ متحدہ کے سوالات کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے، تو اس سے ایک خطرناک مثال قائم ہوتی ہے۔ پھر دوسرے ممالک بھی یہی سیکھتے ہیں کہ اگر سیاسی طاقت کافی ہو تو بین الاقوامی قانون کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح خاموشی ایک ملک کی پالیسی سے نکل کر پوری دنیا کے لیے ایک منفی نظیر بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کے اس رویے کو صرف ایک علاقائی تنازع کے تناظر میں نہیں بلکہ عالمی قانونی اور اخلاقی بحران کے طور پر بھی دیکھا جانا چاہیے۔
بھارت کے حامی شاید یہ مؤقف اختیار کریں کہ خاموش رہنا اس کا حق ہے، یا یہ کہ وہ ہر سوال کا جواب دینے کا پابند نہیں۔ لیکن ایک ذمہ دار ریاست اور ایک طاقت کے نشے میں مبتلا ریاست میں یہی فرق ہوتا ہے۔ پہلی ریاست سوالات کا سامنا کرتی ہے، اپنی پوزیشن پیش کرتی ہے، قانونی بحث میں حصہ لیتی ہے، اور اختلاف کے باوجود طریقہ کار کی پاسداری کرتی ہے۔ دوسری ریاست خاموشی کو ہتھیار بناتی ہے، اپنے طرزِعمل کو وضاحت سے بالاتر سمجھتی ہے، اور داخلی سیاسی فائدے کے لیے عالمی اصولوں کو روند دیتی ہے۔ بدقسمتی سے بھارت اس وقت دوسری صورت کے زیادہ قریب دکھائی دیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ خاموشی بھارت کو وقتی داخلی سیاسی فائدہ تو دے سکتی ہے، مگر طویل مدت میں اس کا نقصان کہیں زیادہ گہرا ہوگا۔ ایک ریاست کی ساکھ صرف معاشی طاقت یا فوجی حجم سے نہیں بنتی، بلکہ اس بات سے بنتی ہے کہ وہ معاہدوں کی کتنی پاسداری کرتی ہے، عالمی سوالات کا کتنا سنجیدگی سے جواب دیتی ہے، اور اپنی طاقت کو کس حد تک قانون کے تابع رکھتی ہے۔ بھارت اگر اسی روش پر قائم رہتا ہے تو اس کی بین الاقوامی ساکھ مجروح ہوگی، اس کے وعدوں پر اعتماد کم ہوگا، اور وہ خود اپنے لیے یہ تاثر مضبوط کرے گا کہ وہ اصولوں کی نہیں، محض طاقت اور نظریاتی ضد کی سیاست کرتا ہے۔
آخرکار، بھارت کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ اس خاموشی کو توڑے، اقوامِ متحدہ کے سوالات کا واضح جواب دے، سندھ طاس معاہدے سے اپنی وابستگی کا عملی اظہار کرے، اور یہ ثابت کرے کہ وہ بین الاقوامی ذمہ داریوں کو محض کاغذی بات نہیں سمجھتا۔ لیکن جب تک ایسا نہیں ہوتا، ہر گزرتا دن یہی بتاتا رہے گا کہ یہ سکوت اتفاقی نہیں بلکہ ارادی ہے، اور یہ کہ ہندوتوا سے متاثر ریاستی ذہنیت نے قانونی دیانت، سفارتی سنجیدگی، اور علاقائی امن کو جان بوجھ کر پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ یہی اس خاموشی کا سب سے خطرناک پہلو ہے، اور یہی وہ وجہ ہے کہ اسے صرف نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
Author
-
View all posts
حسین جان کے علمی مفادات بین الاقوامی سلامتی، جغرافیائی سیاسی حرکیات، اور تنازعات کے حل میں ہیں، خاص طور پر یورپ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے۔ انہوں نے عالمی تزویراتی امور سے متعلق مختلف تحقیقی فورمز اور علمی مباحثوں میں حصہ ڈالا ہے، اور ان کا کام اکثر پالیسی، دفاعی حکمت عملی اور علاقائی استحکام کو تلاش کرتا ہے۔