پاکستان کے ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ثالثی کا کردار اختیار کرنے پر بعض عرب حلقوں کی طرف سے جو تنقید سامنے آ رہی ہے، وہ دراصل مسئلے کی اصل نوعیت کو سمجھنے میں ناکامی ہے۔ پاکستان نے یہ قدم کسی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے نہیں اٹھایا، نہ ہی یہ کسی کمزوری، خوف یا غیر یقینی کا اظہار ہے۔ یہ ایک ایسے ملک کا فیصلہ ہے جو اپنے جغرافیے، اپنی تاریخ، اپنے داخلی توازن اور پورے خطے کے مستقبل کو سامنے رکھ کر سوچتا ہے۔ پاکستان جانتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں لگنے والی آگ صرف ایک ملک یا ایک حکومت کو نہیں جلاتی، بلکہ اس کے شعلے سرحدوں، معیشتوں، مسلکی ہم آہنگی، تجارت اور داخلی امن تک پہنچتے ہیں۔ اسی لیے پاکستان کا پیغام سادہ ہے: جنگ بڑھانا آسان ہے، اسے ختم کرنا مشکل ہے، اور اصل دانشمندی آغاز میں نہیں بلکہ انجام کے تصور میں ہوتی ہے۔
جو لوگ یہ توقع رکھتے ہیں کہ پاکستان محض عرب دنیا کے کسی حصے کی خواہش کے مطابق ایک بلاک کی سیاست کا حصہ بن جائے، وہ ریاستی تعلقات کو حد سے زیادہ جذباتی اور کم فہم انداز میں دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان کے متحدہ عرب امارات سمیت تمام خلیجی ممالک کے ساتھ تاریخی، معاشی اور عوامی روابط ہیں۔ لاکھوں پاکستانی وہاں کام کرتے ہیں، دونوں طرف خیرسگالی موجود ہے، اور ان تعلقات کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں۔ لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان اپنی خودمختار خارجہ پالیسی ترک کر دے؟ کیا دوستی کی تعریف یہ ہے کہ ہر جنگ میں ایک جیسا مؤقف اختیار کیا جائے، چاہے اس کے نتائج اپنے ملک کے لیے تباہ کن ہی کیوں نہ ہوں؟ اگر ایسا ہے تو پھر یہ شراکت داری نہیں، تابع داری ہے۔ اور پاکستان کسی کا تابع ملک نہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان ایران کے ساتھ ہے یا امریکہ کے خلاف؛ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کس چیز کے ساتھ کھڑا ہے۔ جواب واضح ہے: پاکستان استحکام، خطے کے امن، اور ایک باعزت سیاسی حل کے ساتھ کھڑا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ جنگ صرف میزائلوں، ڈرونز اور بمباری کا نام نہیں ہوتی۔ جنگ کا ایک دوسرا مرحلہ بھی ہوتا ہے جسے جنگ کا اختتام یا war termination کہتے ہیں، اور عموماً یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بڑے بڑے طاقت ور ممالک بھی غلطی کر جاتے ہیں۔ کسی ریاست کی فوجی شکست ایک بات ہے، لیکن اس شکست کے بعد پیدا ہونے والا سیاسی خلا، اجتماعی تضحیک، انتقام کا جذبہ، اور آئندہ نسلوں کی نفسیات ایک بالکل دوسری حقیقت ہے۔ اگر کوئی فریق صرف تباہی کو کامیابی سمجھ لے اور اس کے بعد کے منظرنامے پر غور نہ کرے تو وہ امن نہیں، ایک نئے بحران کی بنیاد رکھتا ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جسے پاکستان سمجھ رہا ہے اور جسے اس کے ناقدین نظر انداز کر رہے ہیں۔ اگر ایران پہلے ہی شدید فوجی نقصان اٹھا چکا ہے، اگر اس کی عسکری، سیاسی اور صنعتی صلاحیتوں کو سخت دھچکا پہنچ چکا ہے، اگر اس کی ریاستی ساخت کو جھنجھوڑ دیا گیا ہے، تو پھر مزید کیا مطلوب ہے؟ کیا مقصد صرف یہ ہے کہ ایران مکمل طور پر ذلیل ہو، اس کے لیے کوئی باعزت راستہ باقی نہ رہے، اور پورا خطہ آنے والے عشروں تک نفرت اور بدلے کے زہر میں ڈوبا رہے؟ تاریخ بتاتی ہے کہ شکست یافتہ کو اتنا نہ کچلو کہ وہ امن کا حصہ بننے کے قابل ہی نہ رہے۔ ورسائی کا معاہدہ دنیا کے سامنے ایک زندہ مثال ہے کہ جب مغلوب کو تذلیل کے اندھیرے میں دھکیل دیا جائے تو بعد میں اس کی قیمت پوری دنیا کو چکانا پڑتی ہے۔
کچھ حلقے یہ بھی تاثر دیتے ہیں کہ پاکستان کی ثالثی گویا ایران کے لیے نرمی ہے۔ یہ بھی ایک سطحی اعتراض ہے۔ ثالثی کا مطلب حمایت نہیں ہوتا؛ ثالثی کا مطلب تباہی کے راستے سے واپسی کا دروازہ کھلا رکھنا ہوتا ہے۔ پاکستان اس خطے کا حصہ ہے۔ امریکہ کل کسی اور جنگ، کسی اور محاذ، کسی اور ترجیح کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ بڑی طاقتیں اکثر ایسا ہی کرتی ہیں۔ مگر عرب، ایرانی، ترک اور پاکستانی کہیں نہیں جائیں گے۔ انہیں اسی خطے میں رہنا ہے، اسی ہوا میں سانس لینا ہے، انہی سمندری راستوں، انہی معاشی دھاگوں اور انہی سیاسی ارتعاشات کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔ اگر آج سب جذبات میں آ کر ایسی لڑائی کا حصہ بن جائیں جس کا انجام ہی واضح نہ ہو، تو کل یہی ممالک ایک دوسرے سے تھکے، ٹوٹے اور نفرت زدہ حالت میں نمٹ رہے ہوں گے۔ کیا یہی دانشمندی ہے؟
پاکستان نے ماضی میں علاقائی جنگوں کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ دہشت گردی، مہاجرین کا دباؤ، سرحدی بے چینی، فرقہ وارانہ کشیدگی، معاشی نقصان اور سماجی انتشار — یہ سب پاکستان کے لیے نظری بحث نہیں بلکہ جیتی جاگتی حقیقتیں ہیں۔ اسی تجربے نے اسے یہ سکھایا ہے کہ جنگ کے شعلوں کو دور سے دیکھنے والے اکثر اس کے دھویں کو نہیں سمجھتے۔ پاکستان کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑی جنگ صرف ایک خبر نہیں، بلکہ اپنے داخلی امن کے لیے ایک ممکنہ خطرہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سفارتی راستہ اپنانے پر زور دے رہا ہے۔ یہ کمزوری نہیں، قومی مفاد کی حفاظت ہے۔
متحدہ عرب امارات کے بعض مبصرین کو شاید یہ بات ناگوار گزرے، لیکن سچ یہی ہے کہ شراکت داری یک طرفہ توقعات پر قائم نہیں رہتی۔ جب مئی 2025 میں بھارت نے پاکستان کے خلاف جارحیت کی، تو خلیجی دنیا نے عمومی طور پر تحمل، کشیدگی میں کمی اور سفارتی انداز اپنایا۔ کسی نے پاکستان کے نقطہ نظر کے مطابق کھل کر وہ زبان استعمال نہیں کی جس کی شاید خواہش کی جا سکتی تھی۔ اس وقت سب نے کہا کہ ہر ملک اپنی قومی ترجیحات کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔ اگر یہ اصول اس وقت درست تھا تو آج کیوں نہیں؟ اگر امارات اپنے مفاد کے مطابق فیصلہ کر سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں؟ دوستی کی اصل بنیاد یہی ہے کہ آپ دوسرے کے حقِ خودمختاری کو بھی اسی احترام سے تسلیم کریں جس احترام کی توقع آپ خود اپنے لیے رکھتے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ پاکستان کو جذباتی نعروں سے دباؤ میں لایا جائے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کے مؤقف کو ایک سنجیدہ، دور اندیش اور ذمہ دارانہ آواز کے طور پر سنا جائے۔ پاکستان یہ نہیں کہہ رہا کہ مسائل موجود نہیں۔ وہ یہ بھی نہیں کہہ رہا کہ خلیجی ممالک کے خدشات بے بنیاد ہیں۔ وہ صرف یہ کہہ رہا ہے کہ ایک ایسا حل تلاش کیا جائے جو قابلِ عمل ہو، پائیدار ہو، اور کل کے امن کو آج کے غصے پر قربان نہ کرے۔ اگر جنگ کا نتیجہ ویسا ہی نکلنا ہے جیسا زیادہ تر مبصرین پہلے سے دیکھ رہے ہیں، تو پھر کیوں ایسے قدم اٹھائے جائیں جو آنے والی نسلوں کے لیے دشمنی کو اور گہرا کر دیں؟
پاکستان نے کوئی جانب نہیں چنی؛ پاکستان نے استحکام کو چنا ہے۔ اس نے جنگی شور میں عقل کی بات کی ہے، انتقام کے ماحول میں سیاسی حل کی بات کی ہے، اور وقتی جوش کے مقابلے میں مستقل امن کو ترجیح دی ہے۔ یہی اس کی پختگی ہے، یہی اس کی سفارتی اہمیت ہے، اور یہی وہ کردار ہے جسے تنقید کا نہیں بلکہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیے۔
Author
-
View all posts
مصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔