Nigah

عوامی ایکشن سیاست

[post-views]

کشمیر کی سیاسی اور سماجی فضا میں جب بھی عوامی حقوق، احتجاجی تحریکوں، اور نمائندہ قیادت کا ذکر آتا ہے تو اس کے ساتھ ایک اہم سوال بھی جنم لیتا ہے: کیا یہ جدوجہد واقعی عوامی مسائل کے حل کے لیے ہے، یا وقت کے ساتھ ساتھ اس میں سیاسی مفادات اور ذاتی اثر و رسوخ کے عناصر بھی شامل ہو جاتے ہیں؟ اسی تناظر میں شوکت نواز میر اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کی سرگرمیوں پر مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے۔ ایک طبقہ انہیں عوامی مسائل کو اجاگر کرنے والی آواز سمجھتا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ یہ رائے رکھتا ہے کہ یہ پلیٹ فارم رفتہ رفتہ ایک ایسے سیاسی بیانیے میں تبدیل ہو رہا ہے جس میں مسئلے کے حل سے زیادہ دباؤ، کشیدگی، اور اثر اندازی کو اہمیت دی جا رہی ہے۔

عوامی ایکشن کمیٹیوں یا احتجاجی اتحادوں کا بنیادی مقصد عموماً یہ ہوتا ہے کہ وہ عوامی مشکلات کو منظم انداز میں حکومت تک پہنچائیں، پالیسی سازوں کو جواب دہ بنائیں، اور مسائل کے حل کے لیے اجتماعی دباؤ پیدا کریں۔ لیکن جب کوئی پلیٹ فارم مسلسل تصادم، اشتعال انگیز لہجے، اور نئے تنازعات کی سیاست کے ساتھ جڑنے لگے تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ آیا اس کا مرکز واقعی عوامی مفاد ہے یا نہیں۔ ناقدین کے مطابق شوکت نواز میر کی قیادت میں JAAC نے کئی مواقع پر ایسے بیانات اور حکمت عملیاں اختیار کیں جن سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ معاملات کو حل کی طرف لے جانے کے بجائے انہیں ایک مسلسل سیاسی کشمکش کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

اس تاثر کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ جب بعض مطالبات تسلیم کیے جاتے ہیں، تب بھی کشیدگی ختم ہونے کے بجائے کوئی نیا محاذ سامنے آ جاتا ہے۔ سیاسی اور سماجی تحریکوں میں اختلاف اور دباؤ کوئی غیر معمولی بات نہیں، لیکن اگر ہر پیش رفت کے بعد نئی محاذ آرائی پیدا ہو تو عوام یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ اصل ترجیح مسئلے کا حل ہے یا اپنی سیاسی موجودگی کو برقرار رکھنا۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں قیادت کی نیت، حکمت عملی، اور ترجیحات پر سوالات ابھرنا شروع ہوتے ہیں۔

سوشل میڈیا نے اس سارے منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ آج ایک تقریر، ایک کلپ، ایک بیان، یا ایک الزام چند منٹوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ نوجوان طبقہ، جو جذباتی طور پر زیادہ متحرک اور سیاسی طور پر زیادہ متاثر ہونے والا ہوتا ہے، ایسی مہمات کا فوری ہدف بن جاتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب عوامی مسائل کو بار بار جذباتی زبان، اداروں پر مسلسل الزامات، اور شدید اشتعال کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے تو اصل مسئلہ پس منظر میں چلا جاتا ہے اور بیانیے کی جنگ سامنے آ جاتی ہے۔ اس صورت میں تحریک عوامی خدمت سے زیادہ سیاسی طاقت کے اظہار کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ کشمیر جیسے حساس خطے میں عوامی جذبات پہلے ہی شدید نوعیت رکھتے ہیں۔ یہاں قیادت کی ذمہ داری صرف آواز بلند کرنا نہیں بلکہ عوامی شعور، سیاسی سنجیدگی، اور اجتماعی مفاد کو بھی مقدم رکھنا ہے۔ اگر قیادت کا انداز ایسا ہو کہ ہر اختلاف تصادم میں بدل جائے، ہر معاملہ الزام تراشی کی نذر ہو جائے، اور ہر احتجاج ایک نئے بحران کی شکل اختیار کرے، تو اس کا سب سے بڑا نقصان خود عوام کو ہوتا ہے۔ عوامی اعتماد ایک بار مجروح ہو جائے تو پھر کوئی بھی حقیقی اور جائز تحریک بھی شکوک کی زد میں آ سکتی ہے۔

اس بحث کا دوسرا پہلو بھی اہم ہے۔ ہر احتجاجی یا عوامی پلیٹ فارم پر محض اس بنیاد پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا کہ وہ حکومت پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ جمہوری معاشروں میں دباؤ، اختلاف، اور احتجاج سیاسی عمل کا حصہ ہوتے ہیں۔ اصل سوال طریقۂ کار، زبان، شفافیت، اور نیت کا ہے۔ اگر کسی پلیٹ فارم کے اندر فیصلہ سازی محدود ہو، اگر بیانیہ چند افراد کے گرد گھومنے لگے، اور اگر اجتماعی مسائل کو شخصی قیادت کی پہچان بنانے کے لیے استعمال کیا جائے، تو پھر اس کے بارے میں تحفظات پیدا ہونا لازمی امر ہے۔

شوکت نواز میر اور JAAC کے بارے میں پائی جانے والی تنقید اسی پس منظر میں دیکھی جا سکتی ہے۔ مسئلہ صرف احتجاج نہیں، بلکہ احتجاج کی سمت ہے۔ مسئلہ صرف قیادت نہیں، بلکہ قیادت کے احتساب کا ہے۔ مسئلہ صرف مطالبات نہیں، بلکہ اس بات کا ہے کہ کیا ان مطالبات کی تکمیل کے بعد بھی عوامی فضا کو جان بوجھ کر کشیدہ رکھا جا رہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر یہ روش کسی دیرپا عوامی فائدے کے بجائے وقتی سیاسی فائدے سے جڑی محسوس ہوتی ہے۔

عوامِ کشمیر کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر نعرے، ہر مہم، اور ہر دعوے کو جذبات کی بجائے شعور کی کسوٹی پر پرکھیں۔ جو قیادت واقعی عوامی مفاد کی علمبردار ہو، اس کی پہچان صرف بلند آواز نہیں بلکہ ذمہ دارانہ رویہ، حقیقت پسندانہ حکمت عملی، اور شفاف مقاصد ہوتے ہیں۔ عوامی حقوق کے نام پر چلنے والی ہر تحریک خود بخود مقدس نہیں ہو جاتی؛ اس کی اصل جانچ اس کے کردار، تسلسل، اور نتائج سے ہوتی ہے۔ کشمیر کے عوام کو اب یہ فیصلہ زیادہ سنجیدگی سے کرنا ہوگا کہ کون ان کے مسائل کا حل چاہتا ہے، اور کون انہی مسائل کو اپنی سیاسی طاقت کی بنیاد بنانا چاہتا ہے۔

Author

  • munir nigah

    ڈاکٹر محمد منیر ایک معروف اسکالر ہیں جنہیں تحقیق، اکیڈمک مینجمنٹ، اور مختلف معروف تھنک ٹینکس اور یونیورسٹیوں میں تدریس کا 26 سال کا تجربہ ہے۔ انہوں نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس اینڈ سٹریٹیجک سٹڈیز (DSS) سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔