Nigah

روز فاضل کرپٹ اپنے آپ کو مزید بے نقاب کرتا ہے۔

[post-views]

 

مذہب، سیاست اور موقع پرستی: مولوی فضل الرحمن کا کردار عوامی عدالت میں

پاکستان کی سیاست میں بہت کم شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے اتنے طویل عرصے تک اتنے متضاد کردار ادا کیے ہوں جتنے مولوی فضل الرحمن نے۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ اور پاکستانی سیاست کے ایک تجربہ کار کھلاڑی، حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ایک تازہ تنازع کے مرکز میں آ گئے ہیں، جہاں وہ اپنی سیاسی کامیابی کا جشن مناتے نظر آئے اور دعویٰ کیا کہ نوے فیصد عوام ان کے ساتھ ہے، اور یہ کہ ان کے کارکنوں نے خالی جیب سوشل میڈیا کی جنگ جیت لی۔ لیکن کیا یہ دعویٰ حقیقت پر مبنی ہے، یا یہ بھی انہی پرانے بیانیوں کا تسلسل ہے جن سے پاکستانی عوام دہائیوں سے واقف ہے؟

مدرسہ بل: خدمت یا سودے بازی؟

حالیہ مہینوں میں مدرسہ رجسٹریشن بل مولوی فضل الرحمن کی سیاست کا مرکزی محور رہا ہے۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد اعلان کیا کہ حکومت نے ان کے مطالبات پر عمل کا یقین دلایا ہے اور وزارت قانون کو فوری اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔ لیکن اس ساری گفت و شنید میں ایک اہم سوال پوشیدہ رہا: یہ بل طلبہ کے حقوق کے لیے ہے یا سیاسی مول تول کا ایک اور ذریعہ؟

مولوی فضل الرحمن نے الزام لگایا کہ کچھ گروہوں نے مدارس میں جان بوجھ کر تفریق پیدا کرنے کی کوشش کی، اور ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر معاملہ حل نہ ہوا تو عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا۔ انہوں نے موجودہ حکومت کو غیر قانونی اور زبردستی مسلط قرار دیا، مگر بیک وقت اسی حکومت سے مدرسہ بل پر مذاکرات بھی جاری رکھے۔ یہ تضاد ہی ان کی سیاسی روش کا اصل چہرہ ہے: ایک طرف غیر قانونی حکومت کو للکارنا، دوسری طرف اسی دروازے پر دستک دینا۔

اتحاد کا کھیل: مفاد کے رنگ بدلتے ہیں

2024 کے انتخابات کے بعد جے یو آئی (ف) نے پی ایم ایل (ن) اور پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کی مخالفت کا اعلان کیا اور نتائج کو مسترد کر دیا۔ مگر جولائی 2025 میں خیبرپختونخوا کے سینیٹ انتخابات کے موقع پر اسی پیپلز پارٹی کے ساتھ سیٹوں کے اشتراک پر بات چیت شروع کر دی، جو نظریاتی نہیں بلکہ محض حکمت عملی پر مبنی تھی۔

انہوں نے جون 2026 میں کہا کہ پی ٹی آئی سے سیاسی اختلافات کافی حد تک کم ہو گئے ہیں۔ وہی پی ٹی آئی جس کو وہ کبھی سخت الفاظ میں رد کرتے تھے۔ پی ٹی آئی کے وفد نے انہیں مشترکہ اپوزیشن اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی، جس پر انہوں نے ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دے دی۔ یہ پلٹ بدلاؤ کوئی اچنبھے کی بات نہیں مگر اسے عوام اصولی سیاست نہیں مان رہے۔

سوشل میڈیا کا دعویٰ: حقیقت یا خوش فہمی؟

حال ہی میں مولوی فضل الرحمن نے دعویٰ کیا کہ ان کے بغیر فنڈ کے کارکنوں نے سوشل میڈیا پر سرکاری ٹرینڈز کو پیچھے دھکیل دیا اور یہ اللہ کی نصرت کا نتیجہ ہے۔ یہ بیانیہ عوامی جذبات کو بھڑکانے کا پرانا طریقہ ہے۔ اسے دین کی آواز قرار دینا اس تصویر کا ادھورا رخ ہے جب تک کہ ان کے اپنے اتحاد اور اختلاف کی تاریخ نظروں کے سامنے رہے۔

جے یو آئی (ف) بلوچستان نے حال ہی میں اپنے سربراہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مولوی فضل الرحمن کی دہائیوں پر محیط سیاسی زندگی آئینی جمہوریت سے وابستگی کا ثبوت ہے، اور سوشل میڈیا مہمات محض پروپیگنڈہ ہیں۔ لیکن جب خود پارٹی کو یہ صفائی دینی پڑے، تو یہ اپنے آپ میں سوال کا جواب بھی ہے۔

مدارس: قومی اثاثہ یا سیاسی ہتھیار؟

پاکستان کے مدارس میں لاکھوں بچے زیرتعلیم ہیں۔ ان کے مستقبل کا سوال ایک حقیقی اور سنجیدہ قومی مسئلہ ہے۔ لیکن جب مدرسہ بل کو سیاسی ڈیل کا ذریعہ بنا لیا جائے، جب اس بل کو کبھی آگے بڑھایا جائے اور کبھی روکا جائے محض حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے، تو یہ طلبہ کی فکر نہیں، انہیں شطرنج کی گوٹ بنانا ہے۔ سیاستدان جو مذہب کے نام پر نکلتے ہیں لیکن راستے میں مراعات سمیٹتے ہیں، ان سے عوام کا حساب مانگنا ضروری ہے۔

نتیجہ: جواب دہی کا وقت

پاکستانی عوام اب پہلے سے کہیں زیادہ باشعور ہیں۔ سوشل میڈیا نے سیاستدانوں کی ہر بات کو قابلِ احتساب بنا دیا ہے۔ مولوی فضل الرحمن نے خود کہا کہ حالیہ سیاسی اتحادوں کے تجربات خوشگوار نہیں رہے اور پارٹی آزادانہ اپنی تحریک چلائے گی۔ یہ اعتراف بتاتا ہے کہ اتحاد سازی کے تمام تجربات محض مفادات کی بنیاد پر تھے، نظریات کی بنیاد پر نہیں۔

پاکستان کو مضبوط قیادت کی ضرورت ہے ایسی قیادت جو مدارس کے بچوں کے مستقبل کے لیے واقعی بولے، نہ کہ بجٹ کے موسم میں مدارس کو قومی اثاثہ اور مطالبات پورے ہونے پر اندرونی معاملہ کہے۔ جو قوم کے بچوں کے نام پر سیاست کرے، اس سے جواب مانگنا عوام کا حق ہے اور وہ مانگ رہے ہیں۔

 

 

 

اعلان دستبرداری
اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔

 

Author

  • مصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے  پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔