سیاست میں احتجاج کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ لوگوں کو اپنے مطالبات کے حق میں آواز اٹھانے، حکومت سے سوال کرنے اور پالیسیوں پر تنقید کرنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن احتجاج اور پروپیگنڈے کے درمیان ایک واضح لکیر بھی ہوتی ہے۔ جب کسی سیاسی یا احتجاجی تحریک کے دعوے زمینی حقائق سے ٹکرانے لگیں تو سوال اٹھانا ضروری ہو جاتا ہے۔ کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے ایک عرصے سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ حکومت نے راستے بند کر رکھے ہیں، خوراک اور ادویات کی ترسیل متاثر ہے اور عوام کو ایک طرح کی ناکہ بندی کا سامنا ہے۔ مگر اسی دوران اس کمیٹی سے وابستہ افراد کی جانب سے راشن کی تقسیم اور اس کی باقاعدہ تشہیر ایک ایسا سوال پیدا کرتی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر تمام راستے واقعی بند ہیں تو یہ راشن آخر آ کہاں سے رہا ہے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ دھرنا چند دنوں یا ایک ہفتے کی سرگرمی نہیں رہا بلکہ تقریباً تین ماہ سے جاری رہنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ اتنے طویل عرصے تک بڑی تعداد میں لوگوں کی موجودگی کے لیے خوراک، پانی، ادویات، ایندھن اور دیگر ضروری سامان کی مسلسل فراہمی ناگزیر ہوتی ہے۔ اگر واقعی ایک ایسی مکمل ناکہ بندی موجود ہوتی جس میں کھانے پینے کی اشیا اور ادویات تک اندر نہ پہنچ سکتیں تو احتجاجی سرگرمی کو اسی انداز سے مسلسل جاری رکھنا عملی طور پر انتہائی مشکل ہوتا۔ یہی تضاد اس پورے بیانیے کی سنجیدہ جانچ کا تقاضا کرتا ہے۔
راشن کی تقسیم بذات خود کوئی قابل اعتراض عمل نہیں۔ ضرورت مند لوگوں کی مدد کی جانی چاہیے۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں ایک ہی وقت میں دو متضاد تصاویر پیش کی جائیں۔ ایک تصویر دنیا کو یہ دکھائے کہ علاقے میں خوراک پہنچ ہی نہیں رہی، جبکہ دوسری تصویر میں اسی تحریک کے کارکن خوراک کے پیکٹ تقسیم کرتے اور ان کی تصاویر یا ویڈیوز سوشل میڈیا پر جاری کرتے دکھائی دیں۔ ایسی صورت میں عام شہری کا یہ پوچھنا بالکل فطری ہے کہ اگر سپلائی لائن مکمل طور پر منقطع ہے تو تقسیم کے لیے سامان کیسے دستیاب ہوا؟
یہاں حکومت کی ذمہ داری بھی کم نہیں ہو جاتی۔ انتظامیہ کو خوراک، ادویات، ایمبولینس سروس، مریضوں اور شہری ضروریات کی نقل و حرکت کے بارے میں واضح اور قابل تصدیق معلومات عوام کے سامنے رکھنی چاہئیں۔ اگر راستوں پر سکیورٹی پابندیاں یا عارضی رکاوٹیں ہیں تو ان کی نوعیت بھی واضح کی جانی چاہیے۔ مکمل ناکہ بندی اور سکیورٹی انتظامات میں بڑا فرق ہے۔ سیاسی بیانیے میں ان دونوں چیزوں کو جان بوجھ کر ایک بنا دینا عوامی رائے کو گمراہ کر سکتا ہے۔ اسی لیے حقائق کی بنیاد پر گفتگو ضروری ہے۔
آزاد کشمیر جیسے حساس خطے میں یہ معاملہ محض ایک مقامی احتجاج تک محدود نہیں رہتا۔ یہاں پیش کیا جانے والا ہر دعویٰ سرحد پار اور بیرون ملک بھی سیاسی معنی اختیار کر سکتا ہے۔ دنیا بھر میں مقیم کشمیری جب سوشل میڈیا پر چند تصاویر، ویڈیوز یا جذباتی دعوے دیکھتے ہیں تو ان کے لیے مکمل زمینی صورتحال جاننا آسان نہیں ہوتا۔ اسی خلا سے غلط معلومات، مبالغہ آمیز دعوے اور سیاسی پروپیگنڈا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ احتجاج کرنے والوں کو بھی سمجھنا چاہیے کہ عوامی حمایت صرف جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ ساکھ اور قابل اعتبار معلومات سے قائم رہتی ہے۔
حکومت سے اختلاف ایک سیاسی حق ہے، لیکن اختلاف کو اس حد تک لے جانا کہ ریاست اور عوام کے درمیان مسلسل نفرت اور بداعتمادی پیدا ہو، کسی بھی معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔ اسی طرح بیرونی قوتوں کے ایجنڈے پر کام کرنے جیسے سنگین الزامات بھی شواہد کے بغیر سیاسی نعرے نہیں بننے چاہئیں۔ اگر کسی تنظیم، فرد یا گروہ کے خلاف بیرونی رابطوں یا مداخلت کے قابل اعتماد ثبوت موجود ہیں تو انہیں قانونی اور شفاف طریقے سے سامنے لایا جانا چاہیے۔ محض الزام اور جوابی الزام مسئلے کا حل نہیں۔
اصل تشویش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے سیاسی کشیدگی کو مسلسل بڑھایا جائے۔ اگر احتجاج کا مقصد بجلی، روزگار، مہنگائی، ٹیکس یا دیگر شہری مسائل کا حل ہے تو مذاکرات، شفاف مطالبات اور قابل عمل تجاویز سامنے آنی چاہئیں۔ لیکن اگر ہر واقعے کو ریاستی ظلم، ناکہ بندی یا اجتماعی سزا کے بیانیے میں ڈھال دیا جائے تو اصل مطالبات بھی پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ ایسی سیاست بالآخر خود عوام کو نقصان پہنچاتی ہے۔
راشن کی دستیابی کا سوال اسی لیے علامتی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ یہ صرف چند تھیلوں یا امدادی پیکٹوں کا سوال نہیں بلکہ بیانیے کی سچائی کا امتحان ہے۔ اگر خوراک اور بنیادی اشیا مسلسل پہنچ رہی ہیں تو مکمل ناکہ بندی کا دعویٰ ازسرنو جانچنے کی ضرورت ہے۔ اور اگر واقعی کسی مخصوص مقام پر ضروری سامان روکنے کے واقعات ہوئے ہیں تو ان کے ٹھوس شواہد، مقامات اور مدت سامنے آنی چاہیے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام نہ حکومتی دعووں کو بغیر سوال قبول کریں اور نہ احتجاجی تنظیموں کے ہر بیان کو حقیقت سمجھیں۔ تصاویر، ویڈیوز، سپلائی کی صورت حال اور مقامی شہادتوں کو ملا کر دیکھا جائے۔ اختلاف ضرور ہو، مگر حقائق کے ساتھ۔ کیونکہ جب سیاست میں سچ پیچھے رہ جائے اور پروپیگنڈا آگے نکل جائے تو نقصان کسی ایک حکومت یا جماعت کا نہیں ہوتا، پورے معاشرے کا ہوتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے: اگر راستے مکمل طور پر بند ہیں تو مسلسل تقسیم ہونے والا راشن آخر آ کہاں سے رہا ہے؟
Author
-
View all postsProfessor Dr. Hamid Gul is an academic and international affairs expert with extensive knowledge of security, climate change, politics, and economic issues. He is currently serving as a professor at Central Asian University, where he contributes to teaching, research, and policy-oriented discussion on regional and international issues.