بلوچستان کی بیٹیاں: قیادت کا نیا باب
سائرہ عطا کی تاریخی تقرری اور خواتین کی بڑھتی قوت
جب کسی صوبے میں تاریخ رقم ہوتی ہے تو وہ صرف ایک فرد کی کامیابی نہیں ہوتی بلکہ پورے معاشرے کی اجتماعی پیش رفت کا اعلان ہوتی ہے۔ 26
جولائی 2026 کو حکومت بلوچستان نے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے سرکاری نوٹیفکیشن کے ذریعے محترمہ سائرہ عطا (BS-20) کو لسبیلہ ڈویژن کی پہلی خاتون کمشنر مقرر کیا۔
چیف سیکرٹری شکیل قادر خان کے دستخط سے جاری یہ حکمنامہ محض ایک انتظامی احکام نہیں بلکہ بلوچستان کی تاریخ میں ایک نیا باب ہے جو قلم و دوات کی بجائے جرأت اور میرٹ کی روشنائی سے لکھا گیا ہے۔
سائرہ عطا کوئی نووارد نام نہیں۔ رواں سال جنوری میں بحیثیت سیکرٹری ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ بلوچستان انہوں نے خود صوبائی حکومت کے خواتین کو بااختیار بنانے کے عزم کی تجدید کی تھی اور یہ یقین دلایا تھا کہ خواتین کو تعلیم، صحت، روزگار اور تحفظ تک مساوی رسائی دینا حکومت کی ترجیح ہے۔ آج وہ خود اس عزم کی عملی تصویر بن گئی ہیں۔ لسبیلہ جیسے وسیع اور اسٹریٹجک اہمیت کے حامل ڈویژن کی قیادت ایک تجربہ کار اور باصلاحیت خاتون افسر کو سونپنا حکومت کی میرٹ پرستی اور صنفی مساوات کے عملی عزم کی دلیل ہے۔
یہ تقرری یکایک نہیں ہوئی بلکہ یہ ایک طویل سفر کا ثمر ہے۔ بلوچستان میں خواتین متعدد شعبوں میں تاریخی کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔ عدلیہ میں جسٹس طاہرہ صفدر بلوچستان ہائی کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس بنیں۔ سول انتظامیہ میں بتول اسدی نے کوئٹہ کی پہلی خاتون اسسٹنٹ کمشنر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ مسلح افواج میں سائرہ بتول صوبے کی پہلی خاتون فائٹر پائلٹ بنیں جبکہ ذکیہ جمالی نے بطور بلوچستان کی پہلی خاتون نیول آفیسر تاریخ رقم کی۔ اب اس سنہری قافلے میں سائرہ عطا کا نام بھی شامل ہو گیا ہے۔
اس سے قبل بھی بلوچستان میں خواتین ڈپٹی کمشنروں کی تقرری پر معاشرے میں خوشی اور ستائش کا اظہار کیا گیا تھا جب ناصرآباد، آواران، صاحب پور، لسبیلہ اور ہب میں خواتین کو ڈپٹی کمشنر کی ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں۔ اب کمشنر کی سطح پر یہ پیش رفت ایک قدم اور آگے کا سفر ہے۔
حال ہی میں سول سروسز اکیڈمی کے 53ویں کامن ٹریننگ پروگرام میں پہلی بار تاریخ میں خواتین افسران نے مردوں کو تعداد میں پیچھے چھوڑ دیا جہاں 74 خواتین افسران نے تربیت مکمل کی۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان کی خواتین خصوصاً بلوچستان کی بیٹیاں اب انتظامی مراتب کے ہر زینے پر اپنی موجودگی ثابت کر رہی ہیں۔
یہاں ایک اہم سوال ذہن میں ابھرتا ہے: خواتین کی اعلیٰ انتظامی عہدوں پر تقرری سے حکمرانی کا معیار کیوں بہتر ہوتا ہے؟ جواب سادہ مگر گہرا ہے۔ جب فیصلہ سازی کے مراکز میں نصف آبادی کی نمائندگی ہو تو پالیسیاں زیادہ جامع، حقیقت پسندانہ اور انسانی ہوتی ہیں۔ بلوچستان کا ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ، شہید بے نظیر بھٹو ویمن سینٹرز، شیلٹر ہومز اور پیشہ ورانہ تربیتی اقدامات کے ذریعے صوبے بھر میں خواتین کی سماجی، معاشی اور سیاسی بااختیاری کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے۔ سائرہ عطا جیسی افسران اس پورے نظام کو ایک نئی روح اور حوصلہ فراہم کرتی ہیں۔

بلوچستان ایک متنوع، وسیع اور ترقیاتی چیلنجوں سے بھرپور صوبہ ہے۔ لسبیلہ ڈویژن جغرافیائی، معاشی اور سماجی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس سرزمین پر ایک خاتون کمشنر کا تقرر صرف انتظامی ردوبدل نہیں بلکہ ایک پیغام ہے ہر اس بچی کے لیے جو سرکاری اسکول میں پڑھ رہی ہے، ہر اس ماں کے لیے جو اپنی بیٹی کو تعلیم دلانے کے لیے قربانیاں دے رہی ہے اور ہر اس نوجوان خاتون کے لیے جو سول سروسز کا خواب دیکھتی ہے کہ یہ خواب ممکن ہے، قابل حصول ہے اور بلوچستان کی سرزمین اس خواب کو پورا کرنے میں رکاوٹ نہیں بلکہ معاون ہے۔
قانونی اعتبار سے بھی پاکستان نے خواتین کی سیاسی اور انتظامی شمولیت کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں جیسے کہ مقامی حکومتوں میں 33 فیصد نشستیں خواتین کے لیے مخصوص کی گئی ہیں۔ مگر قوانین اور کوٹے اس وقت حقیقی تبدیلی لاتے ہیں جب اہلیت اور ارادے کی ملاوٹ سے مسلح خواتین انہیں عملی مظاہرے میں بدل دیں۔ سائرہ عطا نے بالکل یہی کیا ہے۔
بلوچستان کمیشن برائے حیثیت خواتین کے مطابق صوبے میں صنفی مساوات کو آگے بڑھانے کے لیے تحقیق، قانون سازی اور احتساب پر مبنی کام جاری ہے۔ سائرہ عطا کی تقرری اس پورے ادارہ جاتی سفر کا ایک روشن سنگ میل ہے۔
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ بلوچستان کی بیٹیوں نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ وہ کسی سے کم نہیں۔ فائٹر جیٹ کی کمان ہو یا عدالت کی کرسی، فوج کا بیڑہ ہو یا ضلعی انتظامیہ کی باگ ڈور انہوں نے ہر محاذ پر اپنا لوہا منوایا ہے۔ سائرہ عطا کی لسبیلہ ڈویژن کی پہلی خاتون کمشنر کے طور پر تاریخی تقرری اس قافلے کا تازہ ترین اور روشن باب ہے۔
یہ وہ لمحہ ہے جسے بلوچستان کی تاریخ یاد رکھے گی جب ایک بیٹی نے میرٹ کی بنیاد پر وہ مقام حاصل کیا جو اس سے پہلے کوئی خاتون حاصل نہ کر سکی تھی۔ مبارک ہو سائرہ عطا۔ مبارک ہو بلوچستان۔
اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔
Author
-
View all postsانیس الرحمٰن ایک مصنف اور تجزیہ کار ہیں جو اس وقت پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ اردو میں وہ بین الاقوامی تعلقات اور عالمی مسائل میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، اکثر ان موضوعات پر بصیرت انگیز تجزیے لکھتے ہیں۔ ای میل: