Nigah

بیلٹ کی فتح: آزاد کشمیر کے عوام کا جمہوری فیصلہ

[post-views]

 

آزاد جموں و کشمیر کی سرزمین پر ایک بار پھر جمہوریت نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 2026 کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کے 13 انتخابی حلقوں میں ووٹنگ کا کامیاب انعقاد ثابت کرتا ہے کہ اس خطے کے باشعور عوام نے دھونس، دباؤ اور انتشار کی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے بیلٹ کو اپنی آواز کا واحد ذریعہ تسلیم کیا ہے۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن آزاد کشمیر راجہ شکیل کا کہنا ہے کہ میرپور میں پولنگ کا عمل مجموعی طور پر پرامن رہا اور امید ہے کہ ووٹر ٹرن آؤٹ 50 فیصد سے زیادہ ہوگا۔ یہ اعداد و شمار اس وقت اور بھی اہمیت اختیار کر جاتے ہیں جب ہم یاد کریں کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) نے انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے اور عوام کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔

الیکشن کمیشن نے انتخابات ملتوی کرنے کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ انتخابات مقررہ شیڈول کے مطابق ہی منعقد کیے جائیں گے اور تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ یہ فیصلہ صرف انتظامی نوعیت کا نہ تھا بلکہ یہ ایک واضح اعلان تھا کہ جمہوری اداروں کو کسی احتجاجی دباؤ کے سامنے نہیں جھکایا جائے گا۔

چیف سیکرٹری آزاد جموں و کشمیر خوشحال خان نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے انتشاری ٹولوں کو مسترد کرکے جمہوری عمل پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور انتخابی عمل میں رکاوٹ ڈالنے یا امن خراب کرنے والوں کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا۔

JAAC نے خود کو عوامی تحریک کے طور پر پیش کیا لیکن انتخابی نتائج نے اس بیانیے کی قلعی کھول دی۔ عوامی مینڈیٹ واضح ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے اب تک کے غیر حتمی نتائج میں برتری حاصل کی ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی دوسرے نمبر پر ہے۔

یہ مقابلہ جمہوری نظام کی صحت مندی کا ثبوت ہے نہ کہ کسی مخصوص پلیٹ فارم کی جیت۔ اصل فاتح آزاد کشمیر کا وہ ووٹر ہے جو خوف اور دھمکیوں کے باوجود پولنگ اسٹیشن تک پہنچا اور اپنا فیصلہ خود کیا۔

JAAC کا کردار اس تناظر میں سنجیدہ سوالات کھڑا کرتا ہے۔ آزاد کشمیر کی حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو ریاست میں انتشار پھیلانے اور امن و امان کو نقصان پہنچانے کے الزامات کے تحت کالعدم قرار دیا۔ یہ فیصلہ اچانک نہیں آیا بلکہ مہینوں کی سرگرمیوں کا منطقی نتیجہ تھا۔ محکمہ داخلہ آزاد کشمیر کا موقف رہا کہ تنظیم کے خلاف امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے کے معقول شواہد ہیں اور تنظیم ریاست میں انتشار پیدا کرنے میں ملوث پائی گئی۔

حکومت آزاد جموں و کشمیر نے کالعدم JAAC سے تعلق رکھنے والے چار مطلوب افراد شوکت نواز میر، عمر نذیر کشمیری، خواجہ مہران ارشد اور سردار امان خان کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے پر ایک کروڑ روپے انعام مقرر کیا۔ فتنۃ الخوارج عناصر اور JAAC کے بعض حلقوں کے درمیان مبینہ روابط کی اطلاعات نے اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔ جب کوئی احتجاجی پلیٹ فارم دہشت گرد عناصر کے لیے پناہ گاہ بن جائے تو اسے جمہوری جدوجہد نہیں کہا جا سکتا۔

حکومت نے JAAC کو کالعدم قرار دے کر اس کی قیادت پر بغاوت اور غداری جیسے سنگین مقدمات قائم کیے، بڑی تعداد میں گرفتاریاں ہوئیں اور بعض رہنماؤں کے سروں کی قیمت مقرر کی گئی۔ یہ سب قانون کے دائرے میں کیا گیا کیونکہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے امن و سلامتی کا تحفظ کرے خواہ اسے جو قیمت بھی ادا کرنی پڑے۔

JAAC کی طرف سے انتخابات کے نازک وقت میں لانگ مارچ کی کال دینا بھی ایک حکمت عملی کا حصہ تھا۔ مقصد واضح تھا: جمہوری عمل کو درہم برہم کیا جائے، انتخابی ماحول کو خوف زدہ کیا جائے اور ووٹرز کو گھروں میں بند رکھا جائے۔ لیکن عوام نے اس سازش کو ناکام بنا دیا۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ آزاد کشمیر کا باشعور شہری سڑکوں پر لگائے گئے نعروں کو نہیں بلکہ بیلٹ بکس میں ڈالے گئے ووٹ کو اپنی اصل طاقت سمجھتا ہے۔

جمہوریت کا اصل حسن یہی ہے کہ ہر سیاسی اختلاف کا حل آئینی راستے سے نکالا جائے۔ اگر JAAC کے مطالبات جائز تھے تو انتخاب میں حصہ لینا، عوامی حمایت حاصل کرنا اور اسمبلی میں آواز اٹھانا واحد درست طریقہ تھا۔ احتجاج ہر جمہوری نظام کا حق ہے لیکن جب احتجاج پرتشدد تصادم، قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے تک پہنچ جائے تو یہ جمہوری حق نہیں رہتا بلکہ قانونی جرم بن جاتا ہے جسے عدالتوں کو طے کرنا ہے نہ کہ سیاسی جواز سے ڈھانکا جائے۔

یہ انتخابات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب سیاسی منظر نامے میں بڑی تبدیلیاں آ چکی ہیں اور متعدد جماعتیں بھرپور انداز میں انتخابی میدان میں موجود ہیں۔ اس میں بھی جمہوریت کی خوبصورتی ہے کہ عوام کے سامنے انتخاب کا حق موجود ہو۔ انتخابی نتائج نے ثابت کیا کہ آزاد کشمیر کے عوام کا مستقبل احتجاجی انتشار میں نہیں بلکہ آئین اور جمہوری انتخابات میں پنہاں ہے۔

آزاد کشمیر کے عوام نے آج ایک تاریخی پیغام دیا ہے: بیلٹ، بُلٹ پر غالب ہے اور جمہوریت، انتشار پر ہمیشہ فتح یاب ہوتی ہے۔

 

 

اعلان دستبرداری
اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔

 

Author

  • Prof. Dr. Ghulam Mujaddid

    ڈاکٹر مجدد نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ وہ تین ماسٹرز ڈگریوں اور اسٹریٹجک اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی کے حامل ہیں۔ وہ پاکستان ایئر فورس میں ۳۳ سال خدمات انجام دینے والے سابق کمیشنڈ آفیسر بھی رہ چکے ہیں۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔