سعودی عرب کے شہر طائف پر حوثی ڈرون حملے نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ یمن کا تنازع اب صرف یمن کی سرحدوں تک محدود مسئلہ نہیں رہا۔ 17 ستمبر کو سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاع نے ایک حوثی ڈرون کو فضا میں تباہ کیا، تاہم اس کا ملبہ شہری علاقے میں گرنے سے ایک یمنی باشندہ جاں بحق ہوگیا جبکہ ایک سعودی خاتون اور ایک پاکستانی شہری زخمی ہوئے۔ پاکستانی شہری کی حالت تشویش ناک بتائی گئی۔ اس واقعے میں عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ ایسے واقعات کا سب سے افسوس ناک پہلو یہی ہے کہ علاقائی تنازعات کی قیمت بالآخر عام شہریوں کو اپنی جان، صحت اور روزگار کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔
پاکستان نے طائف حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب اور اس کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے حملے میں یمنی باشندے کی ہلاکت اور سعودی و پاکستانی شہریوں کے زخمی ہونے پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسے ایسا اشتعال انگیز اقدام قرار دیا جو بے گناہ جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے ساتھ علاقائی امن اور سلامتی کو بھی متاثر کرتا ہے۔ پاکستان کا یہ مؤقف اسلام آباد اور ریاض کے دیرینہ تعلقات کے وسیع تر تناظر سے بھی جڑا ہوا ہے۔ پاکستان مسلسل سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کی حمایت کرتا آیا ہے اور خطے میں ایسی کسی بھی کشیدگی سے گریز پر زور دیتا ہے جو مزید انسانی نقصان کا باعث بن سکتی ہو۔
طائف کا واقعہ الگ تھلگ پیش آنے والا حادثہ نہیں بلکہ حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے خلاف بڑھتی ہوئی ڈرون اور میزائل سرگرمیوں کے سلسلے کا حصہ ہے۔ سعودی شہروں، بنیادی ڈھانچے اور توانائی کی تنصیبات کو لاحق خطرات نے صورتحال کو زیادہ حساس بنا دیا ہے۔ سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں فضائی خطرات کے انتباہات جاری کیے گئے جبکہ یمن کے مغربی ساحل پر لڑائی میں اضافے نے ایک نئے علاقائی بحران کے خدشات پیدا کیے ہیں۔ جنگ کے اس مرحلے میں کسی ایک حملے کو صرف فوجی کارروائی سمجھنا کافی نہیں، کیونکہ ڈرون یا میزائل کا ہر استعمال شہری آبادی، ہوائی سفر، توانائی کی تنصیبات اور خطے میں موجود لاکھوں غیر ملکی کارکنوں کے لیے براہ راست خطرہ پیدا کرتا ہے۔
اس کشیدگی کا ایک اور اہم پہلو باب المندب ہے، جو دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔ یمن کے مغربی ساحل پر حوثیوں کی پیش قدمی اور اس اہم آبی راستے کے آس پاس بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمی نے بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی 15 ستمبر کو سلامتی کونسل میں خبردار کیا کہ باب المندب اور اس کے گرد و نواح کی صورتحال تیزی سے غیر مستحکم ہو رہی ہے۔ یہ راستہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملاتا ہے، اس لیے یہاں بدامنی صرف یمن یا سعودی عرب کا مسئلہ نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی رسد تک اس کے اثرات پہنچ سکتے ہیں۔
حوثی حملوں میں توسیع اس لیے بھی تشویش کا باعث ہے کہ مشرق وسطیٰ پہلے ہی متعدد تنازعات اور سیاسی کشیدگیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ اس ماحول میں سعودی عرب کے شہری علاقوں پر ڈرون یا میزائل حملوں کا تسلسل ردعمل اور جوابی ردعمل کا ایسا سلسلہ شروع کر سکتا ہے جس پر قابو پانا مشکل ہو جائے۔ یمن کے اندر حالیہ لڑائی کے نتیجے میں انسانی بحران بھی شدید ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق ایک لاکھ سے زیادہ افراد حالیہ تشدد کے باعث اندرون ملک بے گھر ہوئے جبکہ ہزاروں افراد سمندر کے راستے جبوتی جانے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ہر نئی عسکری کشیدگی بالآخر یمنی عوام کے مصائب میں مزید اضافہ کرتی ہے۔
پاکستان کے لیے یہ معاملہ کئی سطحوں پر اہم ہے۔ سعودی عرب میں بڑی تعداد میں پاکستانی شہری کام کرتے ہیں اور ان کی سلامتی اسلام آباد کے لیے براہ راست تشویش کا معاملہ ہے۔ طائف کے حملے میں ایک پاکستانی شہری کا شدید زخمی ہونا اس خطرے کو محض سفارتی یا جغرافیائی بحث سے نکال کر انسانی سطح پر سامنے لے آتا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب پاکستان کا اہم علاقائی شراکت دار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہری سلامتی کے حوالے سے پاکستان کا واضح مؤقف اس کے وسیع تر سفارتی تعلقات کا تسلسل دکھائی دیتا ہے۔
لیکن سعودی عرب سے یکجہتی کے ساتھ پاکستان کے مؤقف کا دوسرا اہم حصہ کشیدگی میں کمی اور سیاسی حل کی حمایت ہے۔ یمن کی طویل جنگ یہ ثابت کر چکی ہے کہ فوجی طاقت کے ذریعے دیرپا استحکام حاصل کرنا انتہائی مشکل ہے۔ اقوام متحدہ بھی بار بار اس امر پر زور دے رہی ہے کہ یمن کے بحران کا پائیدار حل ایک جامع، یمنی قیادت میں اور یمنی عوام کی ملکیت والے سیاسی عمل سے ہی ممکن ہے۔ جولائی میں اقوام متحدہ نے سلامتی کونسل کو بتایا تھا کہ مذاکرات اور اقوام متحدہ کی سرپرستی میں سیاسی سمجھوتے کا کوئی قابل عمل متبادل موجود نہیں۔
اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ شہری علاقوں، توانائی کے مراکز اور بین الاقوامی بحری راستوں کو عسکری دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے سے گریز کیا جائے۔ حوثی حملوں کا فوری خاتمہ نہ صرف سعودی شہریوں اور وہاں مقیم غیر ملکیوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے بلکہ یمن کے اپنے عوام کے لیے بھی اہم ہے، کیونکہ ہر نئی کارروائی مزید جوابی حملوں اور انسانی بحران کے گہرے ہونے کا خطرہ پیدا کرتی ہے۔
طائف میں ہونے والا جانی نقصان ایک یاد دہانی ہے کہ میزائل اور ڈرون جنگوں میں نقشے پر بنائے گئے اہداف کے پیچھے حقیقی انسان موجود ہوتے ہیں۔ ایک یمنی باشندے کی جان چلی گئی، ایک سعودی شہری زخمی ہوئی اور ایک پاکستانی زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے۔ خطے کو مزید محاذوں کی نہیں بلکہ ذمہ دارانہ سفارت کاری، فوری کشیدگی میں کمی اور سنجیدہ مذاکرات کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی اور اقوام متحدہ کی سرپرستی میں جامع یمنی سیاسی عمل کی حمایت اسی سمت میں ایک واضح سفارتی مؤقف کی عکاسی کرتی ہے۔
Author
-
View all posts
Muhammad Sudais is pursuing a PhD in International Relations, with a research focus on United States interests and strategic engagement in Asia. His academic work examines American foreign policy, regional power competition, security dynamics, and the evolving geopolitical importance of Asia within the broader international system.