پاکستانی سیاست میں ایک عجیب روایت پختہ ہوتی جا رہی ہے پہلے جذباتی اور اشتعال انگیز الفاظ سے عوام کو گرمایا جاتا ہے، پھر اس آگ میں تشدد کی لپٹیں اٹھتی ہیں، اور بعد میں پارٹی سرکاری طور پر کہتی ہے کہ "ہمارا تشدد سے کوئی تعلق نہیں۔” تحریک انصاف کے رہنما جنید اکبر کی اسلام آباد کو "سومنات” بنانے اور تباہ کرنے کی تقریر اور اس کے بعد رونما ہونے والے واقعات اسی سوچی سمجھی روش کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔
"سومنات” کا لفظ کوئی معصوم استعارہ نہیں۔ تاریخی طور پر سومنات ہندوستان کا وہ مقام ہے جسے صدیوں پرانی جنگوں میں تباہ کیا گیا تھا۔ کسی سیاسی رہنما کا پاکستان کے دارالحکومت کے لیے ایسا لفظ استعمال کرنا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ یہ ایک باقاعدہ دعوتِ تشدد ہے جسے خوبصورت الفاظ کے پردے میں چھپانے کی کوشش کی گئی۔ جب کوئی رہنما کسی شہر کو "تباہ” کرنے کی بات کرتا ہے تو وہ محض بیانیہ نہیں بناتا بلکہ وہ اپنے کارکنوں کو ایک نفسیاتی اجازت نامہ دیتا ہے۔
اور یہ اجازت نامہ بہت جلد استعمال ہوا۔ مالاکنڈ اور سوات سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی شکیل خان کی موجودگی میں ان کے محافظوں نے لیویز اہلکاروں پر فائرنگ کر دی۔ دو سرکاری اہلکار زخمی ہوئے۔ واقعے کی ویڈیوز سامنے آئیں۔ سوال یہ ہے کہ ایک منتخب نمائندے کے گارڈ اپنے آپ فائرنگ پر اتر آتے ہیں یا پھر پس پردہ ماحول پہلے سے تیار کیا گیا تھا؟
یہ واقعہ کوئی اکیلا نہیں کھڑا۔ پی ٹی آئی کی حالیہ سیاسی تاریخ میں پارٹی نے ہمیشہ یہی موقف اپنایا ہے کہ وہ ایک پرامن سیاسی جماعت ہے اور تشدد سے اس کا کوئی تعلق نہیں، لیکن زمینی حقائق اس دعوے کو بار بار چیلنج کرتے رہے ہیں۔ جب رہنما زبان سے آگ لگاتے ہیں اور کارکن اسے عملی شکل دیتے ہیں تو پھر "ہم پرامن ہیں” کہنا بے معنی ہو جاتا ہے۔
ریاست کا ردِعمل بھی اس بار مختلف رہا۔ اعلیٰ سطح پر سخت نوٹس لیا گیا، شکیل خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی، اور قانونی کارروائی شروع ہو گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ یہ درست سمت میں اٹھایا گیا قدم ہے کیونکہ جب ریاست کے محافظ یعنی لیویز اہلکار خود نشانہ بننے لگیں تو سکوت ریاستی کمزوری کا اعلان بن جاتا ہے۔
لیکن یہاں ایک اہم سوال ابھرتا ہے: کیا ہم صرف ردِعمل دیکھنا چاہتے ہیں یا اصل مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں؟ اصل مسئلہ اشتعال انگیزی کی وہ ثقافت ہے جو سیاسی جلسوں اور تقاریر میں پروان چڑھائی جا رہی ہے۔
جب کوئی رہنما کسی شہر کو تباہ کرنے کی بات کرتا ہے، جب مذہبی اور تاریخی علامتوں کو سیاسی ہتھیار بنایا جاتا ہے، تو قانون کو حرکت میں آنا چاہیے فائرنگ کے بعد نہیں، بلکہ تقریر کے لمحے سے۔
پاکستان میں پہلے بھی ایسے گروہ موجود رہے ہیں جو الفاظ کو ہتھیار بناتے ہیں۔ ماضی میں خوارج نے بھی پہلے نظریاتی جواز تراشا، پھر تشدد برپا کیا۔ آج اگر کوئی سیاسی پلیٹ فارم پر یہی طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے تاریخی علامتوں سے نفرت پھیلاؤ، ریاستی اداروں کو دشمن قرار دو، پھر جب کارکن تشدد پر اتریں تو لاتعلقی اختیار کرو تو یہ محض سیاست نہیں، یہ دہشت گردی کا ایک نیا انداز ہے جو نعروں کی آڑ لیتا ہے۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ دہشت گردی ملک کے لیے ناسور ہے اور اسے ہر صورت ختم کرنا ہوگا۔ تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب پارٹی کی اپنی قیادت اشتعال انگیز تقاریر کر رہی ہو اور پارٹی کے منتخب نمائندوں کی موجودگی میں سرکاری اہلکاروں کو گولیاں لگ رہی ہوں تو یہ لاتعلقی کیوں؟ دہشت گردی کے خاتمے کی بات بیانیوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے اسے اپنے گھر سے شروع کرنا ہوگا۔
جمہوریت میں احتجاج کا حق ہے، اختلاف کا حق ہے، حتیٰ کہ سخت تنقید کا بھی حق ہے۔ لیکن جمہوریت کبھی بھی سرکاری محافظوں پر گولیاں چلانے کا حق نہیں دیتی۔ جمہوریت ریاستی اداروں کو تباہ کرنے کی دعوت دینے کا لائسنس نہیں ہے۔ اور سب سے اہم بات جمہوریت میں ہر بات کا جواب احتجاج سے نہیں، بلکہ قانون اور عدالتوں سے مانگا جاتا ہے۔
پاکستانی عوام سیاسی کشمکش سے تھکے ہوئے ہیں۔ وہ بجلی، مہنگائی، بے روزگاری اور تعلیم جیسے اصل مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ لیکن جب ہر سیاسی جلسہ "تباہی” اور "آگ” کی زبان میں ہو تو عوامی مسائل پسِ پردہ چلے جاتے ہیں اور محض ہنگامہ آرائی باقی رہتی ہے۔ یہ سیاست کی ناکامی نہیں یہ ایک منظم حکمتِ عملی ہے جو اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے تشدد کو سیاسی آلے کے طور پر استعمال کرتی ہے۔
لیویز اہلکار جو زخمی ہوئے وہ کوئی سیاسی کردار نہیں تھے وہ عام پاکستانی تھے جو اپنا فرض ادا کر رہے تھے۔ ان کا خون سیاسی بیانیوں کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ ریاست کا فرض ہے کہ وہ ایسے ہر عنصر کو چاہے وہ جس بھی پارٹی سے ہو قانون کے کٹہرے میں لائے اور یہ واضح پیغام دے کہ پاکستان میں سیاسی قوت کا معیار ووٹ ہے، گولی نہیں۔
Author
-
View all postsڈاکٹر محمد منیر ایک معروف اسکالر ہیں جنہیں تحقیق، اکیڈمک مینجمنٹ، اور مختلف معروف تھنک ٹینکس اور یونیورسٹیوں میں تدریس کا 26 سال کا تجربہ ہے۔ انہوں نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس اینڈ سٹریٹیجک سٹڈیز (DSS) سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔