غزہ کی تباہی کو محض اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ قرار دینا حقیقت کو چھپانے کے مترادف ہے۔ یہ ایک ایسا انسانی المیہ ہے جس میں فلسطینی شہری مسلسل بمباری، جبری نقل مکانی، بھوک، بیماری اور بنیادی سہولتوں کی تباہی کا سامنا کر رہے ہیں۔ مگر اس تباہی کے پیچھے صرف وہ ہاتھ نہیں جو براہِ راست بم گراتے یا توپیں چلاتے ہیں؛ وہ ریاستیں اور کمپنیاں بھی اخلاقی اور قانونی سوالات کی زد میں آتی ہیں جو اس جنگی مشین کو اسلحہ، پرزے، گولہ بارود اور مالی وسائل فراہم کرتی ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی 30 جولائی 2026 کو جاری ہونے والی تحقیقات نے بھارت کے اسی کردار کو بے نقاب کیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے 30 نومبر 2025 تک بھارت سے اسرائیل کو اسلحے، گولہ بارود، فوجی پرزوں اور متعلقہ اجزا کی کم از کم 2,596 کھیپیں بھیجی گئیں۔ یہ کوئی معمولی تجارتی سرگرمی یا غیر واضح دفاعی تعاون نہیں تھا۔ تحقیق میں صرف ان کھیپوں کو شامل کیا گیا جن کا فوجی استعمال واضح تھا، جبکہ ممکنہ شہری استعمال اور میزائل شکن دفاعی نظام سے متعلق سامان کو جان بوجھ کر الگ رکھا گیا۔ اس محتاط طریقۂ تحقیق کے باوجود سامنے آنے والے اعداد بھارت کی گہری شمولیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی کمپنیوں نے فوجی درجے کی مشین گنوں کے لیے کم از کم 390,516 چھوٹے ہتھیاروں کے پرزے فراہم کیے۔ اس کے علاوہ دھماکا خیز اسلحے سے متعلق 564,970 اجزا بھی اسرائیل پہنچائے گئے، جن میں ڈرون وارہیڈ، توپوں کے گولوں کے خول اور دیگر جنگی پرزے شامل تھے۔ فوجی گاڑیوں کے 298 اجزا بھی ایسی اسرائیلی کمپنیوں کو بھیجے گئے جو براہِ راست اسرائیلی فوج کو سامان فراہم کرتی ہیں۔ ان اعداد کو محض تجارتی ریکارڈ سمجھنا ان انسانی جانوں کو نظرانداز کرنا ہے جن کے خلاف یہی آلات استعمال ہونے کا واضح خطرہ موجود تھا۔
بھارتی کمپنیوں نے اسرائیلی اسلحہ ساز ادارے ایلبٹ سسٹمز کو 155 ملی میٹر کے شدید دھماکا خیز توپ خانے کے گولے فراہم کیے۔ اسکائی اسٹرائیکر نامی خودکش یا چکر لگانے والے جنگی ڈرون کے لیے دھماکا خیز وارہیڈ بھی بھارت سے بھیجے گئے۔ ایمنسٹی کے مطابق اسی نوعیت کے ڈرون کا ملبہ غزہ کے علاقے خان یونس میں پایا گیا۔ یہ حقیقت بھارت کے اس مؤقف کو کمزور کرتی ہے کہ اس کا اسرائیل سے دفاعی تعاون صرف عمومی صنعتی شراکت داری یا قومی سلامتی تک محدود ہے۔ جب فراہم کردہ اجزا جنگ زدہ علاقوں میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں سے مماثلت رکھتے ہوں تو لاعلمی کا دعویٰ ناقابلِ اعتبار بن جاتا ہے۔
اسلحے کی اس ترسیل میں صرف نجی سرمایہ کار شامل نہیں تھے۔ بھارت کی سرکاری ملکیت میں کام کرنے والی میونیشنز انڈیا لمیٹڈ نے شدید دھماکا خیز توپ خانے کے گولے تیار کیے۔ پی ایل آر سسٹمز، جو اڈانی ڈیفنس اور اسرائیل ویپن انڈسٹریز کا مشترکہ منصوبہ ہے، نے مشین گنوں کے پرزے بنائے۔ بھارت فورج کی ذیلی کمپنی کلیانی سسٹمز نے توپ خانے کے گولے اور ان کے خول تیار کیے، جبکہ الفا ایلسیک، جو ایلبٹ سسٹمز کے ساتھ مشترکہ منصوبہ ہے، دھماکا خیز وارہیڈ کی تیاری میں شامل رہی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بھارتی ریاست اور اس کے بڑے دفاعی کاروباری گروہ اسرائیلی جنگی صنعت کے ساتھ ایک مربوط سپلائی نظام تشکیل دے چکے ہیں۔
یہ سامان ایلبٹ سسٹمز، رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز اور اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز جیسے اداروں کو پہنچایا گیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل ان کمپنیوں کو اسرائیلی فوج کے لیے ڈرون، میزائل، نگرانی کے نظام اور دیگر فوجی سازوسامان فراہم کرنے والے اہم اداروں میں شمار کرتی ہے۔ ایسے میں بھارتی کمپنیوں کا یہ کہنا کافی نہیں کہ انہوں نے سامان صرف تجارتی معاہدوں کے تحت فروخت کیا۔ کاروباری ذمہ داری کا اصول تقاضا کرتا ہے کہ کمپنیاں اپنی مصنوعات کے ممکنہ استعمال، انسانی حقوق پر اثرات اور جنگی جرائم میں تعاون کے خطرے کا پہلے سے جائزہ لیں۔
عالمی عدالتِ انصاف نے جنوری، مارچ اور مئی 2024 میں عبوری احکامات جاری کرتے ہوئے فلسطینیوں کے ان حقوق کو لاحق حقیقی اور فوری خطرے کی نشاندہی کی جو نسل کشی کی روک تھام کے عالمی معاہدے کے تحت محفوظ ہیں۔ عدالت نے اسرائیل کو نسل کشی کے دائرے میں آنے والے اقدامات روکنے، انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنانے اور متعلقہ شواہد محفوظ رکھنے کے اقدامات کا حکم دیا۔ اگرچہ مقدمے کا حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے، لیکن ان عبوری احکامات کے بعد کسی بھی ریاست کے لیے اسرائیل کو مسلسل جنگی سامان فراہم کرنا سنگین قانونی اور اخلاقی خطرات پیدا کرتا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکریٹری جنرل اگنیس کالامارڈ نے بجا طور پر کہا کہ بھارتی حکام معتبر طور پر یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ انہیں اپنے اسلحے کی منتقلی سے پیدا ہونے والے خطرات کا علم نہیں تھا۔ غزہ کی تباہی دنیا کے سامنے مسلسل نشر ہوتی رہی، اس کے باوجود بھارت نے اپنی دفاعی شراکت داری محدود کرنے کے بجائے مزید گہری کی۔ ایمنسٹی نے بھارتی حکومت اور رپورٹ میں نامزد نو کمپنیوں سے جون اور جولائی 2026 میں وضاحت طلب کی، مگر رپورٹ کی اشاعت تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ نئی دہلی کی یہ خاموشی شکوک دور کرنے کے بجائے انہیں مزید مضبوط کرتی ہے۔
بھارت نے اسلحہ تجارت کے عالمی معاہدے پر نہ دستخط کیے ہیں اور نہ اس میں شمولیت اختیار کی ہے۔ اس کے برآمدی نظام میں انسانی حقوق کی لازمی جانچ، مؤثر شفافیت اور جواب دہی کا فقدان بھی نمایاں ہے۔ جب ریاست خود اہم اسلحہ ساز کمپنیوں کی مالک یا نگران ہو تو نجی کاروبار کا بہانہ اپنی معنویت کھو دیتا ہے۔ ایسے نظام میں منافع حکومت، صنعت اور خارجہ پالیسی کے درمیان ایک ایسا رشتہ قائم کردیتا ہے جس میں فلسطینی جانوں کی قیمت تجارتی آمدنی اور تزویراتی شراکت داری کے مقابلے میں ثانوی بن جاتی ہے۔
بھارت طویل عرصے سے خود کو فلسطینی حقِ خود ارادیت کا حامی اور عالمی جنوب کی آواز قرار دیتا آیا ہے، مگر غزہ کے معاملے میں اس کے اقدامات اس تاریخی دعوے سے متصادم ہیں۔ فلسطینیوں کے حق میں رسمی بیانات اس وقت بے معنی ہوجاتے ہیں جب بھارتی کارخانوں سے نکلنے والے ہتھیاروں کے اجزا اسرائیلی جنگی اداروں تک پہنچ رہے ہوں۔ غیر جانب داری کا مطلب یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک طرف امن کی بات کی جائے اور دوسری طرف تباہی کے آلات فراہم کیے جائیں۔
غزہ کے ملبے تلے دفن بچوں، خاندانوں اور شہریوں کی چیخیں عالمی ضمیر کے لیے امتحان ہیں۔ ایمنسٹی کی رپورٹ بھارت کے سامنے بھی ایک واضح سوال رکھتی ہے: کیا دفاعی منافع انسانی زندگی، بین الاقوامی قانون اور نسل کشی روکنے کی ذمہ داری سے زیادہ اہم ہے؟ 2,596 کھیپیں، لاکھوں بندوقی پرزے اور پانچ لاکھ سے زائد دھماکا خیز اجزا محض اعداد نہیں؛ یہ اس خاموش شراکت داری کا ریکارڈ ہیں جس نے اسرائیلی جنگی نظام کو فعال رکھا۔ بھارت کو فوری طور پر اسرائیل کے لیے اسلحے اور فوجی پرزوں کی برآمد روکنی، شفاف تحقیقات کرانی اور ذمہ دار کمپنیوں کا احتساب کرنا چاہیے۔ ورنہ تاریخ نئی دہلی کو خاموش تماشائی نہیں بلکہ غزہ کی تباہی سے فائدہ اٹھانے والے ایک باخبر معاون کے طور پر یاد رکھے گی۔
Author
-
View all posts
حسین جان کے علمی مفادات بین الاقوامی سلامتی، جغرافیائی سیاسی حرکیات، اور تنازعات کے حل میں ہیں، خاص طور پر یورپ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے۔ انہوں نے عالمی تزویراتی امور سے متعلق مختلف تحقیقی فورمز اور علمی مباحثوں میں حصہ ڈالا ہے، اور ان کا کام اکثر پالیسی، دفاعی حکمت عملی اور علاقائی استحکام کو تلاش کرتا ہے۔