Nigah

بدخشاں میں مزاحمت کی شدت

[post-views]

افغانستان میں طالبان نے اگست 2021 میں اقتدار سنبھالتے وقت یہ تاثر دیا تھا کہ جنگ ختم ہو چکی ہے، ریاست پر ان کا مکمل کنٹرول قائم ہو گیا ہے اور ملک میں کسی منظم مزاحمت کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ تاہم بدخشاں، پنجشیر، بغلان، تخار اور دیگر صوبوں میں حالیہ مسلح سرگرمیاں اس دعوے کو مسلسل کمزور کر رہی ہیں۔ خاص طور پر ضلع زیباک میں افغانستان فریڈم فرنٹ کی کارروائی اور یفتل میں مزاحمتی جنگجوؤں کی پیش قدمی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ طالبان کی عسکری بالادستی نہ تو ناقابلِ چیلنج ہے اور نہ ہی ان کا سیاسی اقتدار اتنا مضبوط ہے جتنا کابل کی قیادت ظاہر کرتی ہے۔

افغانستان فریڈم فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ زیباک میں ایک بڑے حملے کے دوران اکیس طالبان جنگجو مارے گئے، جن میں متعدد کمانڈر بھی شامل تھے، جبکہ سینتیس دیگر زخمی ہوئے۔ مزاحمتی جنگجوؤں نے سرحدی چوکی کے گرد واقع بلند مقامات سے طالبان دستوں کو پسپا کیا اور اہم دفاعی پوزیشنوں پر قبضہ کر لیا۔ طالبان فورسز نے ان علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کی کئی کوششیں کیں، لیکن مزاحمت کے مطابق تمام حملے ناکام رہے۔ اگرچہ جنگی حالات میں فریقین کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ہمیشہ مشکل ہوتی ہے، تاہم مسلسل جھڑپیں اور طالبان کی اضافی نفری کی تعیناتی اس بات کا ثبوت ہیں کہ صورتحال محض ایک معمولی سکیورٹی واقعہ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ عسکری چیلنج بن چکی ہے۔

جھڑپوں کے دوران طالبان کے سینئر سرحدی کمانڈر فریداللہ وحدت کی ہلاکت بھی حکومت کے لیے ایک اہم دھچکا ہے۔ کسی بھی مسلح نظام میں کمانڈر صرف ایک فرد نہیں ہوتا بلکہ وہ مقامی فورسز، انٹیلی جنس نیٹ ورک، رسد اور سیاسی اثرورسوخ کے درمیان رابطے کا مرکز ہوتا ہے۔ ایک تجربہ کار کمانڈر کی ہلاکت نہ صرف عملی سطح پر طالبان کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے بلکہ دیگر اہلکاروں کے حوصلے پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔ طالبان کی طاقت بڑی حد تک خوف اور ناقابلِ شکست ہونے کے تصور پر قائم ہے۔ جب اہم کمانڈر مارے جائیں، چوکیوں پر قبضہ ہو اور دوبارہ قبضے کی کوششیں ناکام ہوں تو یہ تصور تیزی سے کمزور پڑنے لگتا ہے۔

بدخشاں میں مزاحمت کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اب طالبان مخالف سرگرمیاں صرف پنجشیر اور اندراب تک محدود نہیں رہیں۔ کابل، بغلان، تخار، کندوز، کاپیسا، بلخ، ہرات اور بدخشاں میں مختلف مزاحمتی گروہوں کی موجودگی یا کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ یہ گروہ ابھی تک ایک متحد قومی قوت نہیں بن سکے اور ان کی تنظیمی اور عسکری صلاحیتیں بھی یکساں نہیں، لیکن ان کا جغرافیائی پھیلاؤ طالبان کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہے۔ حکومت کو اب زیادہ علاقوں میں چوکیوں، سرکاری دفاتر، شاہراہوں، سرحدی مراکز اور انٹیلی جنس تنصیبات کی حفاظت کرنا پڑ رہی ہے۔ اس سے افرادی قوت تقسیم ہوتی ہے، اخراجات بڑھتے ہیں اور طالبان کی مقامی سطح پر حکمرانی مزید کمزور ہوتی ہے۔

حالیہ دنوں میں سپاہیانِ میہن نامی گروہ نے یفتل ضلع کے مرکزی سرکاری دفتر، پولیس مرکز اور انٹیلی جنس تنصیبات پر عارضی قبضہ کیا۔ طالبان نے بعد میں علاقے کا کنٹرول واپس لینے کا دعویٰ کیا، لیکن اس واقعے کی علامتی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ 2021 کے بعد یہ پہلا نمایاں موقع تھا جب کسی مزاحمتی گروہ نے ایک ضلعی مرکز پر قبضہ کیا۔ اگرچہ قبضہ طویل مدت تک قائم نہیں رہا، لیکن اس نے طالبان کے اس بیانیے کو نقصان پہنچایا کہ ملک کے تمام اضلاع ان کے مکمل اور غیر متزلزل کنٹرول میں ہیں۔ ایک ضلعی مرکز کا چند گھنٹوں یا چند دنوں کے لیے بھی ہاتھ سے نکلنا مقامی آبادی کو یہ پیغام دیتا ہے کہ طالبان کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

مزاحمت کی اصل وجہ صرف عسکری نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی بھی ہے۔ طالبان حکومت میں مختلف نسلی گروہوں، مقامی قبائل اور علاقائی آبادیوں کو فیصلہ سازی میں مناسب نمائندگی حاصل نہیں۔ معدنی وسائل، زمین، مقامی محصولات، منشیات کے خلاف کارروائیوں اور حکومتی عہدوں کی تقسیم پر تنازعات نے بھی عوامی بے چینی میں اضافہ کیا ہے۔ بدخشاں جیسے صوبوں میں سونے اور دیگر معدنی وسائل پر کنٹرول ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔ جب مقامی لوگوں کو یہ محسوس ہو کہ ان کے وسائل پر باہر سے آنے والے اہلکار قابض ہیں اور انہیں معاشی فائدہ یا سیاسی اختیار نہیں مل رہا تو ناراضی مزاحمت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

طالبان نے عوامی شکایات کا جواب سیاسی مذاکرات یا اصلاحات سے دینے کے بجائے زیادہ تر گرفتاریوں، چھاپوں، دھمکیوں اور اجتماعی حراست سے دیا ہے۔ صحافیوں، سابق سرکاری اہلکاروں، سماجی کارکنوں، خواتین اور سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائیوں نے خوف تو پیدا کیا ہے، لیکن اعتماد پیدا نہیں کیا۔ طاقت کے ذریعے خاموشی قائم کی جا سکتی ہے، رضامندی نہیں۔ ہر غیر قانونی گرفتاری ایک نئے خاندان کو حکومت سے متنفر کرتی ہے، ہر جبری کارروائی مقامی دشمنی کو بڑھاتی ہے اور ہر سیاسی پابندی پرامن مخالفت کے راستے بند کرتی ہے۔ جب شہریوں کے پاس شکایت کے اظہار کا کوئی قانونی یا سیاسی ذریعہ نہ ہو تو مسلح مزاحمت کے لیے ماحول زیادہ سازگار ہو جاتا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ افغانستان ایک اور طویل جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ مزاحمتی گروہوں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ شہریوں کو نشانہ نہ بنائیں، نسلی انتقام سے گریز کریں اور ایک جامع سیاسی پروگرام پیش کریں۔ محض طالبان مخالف ہونا کافی نہیں؛ افغانستان کو ایسی متبادل سیاست درکار ہے جو تمام قومیتوں، مسالک، خواتین اور سیاسی طبقات کو ساتھ لے کر چل سکے۔ تاہم بنیادی ذمہ داری طالبان پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ ریاستی ادارے، فوجی طاقت اور انتظامی ڈھانچہ انہی کے کنٹرول میں ہے۔

بدخشاں کے واقعات ایک واضح پیغام دے رہے ہیں۔ طالبان نے 2021 میں میدانِ جنگ ضرور جیتا تھا، لیکن افغان عوام کی سیاسی رضامندی حاصل نہیں کی۔ زیباک میں پسپائی، یفتل میں ضلعی مرکز کا سقوط، اہم کمانڈروں کی ہلاکت اور کئی صوبوں میں بڑھتی مسلح سرگرمیاں اس بات کی علامت ہیں کہ طالبان کی حکمرانی اندر سے دباؤ کا شکار ہے۔ عسکری کنٹرول کو سیاسی جواز سمجھنا طالبان کی سب سے بڑی غلطی ہے۔ بندوق علاقے پر قبضہ کر سکتی ہے، لیکن دلوں، شناختوں اور سیاسی وفاداریوں کو ہمیشہ کے لیے قابو میں نہیں رکھ سکتی۔ طالبان ابھی اقتدار میں ہیں، لیکن افغانستان کی سیاسی جنگ میں ان کی گرفت مسلسل کمزور ہو رہی ہے۔

Author

  • انیس الرحمٰن ایک مصنف اور تجزیہ کار ہیں جو اس وقت پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ اردو میں وہ بین الاقوامی تعلقات اور عالمی مسائل میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، اکثر ان موضوعات پر بصیرت انگیز تجزیے لکھتے ہیں۔ ای میل:
    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔