Nigah

بیرونی پشت پناہی، انتشار اور ہائبرڈ جنگ

[post-views]

پاکستان کو درپیش داخلی سلامتی کے چیلنج اب روایتی دہشت گردی تک محدود نہیں۔ جدید ہائبرڈ جنگ میں سیاسی احتجاج، نسلی شکایات، سوشل میڈیا مہمات، گمراہ کن اطلاعات اور مسلح دراندازی کو یکجا کرکے ریاستی اعتماد اور قومی یکجہتی کو کمزور کیا جاتا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کی حالیہ کشیدگی کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ معاشی مسائل یا انتظامی شکایات پر پُرامن احتجاج آئینی حق ہے، لیکن جب کسی تحریک میں مسلح عناصر، دہشت گرد روابط یا بیرونی مفادات کے آثار سامنے آئیں تو معاملہ محض سیاسی اختلاف نہیں رہتا بلکہ قومی سلامتی کا سوال بن جاتا ہے۔

حقوق کے بعض دعوے دار حلقوں کی نمایاں کمزوری ان کا انتخابی غصہ ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں من مانی گرفتاریوں، اظہارِ رائے پر پابندیوں، شہری آزادیوں کی پامالی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف کارروائیوں پر اقوام متحدہ کے ادارے متعدد مرتبہ تشویش ظاہر کر چکے ہیں۔ اسی طرح اقوام متحدہ نے تحریک طالبان پاکستان کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے، جبکہ افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس پاکستان کے لیے مسلسل خطرہ ہیں۔ ایسے میں پاکستان کے ہر انتظامی تنازعے کو ریاستی جبر قرار دینے، مگر بھارتی مظالم اور افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی پر خاموش رہنے والے عناصر کی غیر جانب داری پر سوال اٹھنا فطری ہے۔

پی ٹی ایم کے طرزِ سیاست پر بنیادی اعتراض یہ ہے کہ اس نے جائز مقامی شکایات کو اکثر وسیع تر ریاست مخالف بیانیے سے جوڑا۔ لاپتا افراد، بارودی سرنگوں، پولیس رویے یا انتظامی محرومی جیسے مسائل کا حل پارلیمان، عدالت، تحقیقاتی کمیشن اور سیاسی مذاکرات میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔ تاہم جب مخصوص علاقوں کی مشکلات کو تمام پشتونوں کے خلاف منظم ریاستی منصوبہ قرار دیا جائے تو نسلی عدم اعتماد بڑھتا ہے۔ ریاست نے اکتوبر 2024 میں پی ٹی ایم کو ممنوعہ تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ اس فیصلے پر قانونی یا سیاسی اختلاف ممکن ہے، مگر نسلی شناخت کو مسلسل ریاستی دشمنی کے قالب میں پیش کرنا قومی ہم آہنگی کے لیے خطرناک نتائج پیدا کر سکتا ہے۔

آزاد کشمیر کی مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک ابتدا میں بجلی، آٹے، معاشی سہولتوں اور بعد میں انتخابی نمائندگی جیسے شہری مطالبات سے جڑی رہی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ماضی میں ان مطالبات اور حکومتی ردعمل دونوں پر سوال اٹھائے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ مسئلے کی شہری بنیاد حقیقی تھی۔ تاہم حقیقی شکایت اس امکان کو ختم نہیں کرتی کہ شدت پسند یا بیرونی عناصر اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کریں۔ ہائبرڈ جنگ میں نیا بحران پیدا کرنے کے بجائے موجود شکایت کو بڑھایا، اس کا رخ تبدیل کیا اور اسے ریاست مخالف تصادم میں ڈھالا جاتا ہے۔

جولائی 2026 کے واقعات میں حکام نے الزام عائد کیا کہ کالعدم جے اے اے سی کے احتجاجی کیمپوں میں مسلح افراد اور ٹی ٹی پی سے منسلک عناصر داخل ہو چکے تھے۔ پولیس کے مطابق گرفتار افراد سے خودکار ہتھیار، ایم فور رائفلیں، کلاشنکوفیں اور ممکنہ طور پر نشانہ بازوں کے ہتھیار برآمد ہوئے، جبکہ سکیورٹی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے۔ خبر رساں اداروں نے حکام کے دعوؤں، مسلح افراد کی ویڈیوز اور گرفتار ملزمان کے بیانات کا ذکر کیا، تاہم ان میں سے بعض الزامات کی آزادانہ تصدیق محدود ہے۔ اس لیے ریاست کو تمام ثبوت عدالتوں میں پیش کرکے دہشت گردی اور بیرونی معاونت کے الزامات قابلِ سماعت شواہد سے ثابت کرنا ہوں گے۔ مضبوط جوابی بیانیہ مبالغے سے نہیں بلکہ تصدیق شدہ حقائق سے بنتا ہے۔

مسلح عناصر کی حکمت عملی عموماً یہ ہوتی ہے کہ وہ شہری مظاہرین میں شامل ہوکر فائرنگ کریں، چوکیوں یا سرکاری قافلوں کو نشانہ بنائیں اور ریاست کو سخت ردعمل پر مجبور کریں۔ آزاد کشمیر کے حالیہ تصادم میں حکام نے خودکار ہتھیاروں اور آتش گیر مواد کے استعمال کا الزام عائد کیا، جبکہ پولیس اہلکاروں سمیت دونوں جانب جانی نقصان ہوا۔ بعد ازاں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصاویر کو سیاق و سباق سے الگ کرکے عالمی سطح پر انسانی حقوق کے بیانیے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہی حساب شدہ اشتعال ہائبرڈ جنگ کی مؤثر تکنیک ہے۔ اس کا جواب اندھا دھند طاقت نہیں بلکہ محدود، متناسب اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی، طبی امداد، عوامی رابطہ اور عدالتی نگرانی ہے۔

ریاست کے لیے صفر برداشت کا اصول صرف مسلح تخریب کاری، دہشت گردی، غیر قانونی اسلحے اور بیرونی معاونت یافتہ تشدد تک محدود ہونا چاہیے۔ پُرامن اختلاف، معاشی مطالبات اور آئینی تنقید کو قومی دشمنی قرار دینا مخالف بیانیے کو تقویت دے گا۔ دوسری طرف احتجاج کے نام پر اسلحہ اٹھانے، دہشت گردوں کو پناہ دینے، انتخابی عمل سبوتاژ کرنے یا نسلی نفرت پھیلانے کی اجازت بھی نہیں دی جا سکتی۔ حکومت کو جائز مطالبات پر مذاکرات، انتظامی خامیوں کی اصلاح، بے گناہ گرفتار افراد کی رہائی اور مسلح مجرموں کے خلاف شفاف قانونی کارروائی کرنا ہوگی۔

پاکستان کے خلاف ہائبرڈ جنگ کا توڑ صرف ریاستی طاقت نہیں بلکہ ریاستی ساکھ ہے۔ ساکھ تب بنتی ہے جب حکومت ثبوت عوام کے سامنے رکھے، غلط معلومات کی بروقت تردید کرے اور اپنے اہلکاروں کو بھی قانون کا پابند بنائے۔ پی ٹی ایم، جے اے اے سی یا کسی دوسرے پلیٹ فارم کے بارے میں فیصلہ نعروں سے نہیں بلکہ اس سوال سے ہونا چاہیے کہ کون آئینی سیاست کر رہا ہے اور کون شہری شکایات کو مسلح انتشار میں بدل رہا ہے۔ قومی استحکام کا دفاع ضروری ہے، مگر اس دفاع کی مضبوط ترین بنیاد قانون، انصاف، شفافیت اور عوامی اعتماد ہے۔ بیرونی پشت پناہی سے چلنے والے انتشار کو اسی وقت شکست دی جا سکتی ہے جب ریاست دہشت گردی کے خلاف مضبوط اور شہری حقوق کے معاملے میں منصفانہ نظر آئے۔

Author

  • انیس الرحمٰن ایک مصنف اور تجزیہ کار ہیں جو اس وقت پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ اردو میں وہ بین الاقوامی تعلقات اور عالمی مسائل میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، اکثر ان موضوعات پر بصیرت انگیز تجزیے لکھتے ہیں۔ ای میل:
    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔