آزاد کشمیر کی سیاست اور عوامی مزاحمت کی تاریخ میں عوامی حقوق کے نام پر اٹھنے والی آوازوں کو ہمیشہ ایک خاص اخلاقی طاقت حاصل رہی ہے۔ جب لوگ مہنگائی، بجلی کے بلوں، آٹے کی قیمتوں، ٹیکسوں، روزگار، صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں تو ان کی آواز کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ابتدا میں عوامی سطح پر ایک غیر معمولی پذیرائی حاصل کی۔ عام شہریوں نے اسے اپنی محرومیوں، معاشی دباؤ اور حکومتی بے حسی کے خلاف ایک اجتماعی آواز سمجھا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ سوال شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ کیا یہ تحریک اب بھی عوامی حقوق کے لیے ہے، یا پھر عوامی جذبات کو سیاسی دباؤ، ذاتی اثر و رسوخ اور قیادت کی بقا کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے؟
کسی بھی عوامی تحریک کی اصل طاقت اس کی اخلاقی بنیاد، شفافیت اور عوام کے ساتھ سچائی میں ہوتی ہے۔ اگر تحریک کا مرکز عوام رہیں تو وہ اصلاح کا راستہ کھولتی ہے، مگر جب تحریک کا محور مسلسل دباؤ، شٹر ڈاؤن، الزام تراشی اور منفی بیانیہ سازی بن جائے تو اس کی ساکھ خود بخود سوالات کی زد میں آ جاتی ہے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حالیہ رویّے اسی تشویش کو جنم دے رہے ہیں۔ عوامی مطالبات کو منظم انداز میں حکومت کے سامنے رکھنا ایک جمہوری حق ہے، لیکن ہر معاملے کو تصادم کی طرف لے جانا، ہر پیش رفت کو مسترد کرنا اور ہر ادارے کو شک کی نگاہ سے دیکھنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسئلے کو مزید پیچیدہ بنانے کے مترادف ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کو کئی حقیقی مسائل درپیش ہیں۔ بجلی، آٹا، روزگار، سڑکیں، صحت، تعلیم اور گورننس سے متعلق عوامی شکایات بے بنیاد نہیں ہیں۔ حکومتوں کی ناقص پالیسیوں، تاخیر، بیوروکریسی کی سرد مہری اور سیاسی ترجیحات نے عام آدمی کے اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے۔ مگر اسی حقیقت کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ عوامی مسائل کے نام پر چلنے والی ہر تحریک کو عوام کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے۔ جو قیادت حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کرتی ہے، اسے خود بھی اسی معیار پر پورا اترنا ہوگا۔ اگر قیادت کے فیصلے چند افراد تک محدود ہو جائیں، اگر مذاکرات کے بجائے مسلسل بندشوں کو ترجیح دی جائے، اگر عوام کو صرف جذباتی نعروں کے ذریعے متحرک رکھا جائے، تو پھر یہ سوال فطری ہے کہ اصل مقصد اصلاح ہے یا اثر و رسوخ؟
مکالمہ مسائل کا حل دیتا ہے، جبکہ مسلسل تصادم انہیں پیچیدہ بناتا ہے۔ قیادت کا امتحان یہی ہے کہ وہ راستہ نکالے، نہ کہ راستہ بند کرے۔ احتجاج جمہوری حق ہے، مگر احتجاج کو مستقل سیاسی ہتھیار بنا دینا عوامی مفاد کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ شٹر ڈاؤن، پہیہ جام اور مسلسل کشیدگی کا سب سے بڑا بوجھ اسی عام شہری پر پڑتا ہے جس کے نام پر تحریک چلائی جاتی ہے۔ دکاندار کا کاروبار بند ہوتا ہے، مزدور کی دیہاڑی رکتی ہے، مریض کو ہسپتال پہنچنے میں دشواری ہوتی ہے، طالب علم کی تعلیم متاثر ہوتی ہے، اور معاشی سرگرمی مزید کمزور ہوتی ہے۔ ایسے میں عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ ان کے حقوق کے نام پر ان ہی کی زندگی کیوں مشکل بنائی جا رہی ہے؟
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے بارے میں بڑھتا ہوا تاثر یہ ہے کہ اس کی بعض قیادت نے عوامی مطالبات کو ایک مستقل سیاسی دباؤ میں بدل دیا ہے۔ اگر حکومت کسی مطالبے پر پیش رفت کرے تو اسے ناکافی کہہ کر مسترد کر دیا جاتا ہے، اگر مذاکرات ہوں تو انہیں غیر مؤثر قرار دے دیا جاتا ہے، اور اگر کوئی عملی قدم اٹھے تو اس پر بھی بداعتمادی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اگر ہر پیش رفت کے باوجود صرف نفی کا بیانیہ ہو تو یہ حکمت عملی کم اور مفاداتی سیاست زیادہ لگتی ہے۔ عوامی تحریک کا مقصد حکومت کو درست سمت میں لانا ہونا چاہیے، نہ کہ ہر حال میں حکومت کو ناکام ثابت کرنا۔
عوامی حقوق کے نام پر اگر ذاتی اثر و رسوخ بڑھے تو تحریک اپنی اخلاقی بنیاد کھو دیتی ہے۔ ایک وقت آتا ہے جب عوام نعروں سے آگے بڑھ کر نتائج مانگتے ہیں۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ قیادت نے کیا حاصل کیا، مذاکرات میں کیا طے ہوا، کن نکات پر اتفاق ہوا، کہاں رکاوٹ آئی، اور آئندہ لائحہ عمل کس مشاورت سے بنایا جا رہا ہے۔ اگر یہ سب کچھ شفاف انداز میں عوام کے سامنے نہیں رکھا جاتا تو پھر بداعتمادی جنم لیتی ہے۔ تحریکیں اعتماد سے چلتی ہیں، اور اعتماد شفافیت، نیت اور ذمہ داری سے پیدا ہوتا ہے، شور سے نہیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت عوامی مسائل کو سنجیدگی سے حل کرے، کیونکہ عوامی ناراضی کو صرف بیانات یا انتظامی سختی سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ مگر اسی طرح عوامی قیادت کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر وقت احتجاجی فضا قائم رکھنا معاشرے کو تھکا دیتا ہے۔ عوام کو ریلیف چاہیے، مستقل کشیدگی نہیں۔ انہیں حل چاہیے، نعرہ نہیں۔ انہیں سنجیدہ نمائندگی چاہیے، ذاتی شہرت کی سیاست نہیں۔
آج جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے سامنے سب سے بڑا امتحان یہی ہے کہ وہ اپنے کردار کو واضح کرے۔ اگر اس کا مقصد واقعی عوامی حقوق ہے تو اسے مکالمے، شفافیت، جوابدہی اور عملی نتائج کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ لیکن اگر تحریک صرف دباؤ، منفی بیانیے اور سیاسی اثر و رسوخ کے گرد گھومتی رہی تو عوامی اعتماد کمزور پڑے گا۔ عوام اب صرف یہ نہیں دیکھ رہے کہ کون ان کے نام پر بول رہا ہے، بلکہ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ کون ان کے نام پر اپنا مفاد آگے بڑھا رہا ہے۔ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو الفاظ سے نہیں، عمل سے دینا ہوگا۔
Author
-
View all postsانیس الرحمٰن ایک مصنف اور تجزیہ کار ہیں جو اس وقت پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ اردو میں وہ بین الاقوامی تعلقات اور عالمی مسائل میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، اکثر ان موضوعات پر بصیرت انگیز تجزیے لکھتے ہیں۔ ای میل: