Nigah

ریلیف اور ترقی کے باوجود JAAC کا احتجاج: آزاد کشمیر میں انتشار کی سیاست

[post-views]

 

آزاد جموں و کشمیر کی سیاست ایک بار پھر ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) نے 9 جون کو ریاست گیر ہڑتال اور مظفرآباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔ بظاہر یہ عوامی حقوق کی آواز لگتی ہے، مگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ جب حکومت نے معاہدے پر عملدرآمد شروع کر دیا ہو، ترقیاتی منصوبے آگے بڑھ رہے ہوں اور عوامی ریلیف فراہم کیا جا چکا ہو، تو پھر ہڑتال کا جواز کیا ہے؟

معاہدے کی حقیقت اور عملدرآمد

اکتوبر 2025 میں وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر وفاقی وزراء اور JAAC کے درمیان 25 نکاتی معاہدہ طے پایا، جسے وفاقی وزیر احسن اقبال نے "پاکستان، آزاد کشمیر اور جمہوریت کی جیت” قرار دیا۔ یہ معاہدہ محض کاغذی نہیں تھا؛ اس میں ٹھوس وعدے شامل تھے۔ بجلی کے نظام کی بہتری کے لیے 10 ارب روپے، اسپتالوں میں آپریشن تھیٹر اور نرسریز، مظفرآباد اور پونچھ میں دو نئے تعلیمی بورڈ، میرپور متاثرہ خاندانوں کو زمین کا قبضہ، پلوں کی تعمیر، واٹر سپلائی اسکیموں کی فزیبلٹی جیسے اقدامات اس معاہدے کا حصہ تھے۔ اس پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے اعلیٰ سطحی مانیٹرنگ کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔

یہ حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت نے تصادم کے بجائے مکالمے کو ترجیح دی اور عوامی مطالبات کے جواب میں ٹھوس اقدامات کیے۔ سوال یہ ہے کہ جب پیش رفت ہو رہی ہو تو احتجاج کی ضد کس کے مفاد میں ہے؟

احتجاج کی نئی نوعیت: عوامی یا سیاسی؟

JAAC کا احتجاجی سفر تین سال سے جاری ہے۔ ابتدا میں یہ تحریک عوامی مسائل، بجلی کے نرخوں اور بنیادی حقوق کی حقیقی آواز تھی، اور عوام نے بڑے پیمانے پر اس کی حمایت کی۔ مگر اب جب حکومت نے معاہدے پر دستخط کیے اور عملدرآمد شروع ہوا، تو احتجاج کا جاری رہنا ایک مختلف تاثر دیتا ہے۔ اب یہ لگتا ہے کہ اصل ہدف عوامی ریلیف کم اور سیاسی دباؤ زیادہ ہے۔

قابل غور بات یہ ہے کہ JAAC نے اپنے مراسلے میں یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ 31 مئی تک مذاکراتی عمل کو نتیجہ خیز بنانے کی کوشش جاری رکھیں گے، یعنی خود کمیٹی جانتی ہے کہ مکالمے کی گنجائش موجود ہے۔ پھر 9 جون کی ہڑتال کا اعلان محض دباؤ کی حکمت عملی کے سوا کیا ہے؟

ہڑتال کا نقصان: کسے اور کتنا؟

ہڑتال اور بندش کا سب سے زیادہ نقصان ہمیشہ عام آدمی کو ہوتا ہے، جو روزانہ کی اجرت پر گزارہ کرتا ہے۔ دکاندار، محنت کش، کاریگر اور چھوٹے کاروباری وہ لوگ ہیں جو ہڑتال کی قیمت چکاتے ہیں، جبکہ احتجاج کی قیادت کرنے والے اس قیمت سے محفوظ رہتے ہیں۔ آزاد کشمیر کا خطہ پہلے ہی معاشی طور پر نازک صورتحال میں ہے؛ بار بار ہڑتالیں سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع کو دور کرتی ہیں۔

سیاسی بلوغت کا تقاضا

جمہوریت میں احتجاج ایک بنیادی حق ہے، مگر اس حق کے ساتھ ذمہ داری بھی لازم ہے۔ جب حکومت میز پر آئے، معاہدہ کرے اور عملدرآمد بھی کرے، تو سیاسی بلوغت کا تقاضا ہے کہ احتجاج کو مکالمے میں بدلا جائے۔ اگر کوئی مطالبہ ابھی تک ادھورا ہے تو اس کا راستہ مانیٹرنگ کمیٹی، عدالت اور پارلیمانی فورم ہے، نہ کہ سڑکیں بند کرنا اور کاروبار ٹھپ کرنا۔

یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ JAAC کے 38 نکاتی چارٹر میں جو مطالبات اب تک زیر التوا ہیں، کیا ان کے لیے پرامن اور قانونی ذرائع ختم ہو گئے ہیں؟ جواب نہیں میں ہے۔ مذاکراتی دروازے کھلے ہیں۔

عوام کیا چاہتے ہیں؟

آزاد کشمیر کا عام شہری امن، روزگار، صحت، تعلیم اور ترقی چاہتا ہے۔ وہ اپنے بچوں کے لیے بہتر اسپتال، اپنی دکان کے لیے سستی بجلی اور اپنے گھر کے لیے صاف پانی چاہتا ہے۔ یہ تمام مطالبات معاہدے کا حصہ بنے اور ان پر کام شروع ہوا۔ ایسے میں جو ہڑتال عوام کو روزی سے محروم کرے، اسپتال تک پہنچنے کا راستہ بند کرے اور سکول بند کروائے، وہ عوامی خدمت نہیں ہو سکتی۔

عوام اب نعروں اور جذباتی اپیلوں سے تھک چکے ہیں۔ وہ نتائج دیکھنا چاہتے ہیں؛ اور نتائج صرف استحکام، امن اور بلاتعطل ترقی سے ممکن ہیں۔

آزاد کشمیر کو کیا چاہیے؟

آزاد کشمیر کو اس وقت تعمیر کی ضرورت ہے، تخریب کی نہیں۔ اتحاد کی ضرورت ہے، انتشار کی نہیں۔ ذمہ دار قیادت کی ضرورت ہے، جو عوام کے حقیقی مفاد میں سوچے۔ جب ترقیاتی منصوبے آگے بڑھ رہے ہوں تو انہیں سیاسی ضد کے لیے روکنا عوام کے ساتھ انصاف نہیں۔

وقت آ گیا ہے کہ JAAC اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرے۔ ضد اور محاذ آرائی کی جگہ پختہ مکالمے کو اپنایا جائے۔ جو مطالبات ابھی تک پورے نہیں ہوئے، ان کے لیے قانونی اور آئینی راستے اختیار کیے جائیں۔ اور جو عملدرآمد ہو رہا ہے، اسے تسلیم کرتے ہوئے عوام کو اعتماد دیا جائے کہ تحریک نعروں کی نہیں، نتائج کی سیاست کرتی ہے۔

آزاد کشمیر کے عوام ہوشیار ہیں۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ کون ان کی خاطر لڑ رہا ہے اور کون انہیں اپنی سیاسی بقا کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ تاریخ ایسے رہنماؤں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے عوام کو بااختیار بنایا، نہ کہ انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔

اعلان دستبرداری
اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔

Author

  • انیس الرحمٰن ایک مصنف اور تجزیہ کار ہیں جو اس وقت پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ اردو میں وہ بین الاقوامی تعلقات اور عالمی مسائل میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، اکثر ان موضوعات پر بصیرت انگیز تجزیے لکھتے ہیں۔ ای میل:
    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔