ایک معتبر عالمی جریدے نے حال ہی میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ’’مردِ آہن‘‘ اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ’’قدرتی شراکت دار‘‘ قرار دیا ہے۔ یہ جملہ سننے میں سادہ معلوم ہوتا ہے لیکن اس کے پیچھے عالمی سیاست کے کئی پہلو چھپے ہوئے ہیں۔ یہ محض ایک تعریف نہیں بلکہ مستقبل کے تعلقات، طاقت کے توازن اور خطے کے بدلتے ہوئے حالات کی ایک جھلک بھی ہے۔
عاصم منیر کو ’’مردِ آہن‘‘ کہنا ان کی شخصیت اور قیادت کے اس پہلو کی عکاسی کرتا ہے جو اصولوں پر قائم رہنے اور سخت فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ ایسے وقت میں فوجی قیادت سنبھالتے ہیں جب پاکستان بیک وقت کئی بحرانوں سے گزر رہا تھا: ایک طرف دہشت گردی کے نئے خطرات، دوسری جانب سیاسی انتشار اور تیسری طرف معاشی مشکلات۔ ان حالات میں ان کا انداز نرم گفتار مگر مضبوط موقف رکھنے والا رہا ہے۔ یہ خوبی انہیں نہ صرف اندرونِ ملک ایک قابلِ اعتبار رہنما بناتی ہے بلکہ بیرونی دنیا میں بھی ان کے کردار کو نمایاں کرتی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر انہیں ٹرمپ کا ’’قدرتی شراکت دار‘‘ کیوں کہا گیا؟ اس کا جواب دونوں رہنماؤں کے اندازِ قیادت میں ملتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی غیر روایتی سیاست کے لیے مشہور ہیں۔ وہ سفارتی آداب کے بجائے سیدھی اور بے لاگ بات کو ترجیح دیتے ہیں اور قومی مفاد کے لیے غیر معمولی فیصلے کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ عاصم منیر کا انداز بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ وہ مصلحت پسندی کے بجائے دو ٹوک بات کرنے والے اور دباؤ کے باوجود اپنے مؤقف سے جدا نہیں ہوتے۔
عالمی حقائق اس بات کو مزید واضح کرتے ہیں۔ امریکا آج بھی دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے جس کا حجم تقریباً 27 ٹریلین ڈالر ہے، جبکہ چین اس وقت 17 ٹریلین ڈالر کے قریب پہنچ چکا ہے۔ پاکستان چین کے ساتھ اقتصادی راہداری منصوبوں کے ذریعے جڑا ہوا ہے، مگر امریکا کے لیے پاکستان کو مکمل طور پر نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع ہے، جو وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے۔ مزید یہ کہ پاکستان دنیا کی چھٹی سب سے بڑی فوج رکھتا ہے، جس کے 6 لاکھ سے زیادہ فعال فوجی ہیں۔ یہ سب عوامل امریکا کو یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں نئی جہت پیدا کی جائے۔
افغانستان کی صورتحال اس معاملے کو اور اہم بنا دیتی ہے۔ اس وقت افغانستان میں دو کروڑ سے زیادہ افراد خوراک اور انسانی ضروریات کے بحران میں مبتلا ہیں۔ امریکا کے لیے وہاں امن کے بغیر خطے میں اپنے مفادات کو محفوظ بنانا مشکل ہے، اور پاکستان اس میں ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اسی طرح مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے تنازعات اور روس یوکرین جنگ نے بھی امریکا کو نئے اتحادیوں کی تلاش پر مجبور کر دیا ہے۔ ایسے میں عاصم منیر جیسی قیادت امریکا کے لیے موزوں پارٹنر ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ ٹرمپ کی شخصیت بھی ایسے ہی براہِ راست اور طاقتور تعلق کی متقاضی ہے۔
منطقی طور پر دیکھا جائے تو اگر ٹرمپ دوبارہ وائٹ ہاؤس آتے ہیں تو ان کے لیے پاکستان سے تعلقات کو نئی بنیادوں پر استوار کرنا ناگزیر ہوگا۔ دوسری طرف پاکستان کو بھی اس وقت معاشی مشکلات کا سامنا ہے اور آئی ایم ایف کا 3 ارب ڈالر کا پیکیج وقتی سہارا تو ہے لیکن مستقل حل نہیں۔ ایسے میں واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں بہتری پاکستان کو سفارتی اور معاشی دونوں محاذوں پر فائدہ دے سکتی ہے۔
یہ کہنا بجا ہوگا کہ عالمی جریدے کا تبصرہ محض ایک علامتی جملہ نہیں بلکہ عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے منظرنامے کا عکس ہے۔ عاصم منیر کی اصولی اور فیصلہ کن قیادت اور ٹرمپ کی غیر روایتی مگر عملی سوچ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایسا تعلق بنا سکتی ہے جو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے نئی سمت متعین کرے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں ’’مردِ آہن‘‘ اور ’’قدرتی شراکت دار‘‘ کہنا حقیقت کے قریب تر ہے۔