Nigah

پی ٹی ایم کی ناکامیاں

[post-views]

کسی بھی تحریک کی اصل پہچان اس کے نعروں سے نہیں، بلکہ اس سماجی وزن سے ہوتی ہے جو اسے اپنے لوگوں کے درمیان حاصل ہو۔ جو آواز گلی، محلے، بازار، عدالت، درسگاہ اور انتخابی عمل میں سنائی نہ دے، وہ بیرون ملک چند تصویروں، چند نعروں اور چند وقتی اجتماعات سے عوامی نمائندگی کا درجہ حاصل نہیں کر سکتی۔ یہی وہ بنیادی سوال ہے جو لندن سمیت مختلف شہروں میں ہونے والے پی ٹی ایم سے وابستہ احتجاجوں کے بعد اور زیادہ شدت سے سامنے آیا ہے۔ ایک ایسی جماعت یا تحریک جو مسلسل اپنے آپ کو پورے پشتون معاشرے کی نمائندہ قوت بنا کر پیش کرے، مگر اس کے اجتماعات محدود ہوں، اس کے حامی حلقے تنگ ہوں، اور اس کے بیانیے پر اپنے ہی ملک کے عوام میں وسیع اعتماد موجود نہ ہو، تو پھر اس کی اصل حیثیت پر سوال اٹھنا فطری ہے۔

اس معاملے کا پہلا اور سب سے اہم پہلو قانونی اور سیاسی حدود کا ہے۔ پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے، اور اس کے داخلی معاملات کا فیصلہ پاکستان کے شہریوں، اس کے آئین، اس کے اداروں اور اس کے قانونی ڈھانچے کے ذریعے ہونا چاہیے۔ اگر کوئی غیر ملکی، خواہ وہ نسلی، لسانی یا تاریخی قربت کا دعویٰ کرے، پاکستان کے ریاستی فیصلوں، حکمرانی کے ڈھانچے اور آئینی سمت پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے، تو یہ کم از کم اخلاقی اور سیاسی سطح پر ایک مسئلہ ضرور بنتا ہے۔ ہر انسان کو رائے رکھنے کا حق ہے، مگر ہر رائے کو نمائندہ اختیار حاصل نہیں ہوتا۔ یہی فرق جان بوجھ کر دھندلا دیا جاتا ہے۔ جب غیر پاکستانی حلقوں کی موجودگی کو ایسے پیش کیا جاتا ہے جیسے وہ پاکستانی پشتونوں کی اجتماعی خواہشات کی ترجمانی کر رہے ہوں، تو بات احتجاج سے نکل کر ایک غیر فطری نمائندگی تک پہنچ جاتی ہے۔

پی ٹی ایم کے بیرون ملک احتجاجوں کی کمزوری یہ ہے کہ وہ شور تو بہت پیدا کرتے ہیں، مگر وزن کم رکھتے ہیں۔ ان کا منظر نامہ بار بار ایک جیسا دکھائی دیتا ہے۔ چند لوگ جمع ہوتے ہیں، سخت نعرے لگتے ہیں، ریاستی اداروں کے خلاف غصہ ابھارا جاتا ہے، اور پھر اسے ایسے پیش کیا جاتا ہے جیسے پوری دنیا نے ایک بڑے عوامی مقدمے کو تسلیم کر لیا ہو۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس محسوس ہوتی ہے۔ اگر کسی تحریک کے پاس واقعی عوامی طاقت ہو، تو اس کی بازگشت محض چند سوشل ذرائع تک محدود نہیں رہتی۔ اسے وسیع سماجی تائید، مسلسل عوامی شرکت اور فکری سنجیدگی کی شکل میں دیکھا جاتا ہے۔ یہاں مسئلہ صرف تعداد کا نہیں، ساکھ کا بھی ہے۔ جب ہر احتجاج ایک محدود دائرے میں گھومتا رہے، تو یہ اس بات کی علامت بن جاتا ہے کہ تحریک اپنی جڑیں گہری نہیں کر سکی۔

اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ اس پورے بیانیے میں پشتون شناخت کو بار بار ایک ریاستی تصادم کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ گویا پشتون ہونا اور پاکستانی ہونا ایک دوسرے کے مقابل کھڑے حقائق ہیں۔ یہ تصور نہ صرف تاریخی حقیقت سے متصادم ہے بلکہ موجودہ سماجی ڈھانچے سے بھی میل نہیں کھاتا۔ پاکستان کے پشتون ملک کی فوج، عدلیہ، سیاست، تجارت، تعلیم اور محنت کے ہر میدان میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ ریاست کے حاشیے پر نہیں، اس کے مرکز میں موجود ہیں۔ وہ کسی اجنبی ڈھانچے کا بوجھ نہیں اٹھا رہے، بلکہ خود اس قومی عمارت کے معماروں میں شامل ہیں۔ ایسے میں ایک ایسا بیانیہ جو مسلسل محرومی کو ہی واحد سچائی بنا کر پیش کرے، اور قومی شمولیت، ترقی، ادارہ جاتی نمائندگی اور معاشی شرکت کو نظر انداز کرے، وہ حقیقت کا مکمل نقشہ پیش نہیں کرتا، بلکہ ایک خاص مقصد کے لیے تصویر کا صرف ایک حصہ نمایاں کرتا ہے۔

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بیرون ملک ایسے احتجاجوں میں شریک ہونے والے چند پاکستانی افراد میں بعض وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جو اپنی ذاتی قانونی یا رہائشی حیثیت مضبوط کرنے کے لیے اپنے وطن کی ایک تاریک تصویر پیش کرنے میں فائدہ محسوس کرتے ہیں۔ یہ بات ہر شخص پر لاگو نہیں کی جا سکتی، مگر اسے مکمل طور پر نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔ جب مظلومیت ایک سیاسی دلیل سے بڑھ کر ذاتی فائدے کا راستہ بن جائے، تو سچ اور مبالغے کے درمیان لکیر مدہم ہونے لگتی ہے۔ پھر بیانیہ عوامی خدمت کے بجائے ذاتی ضرورت کا لباس پہن لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے اجتماعات کے دعووں کو محض جذباتی انداز میں قبول کر لینا دانش مندی نہیں۔

پی ٹی ایم کے حامی اکثر تاریخ کا سہارا لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سرحدیں نئی ہیں، شناخت پرانی ہے۔ یہ جملہ سننے میں دلکش لگ سکتا ہے، مگر جدید دنیا تاریخ کے جذباتی دعووں پر نہیں، قانونی شہریت اور ریاستی خودمختاری پر چلتی ہے۔ اگر قدیم رشتے موجودہ ریاستی حقیقت سے برتر مان لیے جائیں تو پھر دنیا کا کوئی خطہ مستحکم نہ رہ سکے۔ جدید قانون اسی لیے وجود میں آیا کہ پرانی یادداشتوں کو مستقل سیاسی تنازعے میں بدلنے سے روکا جا سکے۔ مشترک زبان، مشترک روایت یا مشترک نسب اپنی جگہ، مگر سیاسی اختیار ہمیشہ موجودہ قانونی بندوبست سے پیدا ہوتا ہے۔ یہی اصول پاکستان پر بھی نافذ ہوتا ہے۔

لندن کے مجوزہ یا منعقدہ احتجاجوں کے بارے میں سب سے بڑی بات یہی سامنے آتی ہے کہ اب ان میں تازگی باقی نہیں رہی۔ وہی چہرے، وہی دعوے، وہی الزام تراشی، وہی ریاست دشمن لب و لہجہ، اور وہی محدود دائرہ۔ بین الاقوامی حلقے بھی اب ایسے نعروں کو پہلے جیسی اہمیت نہیں دیتے، کیونکہ وقت کے ساتھ یہ واضح ہو گیا ہے کہ یہاں انسانی حقوق کی غیر جانب دار جدوجہد سے زیادہ سیاسی اداکاری کا رنگ غالب ہے۔ جب ایک تحریک مسلسل اپنے دائرے کو وسیع کرنے میں ناکام رہے، جب وہ اپنے نام پر اکثریت کو متحرک نہ کر سکے، اور جب اس کے نعروں میں اصلاح سے زیادہ انتشار کی بو آنے لگے، تو لوگ اس سے دور ہو جاتے ہیں۔ یہی کچھ اس بیانیے کے ساتھ ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے پشتون ایک زندہ، باوقار، باصلاحیت اور قومی دھارے میں پوری طرح شامل برادری ہیں۔ وہ اپنے مسائل بھی رکھتے ہیں، اپنے مطالبات بھی، اپنی رائے بھی، مگر ان کی اجتماعی شناخت کو ایک شوریدہ، مشتعل اور بیرونی رنگ والے سیاسی سانچے میں بند نہیں کیا جا سکتا۔ جو لوگ پوری قوم کے نام پر بات کرتے ہیں، انہیں پہلے پوری قوم کا اعتماد حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اگر اعتماد نہ ہو، تو نمائندگی کا دعویٰ کھوکھلا رہ جاتا ہے۔ میرے نزدیک لندن اور اس جیسے دوسرے احتجاج یہی بتاتے ہیں کہ پی ٹی ایم کا مسئلہ صرف مخالفت کا نہیں، ساکھ کا ہے۔ اور جب ساکھ کمزور ہو جائے تو نعرہ جتنا بھی اونچا ہو، وہ تاریخ میں گونج نہیں بنتا، محض شور رہ جاتا ہے۔

Author

  • ڈاکٹر ظہیرال خان

    ظہیرال خان ایک مضبوط تعلیمی اور پیشہ ورانہ پس منظر کے ساتھ، وہ بین الاقوامی تعلقات میں مہارت رکھتا ہے اور بڑے پیمانے پر سیکورٹی اور اسٹریٹجک امور کے ماہر کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔