Nigah

اقوامِ متحدہ کے سوالات پر بھارت کی طویل خاموشی

[post-views]

اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندوں کی جانب سے معاہدۂ سندھ طاس کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات پر بھارت کی مسلسل خاموشی محض سفارتی تاخیر نہیں، بلکہ ایک گہرا سیاسی اور قانونی اشارہ ہے۔ 16 اکتوبر 2025 کو جاری ہونے والے مراسلے میں بھارت سے واضح جواب طلب کیا گیا تھا، اور 16 دسمبر 2025 کی مقررہ مدت گزرے اب 182 روز ہو چکے ہیں، مگر نئی دہلی کی طرف سے نہ کوئی بامعنی وضاحت سامنے آئی، نہ کوئی عوامی قانونی مؤقف، نہ ہی بین الاقوامی احتسابی عمل کے احترام کا کوئی اشارہ۔ یہ خاموشی حادثاتی نہیں لگتی؛ یہ اس طرزِ حکمرانی کا حصہ معلوم ہوتی ہے جس میں داخلی سیاسی نعرہ بازی کو بین الاقوامی ذمہ داریوں پر فوقیت دی جاتی ہے۔

معاہدۂ سندھ طاس کوئی معمولی دوطرفہ انتظام نہیں، بلکہ جنوبی ایشیا کے آبی، زرعی، معاشی اور سلامتی ڈھانچے کا بنیادی ستون ہے۔ یہ معاہدہ جنگوں، کشیدگیوں اور سفارتی بحرانوں کے باوجود قائم رہا، کیونکہ اس کی روح یہ تھی کہ پانی کو سیاسی انتقام کا ہتھیار نہیں بنایا جائے گا۔ بھارت کا اس معاہدے کو یک طرفہ طور پر “التوا” میں رکھنے کا بیانیہ پہلے ہی خطرناک تھا، مگر اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے سوالات کو نظر انداز کرنا اس خطرے کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ جب ایک ریاست بین الاقوامی قانون کے دائرے میں جواب دینے سے ہی گریز کرے تو مسئلہ صرف معاہدے کی تشریح کا نہیں رہتا؛ مسئلہ ریاستی رویے، نیت اور جواب دہی کا بن جاتا ہے۔

بھارت کی یہ خاموشی آر ایس ایس سے متاثر ہندوتوا ذہنیت کے وسیع تر سیاسی تناظر سے الگ نہیں دیکھی جا سکتی۔ یہ ذہنیت خود کو علاقائی بالادستی، تہذیبی برتری اور اکثریتی طاقت کے تصور سے جوڑتی ہے، اس لیے بین الاقوامی اداروں کو اکثر بیرونی دباؤ یا غیر ضروری مداخلت سمجھتی ہے۔ اسی سوچ کے تحت داخلی سطح پر سخت گیر قوم پرستی کو کامیابی سمجھا جاتا ہے، چاہے اس کی قیمت بین الاقوامی ساکھ، قانونی وقار اور علاقائی امن کی صورت میں کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔ معاہدۂ سندھ طاس جیسے حساس معاملے پر جواب نہ دینا اسی سیاسی غرور کی علامت ہے، جہاں قانون کی جگہ طاقت، مکالمے کی جگہ خاموشی، اور ذمہ داری کی جگہ انکار کو ترجیح دی جاتی ہے۔

یہ بھی اہم ہے کہ بھارت کی عدم جواب دہی صرف پاکستان کے لیے مسئلہ نہیں۔ یہ عالمی نظام کے لیے بھی ایک خطرناک مثال ہے۔ اگر کوئی بڑی ریاست ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی معاہدے، اقوامِ متحدہ کے سوالات اور انسانی حقوق کے خدشات کو نظر انداز کر سکتی ہے، تو پھر چھوٹی ریاستوں کے لیے قانون کی ضمانت کیا رہ جاتی ہے؟ قواعد پر مبنی عالمی نظام اسی وقت معنی رکھتا ہے جب طاقتور ریاستیں بھی جواب دہ ہوں۔ اگر طاقتور ملک خاموشی کو حکمتِ عملی بنا لیں تو بین الاقوامی قانون محض کمزور ریاستوں پر لاگو ہونے والا اخلاقی دباؤ بن کر رہ جائے گا۔

معاہدۂ سندھ طاس کے معاملے میں پانی صرف سفارتی موضوع نہیں، زندگی کا سوال ہے۔ پاکستان کی زراعت، خوراک، روزگار، ماحولیات اور کروڑوں شہریوں کی روزمرہ بقا اس آبی نظام سے وابستہ ہے۔ ایسے میں بھارت کی طرف سے پانی کو سیاسی اشاروں، انتخابی بیانیے یا سلامتی کے نام پر دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کا تاثر نہایت غیر ذمہ دارانہ ہے۔ یہ رویہ خطے میں عدم اعتماد بڑھاتا ہے، کشیدگی کو معمول بناتا ہے اور ایٹمی صلاحیت رکھنے والے دو ہمسایہ ممالک کے درمیان خطرناک غلط فہمیوں کی گنجائش پیدا کرتا ہے۔

نئی دہلی شاید یہ سمجھتی ہو کہ خاموش رہنے سے مسئلہ وقت کے ساتھ دھندلا جائے گا، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہر گزرتا دن سوالات کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط کر رہا ہے۔ اب بحث صرف اس بات تک محدود نہیں رہی کہ بھارت نے معاہدۂ سندھ طاس کی کون سی شقوں کو متاثر کیا؛ اب اصل سوال یہ ہے کہ بھارت بین الاقوامی احتسابی طریقۂ کار سے کیوں بھاگ رہا ہے۔ خاموشی کبھی کبھی جواب سے زیادہ معنی خیز ہوتی ہے، اور اس معاملے میں بھارت کی خاموشی ایک ایسے ریاستی مزاج کو ظاہر کرتی ہے جو قانون سے بالاتر ہونے کا تاثر دیتا ہے۔

داخلی سیاست میں سخت مؤقف شاید وقتی داد سمیٹ لے، مگر خارجہ پالیسی میں غیر ذمہ دارانہ ضد کے نتائج دیرپا ہوتے ہیں۔ بھارت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ عالمی طاقت بننے کا دعویٰ صرف معیشت، آبادی یا فوجی صلاحیت سے ثابت نہیں ہوتا؛ یہ دعویٰ قانون کے احترام، معاہدوں کی پاسداری اور شفاف جواب دہی سے ثابت ہوتا ہے۔ اگر بھارت اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے سوالات کا جواب نہیں دیتا، تو وہ صرف پاکستان کو نہیں بلکہ عالمی برادری کو یہ پیغام دیتا ہے کہ سیاسی نظریہ اس کے نزدیک قانونی ذمہ داری سے زیادہ اہم ہے۔

یہ طرزِ عمل شرمناک بھی ہے اور خطرناک بھی۔ شرمناک اس لیے کہ ایک ریاست جو خود کو ذمہ دار جمہوریت کہتی ہے، وہ بنیادی سفارتی جواب دہی سے گریز کر رہی ہے۔ خطرناک اس لیے کہ پانی، سرحد اور سلامتی جیسے معاملات میں خاموشی بحران کو کم نہیں کرتی، بلکہ اسے گہرا کرتی ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی برادری بھارت کی اس مسلسل عدم تعمیل کو معمول نہ بننے دے۔ معاہدۂ سندھ طاس کی بقا، جنوبی ایشیا کا امن اور بین الاقوامی قانونی نظام کی ساکھ اسی بات سے وابستہ ہے کہ طاقت کو قانون کے تابع رکھا جائے، نہ کہ قانون کو طاقت کے تابع۔

Author

  • ڈاکٹر اکرام احمد

    اکرام احمد یونیورسٹی آف ساؤتھ ویلز سے بین الاقوامی تعلقات میں گریجویٹ ہیں۔ باتھ یونیورسٹی میں، جہاں ان کی تحقیق تنازعات کے حل، عالمی حکمرانی، بین الاقوامی سلامتی پر مرکوز ہے۔ ایک مضبوط تعلیمی پس منظر اور عالمی امور میں گہری دلچسپی کے ساتھ، اکرام نے مختلف تعلیمی فورمز اور پالیسی مباحثوں میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ ان کا کام بین الاقوامی تعلقات کی حرکیات اور عصری جغرافیائی سیاسی مسائل پر ان کے اثرات کو سمجھنے کے لیے گہری وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔