Nigah

آزاد کشمیر انتخابات

[post-views]

آزاد جموں و کشمیر میں انتخابی عمل اس بنیادی اصول کی تجدید ہے کہ سیاسی اختیار کا سرچشمہ عوام ہیں اور عوامی رائے کا معتبر اظہار بیلٹ کے ذریعے ہوتا ہے۔ حالیہ انتخابات کے پہلے مرحلے میں سیاسی کشیدگی، احتجاج، بائیکاٹ کی اپیلوں اور سکیورٹی خدشات کے باوجود شہریوں کا پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچنا اس بات کی علامت ہے کہ آزاد کشمیر کا ووٹر اپنے مستقبل کا فیصلہ آئینی اور جمہوری طریقے سے کرنا چاہتا ہے۔ انتخابی کمیشن نے غیر معمولی عوامی شرکت کے باعث پولنگ کا وقت ایک گھنٹہ بڑھایا، جبکہ پہلے مرحلے میں تیرہ نشستوں پر ووٹنگ ہوئی۔ یہ شرکت واضح کرتی ہے کہ عوامی حقوق کی پائیدار ضمانت بے قابو سڑکوں کی سیاست نہیں بلکہ منظم سیاسی عمل ہے۔

تاہم زمینی حقائق کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انتخابات ستائیس جولائی، دو اگست اور دس اگست 2026 کو تین مراحل میں منعقد ہو رہے ہیں، اس لیے پورا انتخابی عمل مکمل ہونے سے پہلے کسی حتمی عوامی فیصلے کا اعلان مناسب نہیں۔ پہلے مرحلے میں بعض سیاسی جماعتوں نے دھاندلی اور مداخلت کے الزامات عائد کیے، جبکہ مختلف مقامات پر جھڑپوں، زخمیوں اور جانی نقصان کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ درست نتیجہ یہ ہے کہ عوام نے مشکلات کے باوجود انتخابی راستہ اختیار کیا، مگر اداروں پر لازم ہے کہ تمام شکایات کی شفاف تحقیقات کرکے انتخابی عمل کی ساکھ مضبوط بنائیں۔

مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی، یعنی JAAC، نے ابتدا میں بجلی، آٹے، ٹیکسوں، حکمرانی اور انتخابی نمائندگی جیسے حقیقی عوامی مسائل اٹھائے۔ ایسے مطالبات کو محض شور یا سازش کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن کسی عوامی تحریک کی اخلاقی قوت اسی وقت برقرار رہتی ہے جب وہ آئین، قانون، عدم تشدد اور مکالمے کی حدود میں رہے۔ انتخابی بائیکاٹ، لانگ مارچ، ریاستی اداروں سے تصادم یا پولنگ کے ماحول کو متاثر کرنے والی سرگرمیاں اصل مطالبات کو پس منظر میں دھکیل دیتی ہیں اور تحریک کی ساکھ کمزور کرتی ہیں۔

JAAC کو جون 2026 میں آزاد کشمیر کے انسدادِ دہشت گردی قانون کے تحت کالعدم قرار دیا گیا۔ حکومتی نوٹیفکیشن میں الزام عائد کیا گیا کہ تنظیم امن عامہ، ریاستی سلامتی اور عوامی تحفظ کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ یہ ایک قانونی اور انتظامی اقدام ہے، مگر کسی جمہوری ریاست میں پابندی بذاتِ خود ہر الزام کو ثابت نہیں کرتی۔ حکومت کو ٹھوس شواہد، عدالتی نگرانی، شفاف کارروائی اور انفرادی ذمہ داری کے اصول پر عمل کرنا چاہیے، تاکہ جائز سیاسی اختلاف اور منظم تشدد کے درمیان واضح فرق قائم رہے۔

حکام نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان سے وابستہ مسلح عناصر نے احتجاج میں دراندازی کی اور سکیورٹی اہلکاروں پر جدید ہتھیاروں سے حملے کیے۔ خبر رساں اداروں نے ان دعوؤں کو حکومتی الزامات کے طور پر رپورٹ کیا ہے، جبکہ محدود مواصلاتی رسائی اور کشیدہ حالات کے باعث تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق مکمل طور پر ممکن نہیں ہو سکی۔ اگر کسی شخص یا گروہ کے دہشت گرد تنظیموں سے روابط، اسلحے کے استعمال یا تشدد کی منصوبہ بندی کے قابلِ قبول شواہد موجود ہیں تو مقدمہ کھلی اور منصفانہ عدالت میں چلایا جانا چاہیے۔

سیف اللہ کشمیری اور JAAC رہنما عمر نذیر سے منسوب گردش کرنے والی ویڈیو بھی سنگین سوالات پیدا کرتی ہے، لیکن کسی ویڈیو، تصویر یا سماجی ذرائع ابلاغ کے دعوے کو فرانزک اور عدالتی تصدیق کے بغیر حتمی ثبوت کہنا درست نہیں۔ دہشت گردی جیسے سنگین الزام میں ریاست، ذرائع ابلاغ اور سیاسی حلقوں پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے: نہ کسی ممکنہ خطرے کو معمولی سمجھا جائے اور نہ غیر مصدقہ مواد کو کردار کشی کے لیے استعمال کیا جائے۔ حقائق، قابلِ قبول شواہد اور قانونی عمل ہی فیصلہ کن معیار ہونے چاہییں۔

ایک اصول بہرحال واضح ہے کہ احتجاجی پلیٹ فارم میں مسلح عناصر کی موجودگی کسی بھی عوامی تحریک کے لیے تباہ کن ہوتی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا، شہریوں کو خوفزدہ کرنا یا ریاستی رٹ کو ہتھیار کے ذریعے چیلنج کرنا سیاسی جدوجہد نہیں بلکہ قانون شکنی ہے۔ ایسے اقدامات سب سے پہلے انہی عوامی مطالبات کو نقصان پہنچاتے ہیں جن کے نام پر تحریک شروع کی جاتی ہے۔ تشدد کے نتیجے میں مذاکرات کی جگہ بداعتمادی، اصلاحات کی جگہ کریک ڈاؤن اور عوامی فلاح کی جگہ سکیورٹی بحران لے لیتا ہے۔

ووٹروں کی شرکت نے اس تصور کو بھی کمزور کیا ہے کہ JAAC پورے آزاد کشمیر کی واحد نمائندہ عوامی قوت ہے۔ جلسوں، دھرنوں یا احتجاجی اجتماعات میں کسی تنظیم کی قوت سیاسی اہمیت ضرور رکھتی ہے، لیکن اسے براہِ راست انتخابی مینڈیٹ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عوامی مینڈیٹ کی پیمائش ووٹ، نمائندگی، آئینی طریقۂ کار اور قابلِ احتساب سیاسی قیادت سے ہوتی ہے۔ شور، دباؤ، بائیکاٹ کی اپیلیں یا سڑکوں کی بندش جمہوری اختیار کا متبادل نہیں بن سکتیں۔

دوسری جانب حکومت اور منتخب جماعتوں کو بھی ووٹروں کی شرکت کو اپنی ہر پالیسی کی غیر مشروط توثیق نہیں سمجھنا چاہیے۔ JAAC کے طریقۂ کار سے اختلاف اپنی جگہ، مگر مہنگائی، بجلی، روزگار، حکمرانی، مقامی اختیار اور انتخابی نمائندگی سے متعلق عوامی شکایات کو حل کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اگر جائز مسائل مسلسل نظرانداز کیے جائیں تو شدت پسند عناصر انہی محرومیوں کو اپنے ایجنڈے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مؤثر حکمتِ عملی صرف پابندی یا طاقت نہیں بلکہ قانون کی عملداری، سیاسی مکالمے، معاشی سہولت، انتظامی اصلاحات اور قابلِ اعتماد تحقیقات کا مجموعہ ہونی چاہیے۔

آزاد کشمیر کے عوام نے واضح کیا ہے کہ ان کی سیاسی ترجیح بیلٹ، آئین اور نمائندہ نظام ہے۔ انتخابات کو سبوتاژ کرنے، ووٹر کو خوفزدہ کرنے یا احتجاج کو مسلح تصادم میں بدلنے کی ہر کوشش مسترد ہونی چاہیے۔ اسی طرح طاقت کے غیر ضروری استعمال اور غیر شفاف کارروائی سے بھی گریز لازم ہے۔ جمہوریت کی حقیقی فتح صرف ووٹ ڈالنے میں نہیں بلکہ ووٹ کے احترام، قانون کی غیر جانب دارانہ بالادستی، شہری جان کے تحفظ اور سیاسی اختلاف کو پُرامن طریقے سے سننے میں ہے۔ یہی راستہ آزاد کشمیر کو انتشار سے نکال کر سیاسی استحکام، حقیقی نمائندگی اور پائیدار امن کی طرف لے جا سکتا ہے۔

Author

  • ڈاکٹر حسین جان

    حسین جان کے علمی مفادات بین الاقوامی سلامتی، جغرافیائی سیاسی حرکیات، اور تنازعات کے حل میں ہیں، خاص طور پر یورپ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے۔ انہوں نے عالمی تزویراتی امور سے متعلق مختلف تحقیقی فورمز اور علمی مباحثوں میں حصہ ڈالا ہے، اور ان کا کام اکثر پالیسی، دفاعی حکمت عملی اور علاقائی استحکام کو تلاش کرتا ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔