Nigah

آزادی کا نیا بیانیہ اور پاکستان کا بدلتا ہوا سماجی اعتماد

[post-views]

پاکستان میں آزادی کی بحث عموماً سیاسی نعروں، آئینی حوالوں اور روزمرہ شکایات کے گرد گھومتی رہی ہے، مگر مشعل پاکستان کی پہلی جامع اسٹیٹ آف فریڈم رپورٹ ۲۰۲۶ نے اس بحث کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع دیا ہے۔ یہ رپورٹ اس لیے اہم ہے کہ یہ آزادی کو محض ایک تجریدی تصور کے طور پر نہیں دیکھتی بلکہ اسے روزگار، کاروبار، تعلیم، خواتین کے مواقع، ڈیجیٹل رسائی، انتخابی شرکت اور نوجوانوں کی صلاحیت جیسے ٹھوس شعبوں سے جوڑتی ہے۔ اس رپورٹ کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ ۷۷ فیصد جواب دہندگان کے نزدیک پاکستانی شہری اپنا پیشہ اور کیریئر منتخب کرنے میں آزاد ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں معاشی دباؤ، خاندانی توقعات اور سماجی رکاوٹیں اکثر نوجوانوں کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہیں، یہ شرح معمولی نہیں۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ معاشرے میں کم از کم تصور کی سطح پر پیشہ ورانہ انتخاب کی آزادی کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔

میری رائے میں اس رپورٹ کا اصل پیغام یہ ہے کہ پاکستان کو صرف مسائل کے آئینے میں دیکھنا کافی نہیں۔ اگر ۷۵ فیصد جواب دہندگان یہ سمجھتے ہیں کہ کاروبار غیر ضروری حکومتی مداخلت کے بغیر چل سکتے ہیں تو یہ کاروباری اعتماد کی ایک اہم علامت ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان میں ضابطہ کاری، ٹیکس نظام، اجازت ناموں یا سرکاری دفاتر سے متعلق مشکلات ختم ہو چکی ہیں، مگر یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ شہریوں اور کاروباری طبقے میں امکانات کا احساس موجود ہے۔ کسی بھی معیشت کی ترقی صرف پالیسیوں سے نہیں ہوتی، بلکہ اس اعتماد سے بھی ہوتی ہے کہ محنت، ہنر اور سرمایہ کاری کے ذریعے آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ جب چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار تقریباً ۹۰ فیصد کاروباری ڈھانچے پر مشتمل ہوں اور غیر زرعی افرادی قوت کے قریباً ۸۰ فیصد کو روزگار فراہم کرتے ہوں تو انہیں آزادی، سہولت اور تحفظ دینا قومی ترجیح ہونی چاہیے۔

رپورٹ میں خواتین کے مواقع کے حوالے سے ۷۵ فیصد مثبت رائے بھی ایک اہم سماجی اشارہ ہے۔ پاکستان میں خواتین کی تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی میں شرکت پر بحث ہمیشہ حساس رہی ہے۔ مگر اگر شہریوں کی بڑی تعداد خواتین کے مواقع کو مثبت انداز میں دیکھ رہی ہے تو یہ تبدیلی صرف اعداد و شمار کی نہیں بلکہ ذہنی رویوں کی بھی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ خاندان، ادارے اور معاشرہ آہستہ آہستہ اس حقیقت کو قبول کر رہے ہیں کہ قومی ترقی میں خواتین کی شمولیت کوئی رعایت نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ البتہ اس مثبت تاثر کو زمینی حقیقت بنانے کے لیے محفوظ سفری سہولتیں، مساوی تنخواہ، ہراسگی سے تحفظ، معیاری تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔

پاکستان کی ڈیجیٹل تصویر بھی اس رپورٹ میں خاص طور پر نمایاں ہے۔ ۱۹۰ ملین سے زائد سیلولر سبسکرپشنز، ۱۵۰ ملین تک براڈ بینڈ صارفین اور ۷۰ ملین سوشل میڈیا صارفین اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کا شہری اب پہلے سے کہیں زیادہ منسلک، باخبر اور متحرک ہے۔ ۲۳۰,۰۰۰ کلومیٹر سے زائد فائبر آپٹک بیک بون اور ۱۷.۲۱ ٹی بی پی ایس بین الاقوامی انٹرنیٹ گنجائش محض تکنیکی اعداد نہیں، بلکہ یہ مستقبل کی معیشت کی بنیاد ہیں۔ ڈیجیٹل رابطہ آج اظہار، تعلیم، تجارت، سیاسی شرکت اور روزگار کا ذریعہ بن چکا ہے۔ اسی لیے پاکستان کا دنیا کی نمایاں فری لانس معیشتوں میں شمار ہونا حیران کن نہیں۔ تین ارب ڈالر سالانہ سے زائد آئی ٹی اور فری لانس برآمدات اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستانی نوجوان عالمی منڈی میں اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔

تاہم آزادی کا حقیقی امتحان صرف مواقع کی موجودگی نہیں بلکہ ان مواقع تک مساوی رسائی ہے۔ اگر ایک شہری بڑے شہر میں رہتا ہے تو اسے انٹرنیٹ، یونیورسٹی، روزگار اور کاروباری نیٹ ورک نسبتاً آسانی سے مل سکتے ہیں، مگر دور دراز علاقوں، کم آمدنی والے خاندانوں اور کمزور طبقات کے لیے یہی آزادی محدود ہو سکتی ہے۔ اس لیے اس رپورٹ کو کامیابی کا آخری اعلان سمجھنے کے بجائے پالیسی سازی کا آغاز سمجھنا چاہیے۔ ۲۴۰ سے زائد تسلیم شدہ جامعات اور ڈگری دینے والے ادارے پاکستان کے تعلیمی پھیلاؤ کو ظاہر کرتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ ادارے مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق ہنر دے رہے ہیں؟ کیا نوجوان صرف ڈگری لے رہے ہیں یا وہ جدت، تحقیق، کاروبار اور ٹیکنالوجی میں حقیقی کردار ادا کر رہے ہیں؟

اسی طرح ۲۰۲۴ کے عام انتخابات میں ۱۲۸.۵ ملین رجسٹرڈ ووٹرز اور ۹۲,۰۰۰ سے زائد پولنگ اسٹیشنز انتخابی نظام کے وسیع انتظامی ڈھانچے کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ پیمانہ قابل ذکر ہے، مگر جمہوری آزادی کا مطلب صرف ووٹ ڈالنے کی سہولت نہیں۔ اس کا مطلب شفاف معلومات، سیاسی مکالمے، اداروں پر اعتماد اور شہریوں کی مسلسل شرکت بھی ہے۔ آزادی تب مضبوط ہوتی ہے جب شہری خود کو فیصلہ سازی کا حصہ محسوس کریں، نہ کہ صرف انتخابی دن قطار میں کھڑے ووٹر کے طور پر۔

پاکستان کا بڑا نوجوان طبقہ اس پوری بحث کا مرکزی کردار ہے۔ یہی نوجوان افرادی قوت، اختراع، کاروبار، ڈیجیٹل معیشت اور سماجی تبدیلی کی اصل بنیاد ہیں۔ اگر انہیں معیاری تعلیم، سستی انٹرنیٹ رسائی، کاروباری سرمایہ، آزاد پیشہ ورانہ انتخاب اور محفوظ عوامی ماحول ملے تو پاکستان کی آزادی صرف سروے کا نتیجہ نہیں رہے گی بلکہ قومی ترقی کا عملی ماڈل بن سکتی ہے۔ مشعل پاکستان کی اس رپورٹ کی اہمیت یہی ہے کہ یہ ہمیں مایوسی اور خود تنقیدی کے درمیان ایک تیسرا راستہ دکھاتی ہے: حقیقت پسندانہ امید۔ پاکستان میں آزادیاں مکمل نہیں، مگر امکانات وسیع ہیں۔ اب اصل ذمہ داری ریاست، نجی شعبے، تعلیمی اداروں، میڈیا اور شہری معاشرے پر ہے کہ ان مثبت تاثرات کو پائیدار حقیقت میں بدلیں، تاکہ آزادی صرف محسوس نہ ہو بلکہ ہر شہری کی روزمرہ زندگی میں نظر بھی آئے۔

Author

  • مصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے  پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔