Nigah

افغانستان میں طالبان کا نظامِ حکومت

[post-views]

طالبان اپنی حکومت کو “اسلامی امارت” قرار دیتے ہیں اور ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کو “امیر المومنین” کے لقب سے پیش کرتے ہیں، مگر اگر اس دعوے کو اسلامی سیاسی اصولوں، شرعی روایت، عوامی رضامندی اور ریاستی انصاف کے پیمانوں پر پرکھا جائے تو یہ دعویٰ نہایت کمزور دکھائی دیتا ہے۔ 15 اگست 2021 کو افغانستان پر قبضے کے بعد طالبان نے عبوری حکومت کے قیام کا اعلان کیا اور کہا گیا کہ افغان روایات کے مطابق لویہ جرگہ بلایا جائے گا تاکہ ملک کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ مشاورت سے ہو۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ نہ کوئی حقیقی جرگہ منعقد ہوا، نہ عوامی سطح پر بیعت لی گئی، نہ ہی کسی نمائندہ سیاسی عمل کو جگہ دی گئی۔ اس کے برعکس اقتدار کو یکطرفہ طور پر مستقل شکل دی گئی اور ملا ہیبت اللہ کو ایک ایسے منصب پر بٹھا دیا گیا جس کے لیے نہ قومی تائید سامنے آئی اور نہ داخلی ہم آہنگی۔

اسلامی تاریخ اور فقہ دونوں اس امر پر زور دیتے ہیں کہ شرعی حکومت محض طاقت کے قبضے سے قائم نہیں ہوتی۔ خلافت یا امارت کی بنیاد شورٰی، رضامندی، جوابدہی اور بیعت پر ہوتی ہے۔ سیدنا ابو بکرؓ کی خلافت اس کی روشن مثال ہے، جہاں اقتدار کا جواز عوامی قبولیت اور اجتماعی بیعت سے وابستہ تھا۔ اسلامی روایت میں حاکم خود کو امت پر مسلط نہیں کرتا بلکہ امت کی رضا سے ذمہ داری قبول کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کلاسیکی فقہا نے بھی جبر کے ذریعے قائم ہونے والی حکومت کو اصولی طور پر مثالی اسلامی نظم قرار نہیں دیا۔ اگر اقتدار بندوق کے زور پر حاصل کیا جائے، مشاورت کو معطل کر دیا جائے اور عوام کو اطاعت پر مجبور کیا جائے تو پھر ایسی حکومت کو اسلامی امارت کہنا دراصل مذہبی اصطلاحات کا سیاسی استعمال بن جاتا ہے۔

طالبان کے موجودہ نظام کی ایک بنیادی خرابی یہ ہے کہ اس میں طاقت کا سرچشمہ عوام نہیں بلکہ ایک محدود، غیر منتخب، غیر شفاف اور سخت گیر حلقہ ہے۔ تمام بڑی سیاسی، مذہبی اور انتظامی قوت قندھار میں مرتکز ہو چکی ہے، جہاں سے فیصلے ہوتے ہیں مگر ان فیصلوں کے پیچھے کوئی واضح آئینی عمل، کھلی مشاورت یا عوامی نمائندگی نظر نہیں آتی۔ یہ ایک ایسا بند سیاسی ڈھانچہ ہے جس میں نہ پارلیمان ہے، نہ آزاد عدلیہ، نہ آزاد میڈیا، نہ ایسا کوئی ادارہ جو حکمران طبقے کو جوابدہ بنا سکے۔ جب تمام اختیار ایک فرد اور اس کے گرد موجود مختصر حلقے تک محدود ہو جائے تو وہ نظام امارت کم اور شخصی بادشاہت زیادہ محسوس ہوتا ہے۔

مزید سنگین پہلو یہ ہے کہ طالبان کی حکمرانی ایک کثیر النسلی ملک پر ایک محدود نسلی بالادستی کی صورت اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے۔ افغانستان پشتون، تاجک، ہزارہ، ازبک، ترکمان، بلوچ اور دیگر قومیتوں کا مشترک وطن ہے، مگر اقتدار کے حقیقی مراکز پر پشتون غلبہ نمایاں ہے۔ قیادت، شوریٰ، سیکیورٹی اداروں اور اہم وزارتوں میں طاقت کا جھکاؤ ایک ہی نسلی دھڑے کی طرف ہو تو یہ قومی وحدت نہیں بلکہ اجارہ داری کا تاثر پیدا کرتا ہے۔ ہزارہ برادری کی نمایاں عدم موجودگی، غیر پشتون عناصر کی محدود اور غیر مؤثر نمائندگی، اور خواتین کو مکمل طور پر فیصلہ سازی سے باہر رکھنا واضح کرتا ہے کہ یہ حکومت نہ قومی نمائندہ ہے نہ جامع اسلامی نظم کی مثال۔

طالبان کے مذہبی دعوے کو مزید کمزور کرنے والی بات ان کی مذہبی پالیسی ہے۔ اسلام کے بنیادی اصولوں میں “لا اکراہ فی الدین” ایک واضح رہنما اصول ہے، مگر جب ریاست عقیدے، مسلک اور مذہبی شناخت پر دباؤ ڈالنے لگے، ملازمت، تعلیم اور تحفظ کو عقیدے کی تبدیلی سے جوڑ دے، یا مخصوص مسلک کو ہی واحد قانونی و معتبر تعبیر قرار دے، تو یہ مذہبی ہدایت نہیں بلکہ ریاستی جبر بن جاتا ہے۔ اسماعیلی اور شیعہ برادریوں پر دباؤ، تعلیمی اداروں میں مسلکی یکسانیت کی کوشش، اور فوجداری و قانونی ڈھانچے میں فرقہ وارانہ ترجیح اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ یہاں دین کو اخلاقی رہنمائی کے بجائے نظریاتی کنٹرول کے آلے کے طور پر برتا جا رہا ہے۔

یہ نظام صرف مذہبی تنوع ہی نہیں بلکہ سیاسی اختلاف کو بھی برداشت نہیں کرتا۔ تنقید کو بغاوت، سوال کو فساد، اور اختلاف کو خارجی سازش قرار دینا دراصل کمزور اقتدار کی علامت ہے۔ جب ایک حکومت اپنی پالیسیوں کے دفاع کے لیے دلیل، شفافیت اور مکالمے کے بجائے خوف، قید، دھمکی اور خاموشی کا سہارا لے تو وہ اپنی اخلاقی بنیاد خود کمزور کر دیتی ہے۔ خواتین کارکنان، صحافی، ناقدین، مذہبی حلقوں کے اختلاف کرنے والے افراد، اور حتیٰ کہ خود طالبان کے اندر نسبتاً نرم یا اصلاح پسند آوازیں بھی دباؤ کا شکار رہی ہیں۔ عباس ستانکزئی جیسے بااثر فرد کے ساتھ برتاؤ اس داخلی حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ اس نظام میں اختلاف کی گنجائش بہت محدود ہے، چاہے وہ اختلاف خود طالبان کے اندر سے ہی کیوں نہ اٹھے۔

طالبان کے حامی موجودہ کیفیت کو امن اور استحکام سے تعبیر کرتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف خاموشی کو امن کہا جا سکتا ہے؟ اگر معاشرہ خوف زدہ ہو، میڈیا پابند ہو، خواتین گھروں میں محصور ہوں، اقلیتیں دباؤ میں ہوں، اور عام شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی حاصل نہ ہو تو یہ امن نہیں بلکہ جمود ہے۔ قبرستان کا سکوت بھی بظاہر پرسکون ہوتا ہے، مگر وہاں زندگی نہیں ہوتی۔ اسلامی حکمرانی کا مقصد محض نظم برقرار رکھنا نہیں بلکہ عدل، رحمت، مساوات، فلاح اور انسانی وقار کا تحفظ ہے۔ اگر قانون کمزور پر سخت اور طاقتور پر نرم ہو، اگر احتساب صرف رعایا کے لیے ہو اور حاکم خود کو قانون سے بالاتر سمجھے، تو پھر یہ عدل نہیں، اقتدار کا تحفظ ہے۔

طالبان کی حکمرانی کا سماجی پہلو بھی نہایت تشویش ناک ہے۔ خواتین کی تعلیم اور روزگار پر پابندیاں، جدید علوم سے بے اعتنائی، سماجی تنوع سے خوف، اور قبائلی روایات کو سخت مذہبی تعبیر کے ساتھ ملا کر نافذ کرنا افغانستان کو مستقبل سے کاٹنے کے مترادف ہے۔ اسلام نے علم، عدل، مشاورت، انسانی حرمت اور اجتماعی بھلائی پر زور دیا ہے، مگر موجودہ نظم میں ان اصولوں کی جگہ اطاعت، بندش، جمود اور بالا سے مسلط کردہ تصورِ دین نے لے لی ہے۔ یوں مذہب ایک اخلاقی و اصلاحی قوت کے بجائے ریاستی اختیار کے جواز نامے میں بدل جاتا ہے۔

ان تمام پہلوؤں کو سامنے رکھا جائے تو یہ کہنا مشکل نہیں کہ طالبان کی موجودہ “امارات” شرعی اسلامی حکومت کے مطلوبہ معیار پر پوری نہیں اترتی۔ نہ اس کی بنیاد عوامی بیعت پر ہے، نہ اس میں شورٰی کی روح موجود ہے، نہ قومی نمائندگی، نہ مذہبی آزادی، نہ سیاسی جوابدہی، نہ عدل و مساوات کی وہ جھلک جو اسلامی حکمرانی کا جوہر سمجھی جاتی ہے۔ زیادہ درست بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ ایک ایسا نظام ہے جو شریعت کے نام سے اپنی سیاسی بالادستی کو تقدس دینا چاہتا ہے، مگر عملاً ایک محدود گروہ کی جابرانہ، غیر نمائندہ اور شخصی حکمرانی کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اس لیے طالبان کی امارات کو اسلامی شرعی ریاست کہنا حقیقت سے زیادہ ایک سیاسی نعرہ معلوم ہوتا ہے، جبکہ اس کی اصل صورت اقتدار پر غاصبانہ قبضے سے زیادہ مختلف نظر نہیں آتی۔

Author

  • ڈاکٹر سید حمزہ حسیب شاہ ایک تنقیدی مصنف اور تجزیہ کار ہیں جو بین الاقوامی تعلقات میں مہارت رکھتے ہیں، خاص طور پر ایشیا اور جغرافیائی سیاست پر توجہ دیتے ہیں۔ انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اردو میں اور علمی اور پالیسی مباحثوں میں فعال طور پر حصہ ڈالتا ہے۔
    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔