میری رائے میں پاکستان کے فکری اور قومی مباحث میں جس اصول کو سب سے زیادہ سنجیدگی سے دوبارہ سمجھنے کی ضرورت ہے، وہ وسطیت ہے۔ اسلام نے امتِ مسلمہ کو سورۂ بقرہ کی آیت 143 میں “امتِ وسط” قرار دے کر یہ واضح کر دیا کہ مسلمان نہ افراط کے راستے پر چلنے کے مجاز ہیں اور نہ تفریط کے۔ وسطیت کا مطلب کمزوری، بے اصولی یا مصلحت پرستی نہیں، بلکہ حق، عدل، توازن اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہے۔ یہ وہ دینی قدر ہے جو عبادت کو انسان دوستی سے، شریعت کو اخلاق سے، اور ایمان کو معاشرتی ذمہ داری سے جوڑتی ہے۔ پاکستان جیسے متنوع اور حساس معاشرے میں یہ اصول محض ایک مذہبی اصطلاح نہیں بلکہ قومی بقا، سماجی ہم آہنگی اور سیاسی استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے۔
اسلامی تعلیمات میں وسطیت کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ قرآن مجید بار بار عدل، احسان، میانہ روی، صبر، مشاورت اور فساد سے اجتناب کی تلقین کرتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت بھی اسی توازن کی روشن مثال ہے۔ آپؐ نے عبادت میں شدت پسندی کو پسند نہیں فرمایا، دنیا سے کنارہ کشی کو دین کا مقصود نہیں بتایا، اور معاشرتی معاملات میں آسانی، رحمت اور حکمت کو اختیار فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی اخلاقیات میں وسطیت صرف ایک نظری تصور نہیں بلکہ ایک زندہ اسلوبِ حیات ہے۔ یہ انسان کو سکھاتی ہے کہ وہ اپنے نفس، اپنے گھر، اپنی برادری، اپنے عقیدے اور اپنی ریاست کے حقوق میں توازن قائم کرے۔ اس نظر سے دیکھا جائے تو وسطیت اسلام کے مزاج کی اصل روح ہے۔
برصغیر کی اسلامی علمی روایت بھی اسی اعتدال کی امین رہی ہے۔ یہاں کے بڑے علما، صوفیا اور فقہا نے دین کو سماجی خیر، اخلاقی اصلاح اور عوامی بھلائی سے جوڑ کر سمجھا۔ انہوں نے یہ سکھایا کہ ایمان کا تقاضا صرف ظاہری جوش نہیں بلکہ کردار کی پختگی، برداشت، انصاف اور معاشرتی سکون بھی ہے۔ مدارس، خانقاہوں اور علمی حلقوں کی بہترین روایت یہی تھی کہ اختلاف کو فساد میں نہ بدلا جائے، مذہبی وابستگی کو انسان دشمنی نہ بنایا جائے، اور شریعت کی تعبیر کو زمانے کے مسائل سے بے تعلق نہ رکھا جائے۔ یہی متوازن دینی مزاج برصغیر کے مسلمانوں کی پہچان بنا اور اسی نے مذہب کو عوامی زندگی میں ایک اخلاقی قوت کے طور پر قائم رکھا۔
پاکستان کے قیام کے فکری پس منظر میں بھی یہی توازن صاف دکھائی دیتا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے ایک ایسے ملک کا تصور پیش کیا جہاں مسلمان اپنی دینی اور تہذیبی شناخت کے مطابق آزادانہ زندگی گزار سکیں، مگر ساتھ ہی ریاست قانون، انصاف، نظم اور شہری مساوات کے اصولوں پر قائم ہو۔ ان کی سیاسی بصیرت کا اہم پہلو یہ تھا کہ مذہب کو انتشار، نفرت اور گروہی تسلط کا ہتھیار نہ بنایا جائے بلکہ ایک ایسی اخلاقی قوت سمجھا جائے جو ریاستی دیانت، اقلیتوں کے حقوق اور قومی نظم کو مضبوط کرے۔ میرے نزدیک یہی پاکستان کی اصل فکری سمت ہے: ایک ایسا ملک جو اسلامی ہو مگر تنگ نظر نہ ہو، بااصول ہو مگر متشدد نہ ہو، اور مذہبی ہو مگر انصاف اور شہریت کے تقاضوں سے غافل نہ ہو۔
پاکستان کے آئینی اور قانونی ڈھانچے میں بھی وسطیت کی جھلک موجود ہے۔ ایک طرف اسلام کو ریاستی شناخت اور قانون سازی کے لیے رہنما اصول کے طور پر تسلیم کیا گیا، دوسری طرف شہری حقوق، نمائندہ نظام، عدالتی طریقِ کار اور ادارہ جاتی توازن کی بنیاد بھی رکھی گئی۔ یہ امتزاج خود اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی نظریاتی ساخت محض جذباتی نعرے پر نہیں بلکہ ایک متوازن اخلاقی تصور پر قائم ہے۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس اعتدال کا نظریہ موجود نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے اسے سیاسی مفاد، مسلکی عصبیت اور وقتی ہیجان کے نیچے دبا دیا ہے۔ جب اصول کمزور ہو جائیں اور شور غالب آ جائے تو معاشرہ اپنے مرکز سے ہٹ جاتا ہے۔
عصرِ حاضر میں پاکستان کو جن بڑے خطرات کا سامنا ہے، ان میں انتہا پسندی، فرقہ واریت اور سیاسی قطبیت نمایاں ہیں۔ یہ تینوں بیماریاں دراصل وسطیت سے انحراف کی صورتیں ہیں۔ انتہا پسندی دین کو سختی، غصے اور نفرت میں محدود کر دیتی ہے؛ فرقہ واریت امت کو باہمی احترام کے بجائے دشمنی میں بدل دیتی ہے؛ اور سیاسی قطبیت قومی مفاد کو گروہی فتح و شکست کے کھیل میں گم کر دیتی ہے۔ یہ سب رویے قرآن کے اس تصور سے متصادم ہیں جس میں امت کو گواہی، عدل اور توازن کی حامل جماعت کہا گیا ہے۔ اس لیے یہ کہنا درست ہے کہ شدت پسندی اسلام کی سچی نمائندہ نہیں، بلکہ اس کی اصل روح سے بغاوت ہے۔ جو فکر انسان کو غیر مسلم، مخالف یا دوسرے مسلک کے ماننے والے کے خلاف نفرت پر ابھارے، وہ اسلامی وسطیت سے بہت دور جا چکی ہوتی ہے۔
وسطیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ عبادت اور شہریت کو ایک دوسرے کی ضد نہیں سمجھتی۔ ایک مسلمان مسجد میں بھی ذمہ دار ہے اور بازار، عدالت، دفتر، درسگاہ اور پارلیمان میں بھی۔ دینداری کا مطلب یہ نہیں کہ انسان قومی قانون، اجتماعی نظم اور عوامی مفاد سے لاتعلق ہو جائے۔ اسی طرح ریاستی وفاداری کا مطلب یہ بھی نہیں کہ مذہبی شناخت کو نجی گوشے تک محدود کر دیا جائے۔ اصل کمال یہ ہے کہ ایمان انسان کو بہتر شہری بنائے، اور شہری ذمہ داری اسے زیادہ بااخلاق مسلمان بنائے۔ پاکستان میں اگر اس شعور کو فروغ دیا جائے تو دینی وابستگی اور آئینی فرض ایک دوسرے کے معاون بن سکتے ہیں، متصادم نہیں۔
آج سب سے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ وسطیت کو محض خطبات اور نصیحتوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے زندہ سماجی قدر بنایا جائے۔ اس میں تعلیمی نصاب کا بڑا کردار ہے۔ بچوں اور نوجوانوں کو ایسا دینی اور شہری شعور دیا جائے جو اختلاف کو برداشت کرنا، دلیل سے بات کرنا، اور قومی تنوع کو قبول کرنا سکھائے۔ ذرائع ابلاغ کو سنسنی، نفرت اور مسلسل محاذ آرائی کے بجائے ذمہ دار مکالمے، تاریخی شعور اور قومی یکجہتی کو فروغ دینا چاہیے۔ ریاستی حکمتِ عملی میں بھی ایسے اقدامات ہونے چاہییں جو مسلکی ہم آہنگی، بین العلاقائی احترام، انصاف کی فراہمی اور سماجی شرکت کو بڑھائیں۔ جب قانون، تعلیم، مذہبی قیادت اور ابلاغی فضا ایک ہی سمت میں اعتدال کو تقویت دیں گے تو وسطیت محض کتابی بحث نہیں رہے گی بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ بنے گی۔
میرے نزدیک پاکستان میں وسطیت کی بازیافت محض ایک دینی ضرورت نہیں بلکہ ایک قومی ضرورت بھی ہے۔ یہ اصول ہمیں بتاتا ہے کہ طاقت کا استعمال قانون کے تابع ہو، اختلاف دشمنی میں نہ بدلے، مذہب نفرت کے بجائے اخلاق کا سرچشمہ بنے، اور ریاست کسی ایک گروہ کی نہیں بلکہ سب شہریوں کی امانت سمجھی جائے۔ اگر پاکستان کو ایک پُرامن، باوقار اور مستحکم ملک بنانا ہے تو اسے اپنے فکری مرکز کی طرف لوٹنا ہوگا، اور وہ مرکز وسطیت ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں داخلی انتشار سے نکال سکتا ہے، بیرونی منفی بیانیوں کا جواب دے سکتا ہے، اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے سکتا ہے جس میں ایمان بھی محفوظ ہو، انسان بھی باعزت ہو، اور ریاست بھی مضبوط ہو۔ وسطیت پاکستان کے لیے ماضی کی یاد نہیں، حال کی ضرورت اور مستقبل کی ضمانت ہے۔
Author
-
View all posts
محمد عبداللہ آسٹن یونیورسٹی، برطانیہ میں بین الاقوامی تعلقات میں امیدوار۔ ان کی تحقیقی دلچسپیاں عالمی سلامتی، خارجہ پالیسی کے تجزیہ اور بین الاقوامی سفارت کاری کی ابھرتی ہوئی حرکیات پر مرکوز ہیں۔ وہ علمی گفتگو میں فعال طور پر مصروف ہیں اور جنوبی ایشیائی جغرافیائی سیاست اور کثیر جہتی تعلقات پر خاص زور دینے کے ساتھ علمی پلیٹ فارمز میں حصہ ڈالتے ہیں۔