مدارسِ دینیہ ہماری تہذیبی، علمی اور روحانی تاریخ کا نہایت اہم حصہ ہیں۔ صدیوں سے ان اداروں نے قرآن و سنت کی تعلیم، اخلاقی تربیت، فقہی رہنمائی اور معاشرتی اصلاح میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ انہی مدارس سے ایسے علماء، اساتذہ، مصلحین اور دینی قائدین پیدا ہوئے جنہوں نے معاشرے کو علم، تقویٰ، خدمت اور خیر خواہی کا راستہ دکھایا۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ برصغیر میں دینی شناخت، اسلامی اقدار اور علمی روایت کے تحفظ میں مدارس کا کردار نہایت نمایاں رہا ہے۔ تاہم ہر زندہ معاشرہ وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنے اداروں کا جائزہ لیتا ہے، کمزوریوں کو دور کرتا ہے اور بہتری کی نئی راہیں تلاش کرتا ہے۔ اسی تناظر میں مدارس کی تعلیمی اصلاحات کو دین کے خلاف اقدام سمجھنا درست نہیں بلکہ اسے دین کے حقیقی، متوازن اور پُرامن پیغام کے تحفظ کی کوشش سمجھنا چاہیے۔
اسلام علم، شعور اور غور و فکر کا دین ہے۔ قرآنِ مجید کا پہلا حکم “اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ” اس بات کا اعلان ہے کہ مسلمان معاشرہ جہالت، اندھی تقلید اور جذباتی شدت کے بجائے علم، دلیل اور فکری بیداری پر قائم ہونا چاہیے۔ اگر دینی تعلیم صرف الفاظ کی حد تک محدود رہے اور طلبہ کو نصوص کے تاریخی، فقہی، اخلاقی اور معاشرتی سیاق سے آگاہ نہ کیا جائے تو غلط تعبیرات کے لیے گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔ یہی خلا بعض انتہا پسند عناصر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وہ آیات، احادیث یا فقہی مباحث کو مکمل علمی پس منظر سے کاٹ کر پیش کرتے ہیں اور نوجوان ذہنوں میں سخت گیری، نفرت اور عدم برداشت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مدارس میں مستند علماء کی رہنمائی کے تحت متوازن تفسیر، اصولِ فقہ، مقاصدِ شریعت اور اخلاقی تعلیمات کو زیادہ مؤثر انداز میں پڑھایا جائے۔
اسلام کا بنیادی مزاج اعتدال ہے۔ قرآن مسلمانوں کو “اُمّتِ وسط” قرار دیتا ہے، یعنی ایسی جماعت جو توازن، عدل، حکمت اور میانہ روی کی حامل ہو۔ یہ تصور انتہا پسندی کی ہر شکل کی نفی کرتا ہے، خواہ وہ فکری ہو، مذہبی ہو یا سماجی۔ نبی کریم ﷺ نے غلو سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ غلو کرنے والے ہلاک ہوگئے۔ یہ ارشاد صرف ایک تاریخی تنبیہ نہیں بلکہ ہر دور کے مسلمانوں کے لیے اصولی رہنمائی ہے۔ دین میں سخت گیری، تکفیر، نفرت انگیزی اور تشدد کو جگہ دینا دراصل اسلام کے رحمت، عدل اور حکمت پر مبنی پیغام کو مسخ کرنا ہے۔ مدارس کے نصاب میں اس نبوی مزاج کو مرکزی حیثیت دینی چاہیے تاکہ طلبہ دین کو تنگ نظری نہیں بلکہ خیر، اصلاح اور انسانیت کی فلاح کے زاویے سے سمجھیں۔
پاکستان کے حالات میں مدارس کی اصلاحات کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔ یہاں بعض شدت پسند تنظیموں نے مذہبی جذبات، فرقہ وارانہ اختلافات اور نوجوانوں کی فکری ناپختگی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ جب نصاب میں تنقیدی فکر، شہری شعور، آئینی آگاہی، بین المسالک احترام اور جدید معاشرتی مسائل کی تفہیم کمزور ہو تو طلبہ غیر متوازن بیانیوں کے مقابلے میں زیادہ غیر محفوظ ہو جاتے ہیں۔ اصلاحات کا مقصد مدارس کی دینی حیثیت کم کرنا نہیں بلکہ انہیں زیادہ مضبوط، باوقار اور مؤثر بنانا ہے۔ ایک ایسا طالب علم جو قرآن و سنت بھی سمجھتا ہو، آئین و قانون کا احترام بھی جانتا ہو، معاشرتی ذمہ داری بھی محسوس کرتا ہو اور جدید دنیا کے سوالات کا جواب بھی دے سکتا ہو، وہی حقیقی معنوں میں قوم کا مفید فرد بن سکتا ہے۔
آج کا انتہا پسند بیانیہ صرف جلسوں، پمفلٹوں یا محدود حلقوں تک محدود نہیں رہا بلکہ ڈیجیٹل دنیا میں بھی تیزی سے پھیلتا ہے۔ سوشل میڈیا، ویڈیوز، مختصر پیغامات اور جذباتی نعروں کے ذریعے نوجوانوں کو متاثر کیا جاتا ہے۔ اس لیے مدارس کے طلبہ کے لیے ڈیجیٹل لٹریسی ناگزیر ہے۔ انہیں یہ سکھایا جانا چاہیے کہ آن لائن مواد کو کیسے پرکھا جائے، مذہبی دعووں کی علمی حیثیت کیسے جانچی جائے، اشتعال انگیز پروپیگنڈے کو کیسے پہچانا جائے اور مستند علمی ذرائع تک کیسے پہنچا جائے۔ اسی طرح تنقیدی فکر کا مطلب دین سے دوری نہیں بلکہ دین کو زیادہ گہرائی، ذمہ داری اور شعور کے ساتھ سمجھنا ہے۔ ایک باشعور طالب علم جذباتی نعروں کے بجائے دلیل، تحقیق اور معتبر علمی روایت کو ترجیح دیتا ہے۔
مدارس میں بین المسالک ہم آہنگی کا فروغ بھی اصلاحات کا اہم حصہ ہونا چاہیے۔ پاکستان کا معاشرہ مختلف فقہی، مسلکی اور فکری روایتوں پر مشتمل ہے۔ اختلاف اگر علم، ادب اور دلیل کے دائرے میں رہے تو وہ فکری وسعت کا باعث بنتا ہے، لیکن جب اختلاف نفرت، تکفیر اور دشمنی میں بدل جائے تو معاشرہ کمزور ہو جاتا ہے۔ قرآن مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامو اور تفرقے میں نہ پڑو۔ اس قرآنی اصول کی روشنی میں طلبہ کو یہ تعلیم دی جانی چاہیے کہ فقہی اختلاف دشمنی نہیں، علمی روایت کا حصہ ہے۔ دوسرے مسالک کے بارے میں احترام، احتیاط اور انصاف پر مبنی رویہ قومی وحدت کے لیے ضروری ہے۔
جدید علوم کو مدارس کے نصاب میں شامل کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ دینی علوم کی مرکزیت برقرار رکھتے ہوئے زبان، تاریخ، معاشرت، معاشیات، قانون، کمپیوٹر، ابلاغیات اور سائنسی شعور جیسے مضامین طلبہ کے لیے نئے امکانات کھول سکتے ہیں۔ اس سے مدارس کے فارغ التحصیل نوجوان صرف محدود پیشہ وارانہ دائرے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ وہ تعلیم، تحقیق، سماجی خدمت، میڈیا، قانون، انتظامیہ اور قومی ترقی کے دیگر شعبوں میں بھی مثبت کردار ادا کر سکیں گے۔ اسلام دنیا سے کٹ جانے کا نہیں بلکہ دنیا کو اخلاق، عدل اور خیر کے اصولوں پر بہتر بنانے کا درس دیتا ہے۔ اس لیے جدید تعلیم کو دینی تعلیم کا حریف نہیں بلکہ معاون سمجھنا چاہیے۔
اصل مسئلہ مدارس یا دینی تعلیم نہیں بلکہ وہ غیر متوازن تعبیرات ہیں جو دین کے نام پر نفرت، تشدد اور فساد کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ مدارس کی اصلاحات اسی خطرے کا علمی، اخلاقی اور تعلیمی جواب ہیں۔ متوازن دینی لٹریچر، مستند علمی نگرانی، آئینی شعور، شہری ذمہ داری، بین المسالک احترام اور جدید تعلیم کے امتزاج سے ایسے طلبہ تیار کیے جا سکتے ہیں جو اسلام کے پُرامن چہرے کے نمائندہ ہوں۔ معاشرے کو فساد، تقسیم اور انتہا پسندی سے بچانا صرف ریاستی ضرورت نہیں بلکہ اسلامی فریضہ بھی ہے۔ اگر مدارس اپنے شاندار علمی ورثے کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر لیں تو وہ نہ صرف انتہا پسندی کے خلاف مضبوط فکری دیوار بن سکتے ہیں بلکہ پاکستان کی قومی وحدت، اخلاقی تعمیر اور پُرامن مستقبل کے ضامن بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔
Author
-
View all posts
ظہیرال خان ایک مضبوط تعلیمی اور پیشہ ورانہ پس منظر کے ساتھ، وہ بین الاقوامی تعلقات میں مہارت رکھتا ہے اور بڑے پیمانے پر سیکورٹی اور اسٹریٹجک امور کے ماہر کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔