پاکستان کی بنیاد مساوات، انصاف، مذہبی آزادی اور شمولیت کے اصولوں پر رکھی گئی تھی۔ قائداعظم محمد علی جناح نے جس پاکستان کا تصور پیش کیا تھا، اس میں ہر شہری کو، خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب، نسل یا برادری سے ہو، برابر حقوق اور اپنی عبادت و عقیدے پر آزادانہ عمل کا حق حاصل ہونا تھا۔ یہی تصور آج بھی پاکستان کی آئینی، اخلاقی اور قومی سمت کا بنیادی حوالہ ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستان نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے جو قانونی، ادارہ جاتی اور سماجی اقدامات کیے ہیں، وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک بتدریج ایک زیادہ جامع، روادار اور متحد معاشرے کی طرف بڑھ رہا ہے۔
اس سفر میں سب سے اہم پیش رفت قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق ایکٹ ۲۰۲۵ کی منظوری ہے، جسے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس نے ۲ دسمبر ۲۰۲۵ کو منظور کیا اور بعد ازاں صدرِ مملکت کی توثیق سے یہ قانون بن گیا۔ یہ اقدام محض ایک قانونی کارروائی نہیں بلکہ ایک تاریخی تبدیلی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے عارضی یا غیر مستقل انتظامات کے بجائے ایک مستقل قانونی ادارہ قائم کیا گیا ہے۔ اٹھارہ رکنی کمیشن میں ہندو، مسیحی، سکھ، بہائی اور پارسی برادریوں کی نمائندگی شامل ہے، جبکہ انسانی حقوق کے ماہرین اور متعلقہ حکومتی نمائندے بھی اس کا حصہ ہیں۔ اس کمیشن کو اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات، حکومتی پالیسیوں پر عمل درآمد کی نگرانی، اداروں کو مشورے دینے اور غیر مسلم شہریوں کے سماجی، معاشی، ثقافتی اور مذہبی حقوق کے فروغ کا اختیار دیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت اس لیے بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس سے سپریم کورٹ کے ۲۰۱۴ کے ایک دیرینہ حکم پر عملی پیش رفت ہوئی ہے۔ کسی بھی ریاست میں قانون اسی وقت مؤثر ہوتا ہے جب اس کے ساتھ مستقل ادارہ جاتی ڈھانچا بھی موجود ہو۔ قومی کمیشن کا قیام اسی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ اب اصل امتحان اس کمیشن کو مکمل طور پر فعال بنانے، اس کے قواعد و ضوابط کو مؤثر انداز میں نافذ کرنے اور اسے حقیقی اختیارات دینے کا ہے۔ اگر یہ ادارہ غیر جانبداری، شفافیت اور مستقل مزاجی سے کام کرتا ہے تو یہ پاکستان میں اقلیتی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط ستون ثابت ہو سکتا ہے۔
صوبائی سطح پر بھی کئی اہم اصلاحات سامنے آئی ہیں، خصوصاً پنجاب میں اقلیتوں کی عبادت گاہوں اور اجتماعی املاک کے تحفظ کے لیے قانون سازی قابلِ تحسین ہے۔ پنجاب تحفظِ اجتماعی املاکِ اقلیت ایکٹ ۲۰۲۶ کے تحت چرچ، مندر، گردوارے اور دیگر مذہبی و کمیونٹی اثاثوں کو غیر قانونی قبضے، غلط استعمال یا نقصان سے بچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اقلیتوں کے لیے عبادت گاہیں صرف عمارتیں نہیں ہوتیں بلکہ ان کی شناخت، تاریخ، عقیدے اور اجتماعی وقار کی علامت ہوتی ہیں۔ ان مقامات کا تحفظ دراصل ریاستی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ قومی اخلاقیات کا بھی تقاضا ہے۔
جبری تبدیلی مذہب، کم عمری کی شادیوں اور اقلیتی لڑکیوں کے تحفظ سے متعلق اصلاحات بھی نہایت اہم ہیں۔ مجوزہ قوانین میں جبری مذہبی تبدیلی کو جرم قرار دینے اور پانچ سال تک قید کی سزائیں متعارف کرانے کی بات کی گئی ہے، جبکہ کم عمر شادیوں کے خلاف سخت حفاظتی اقدامات بھی شامل ہیں۔ مسیحی شادی ترمیمی ایکٹ ۲۰۲۴ کے ذریعے شادی کی قانونی عمر اٹھارہ سال مقرر کرنا ایک مثبت قدم ہے۔ ایسے قوانین خاص طور پر کمزور طبقات کی لڑکیوں کو استحصال، دباؤ اور سماجی ناانصافی سے بچانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ تاہم قانون سازی کے ساتھ مقامی سطح پر آگاہی، پولیس و عدالتی تربیت اور کمیونٹی تعاون بھی لازمی ہے۔
پاکستان نے اقلیتی برادریوں کے لیے تعلیمی اور فلاحی مواقع بڑھانے پر بھی توجہ دی ہے۔ اقلیتی ویلفیئر فنڈ، میرٹ پر مبنی وظائف، اسکولوں کی بہتری، نئی تعلیمی سہولتوں کی تعمیر اور سماجی ترقی کے منصوبے اس سمت میں عملی اقدامات ہیں۔ تعلیم کسی بھی کمیونٹی کی ترقی کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ جب اقلیتی طلبہ کو معیاری تعلیم، وظائف اور بہتر سہولتیں ملتی ہیں تو وہ نہ صرف اپنی برادری بلکہ پورے ملک کی ترقی میں فعال کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی طرح قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستیں اقلیتوں کی سیاسی شمولیت کو یقینی بناتی ہیں، اگرچہ اس نظام کو مزید بامعنی اور بااختیار بنانے کی گنجائش موجود ہے۔
بین المذاہب ہم آہنگی پاکستان کے مستقبل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے تحت مکالمے، رواداری اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔ ہر سال ۱۱ اگست کو قومی یومِ اقلیت منانا قائداعظم کے اس پیغام کو تازہ کرتا ہے کہ ریاست کا ہر شہری برابر ہے۔ “سایہ بانِ پاکستان” جیسے پروگرام، انسانی حقوق آگاہی مہمات، نصاب میں ہم آہنگی کے پیغامات اور بین الاقوامی سطح پر مذہبی رواداری کے لیے تعاون پاکستان کی مثبت سمت کو نمایاں کرتے ہیں۔ ایسے اقدامات معاشرے میں خوف، بداعتمادی اور تعصب کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
بلاشبہ چیلنجز ابھی ختم نہیں ہوئے۔ قوانین کی مؤثر عمل داری، مقامی انتظامیہ کی حساسیت، عدالتی رسائی، نفرت انگیز بیانیے کا سدباب اور سول سوسائٹی کے ساتھ مضبوط تعاون ناگزیر ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں اقلیتی حقوق کے حوالے سے اصلاحات اب محض نعروں تک محدود نہیں رہیں بلکہ اداروں، قوانین، پالیسیوں اور سماجی پروگراموں کی شکل اختیار کر رہی ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک مضبوط، پُرامن اور متحد پاکستان کی طرف لے جاتا ہے۔
پاکستان کی اصل طاقت اس کی متنوع آبادی ہے۔ ہندو، مسیحی، سکھ، پارسی، بہائی، کیلاش اور دیگر برادریاں اس قومی گلدستے کے اہم پھول ہیں۔ جب ہر شہری کو عزت، تحفظ، انصاف اور موقع ملتا ہے تو ریاست مضبوط ہوتی ہے۔ آج پاکستان جس سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، اس کا پیغام واضح ہے: ایک قوم، ایک مستقبل۔ ایسا مستقبل جہاں مساوات بنیاد ہو، وقار ہر شہری کا حق ہو، اور مذہبی تنوع قومی کمزوری نہیں بلکہ اجتماعی طاقت سمجھا جائے۔
Author
-
View all posts
مصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔