Nigah

پی ٹی آئی اور خوارج پر خاموشی کا بڑا سوال

[post-views]

اکتوبر 2026 کا پاکستان ایک بار پھر اسی پرانی تصویر میں قید نظر آتا ہے، ایک طرف خیبرپختونخوا کی سرزمین پر خوارج کے حملوں کی آگ سلگ رہی ہے، دوسری طرف پی ٹی آئی کا قافلہ اسلام آباد کی طرف مارچ کر رہا ہے۔ مطالبات وہی ہیں، نعرے وہی ہیں۔ مگر ایک چیز جو اس پورے سیاسی تماشے میں مسلسل غائب ہے، وہ ہے خوارج اور دہشت گردوں کی واضح، غیر مشروط اور بلا تاخیر مذمت۔

پی ٹی آئی نے اپنا لانگ مارچ 4 اکتوبر 2026 کو لکی مروت سے شروع کیا، جس کی قیادت خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل افریدی نے کی۔ مارچ کا مقصد عمران خان کی رہائی اور وفاقی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج بتایا گیا۔ لیکن جب مذاکرات ہوئے تو وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا کہ مذاکرات بنیادی طور پر اس لیے ناکام ہوئے کیونکہ خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی کروانے میں ناکام رہی۔

یہ محض ایک سیاسی اختلاف نہیں تھا۔ یہ ایک بنیادی سوال تھا، کیا صوبائی حکومت واقعی ریاست کے ساتھ کھڑی ہے؟

مزمل اسلم کی ہچکچاہٹ اور بے یقینی

اس پورے بحران میں خیبرپختونخوا کے مالیاتی مشیر مزمل اسلم کا کردار بطور ترجمان سامنے آیا۔ مزمل اسلم نے اس تاثر کو رد کیا کہ صوبائی حکومت سلامتی کو نظرانداز کر رہی ہے، اور کہا کہ صوبے نے فروری 2024 سے امنِ عامہ پر اخراجات کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے بجٹ کے اعداد و شمار بھی پیش کیے۔ مگر مسئلہ بجٹ کا نہیں تھا۔

مسئلہ یہ تھا کہ جب بھی پوچھا گیا کہ کیا پی ٹی آئی قیادت خوارج اور ٹی ٹی پی دہشت گردوں کی کھل کر مذمت کرتی ہے، تو جواب ہمیشہ اعداد، پالیسیوں اور وفاق پر الزامات کی شکل میں آیا، براہِ راست "ہاں” کبھی نہیں آئی۔ حکومتی حلقوں میں یہ بیان زیرِ بحث رہا کہ مزمل اسلم کے بیان نے پی ٹی آئی کی آگاہی کی سطح کو بے نقاب کر دیا۔

سیاسی زبان میں یہ "diplomatic ambiguity” کہلاتی ہے۔ عوامی اعتماد کی زبان میں اسے کچھ اور نام دیا جاتا ہے۔

خوارج کے ساتھ خاموشی کی قیمت

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی نے کبھی ٹی ٹی پی کے خلاف آواز نہیں اٹھائی، اور خیبرپختونخوا کے بعض اضلاع میں دہشت گرد بلاروک ٹوک گھومتے ہیں جہاں صوبائی حکومت کی رٹ ہی نہیں۔ یہ ایک سنگین الزام ہے، جسے محض سیاسی بیانبازی کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ زمینی حقائق اس سے میل کھاتے ہیں۔

سیکیورٹی تجزیہ کاروں نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ وفاق اور صوبے کے درمیان مسلسل کشمکش دہشت گردوں کے ہاتھ میں کھیل سکتی ہے۔ اور یہ ہو بھی رہا ہے۔ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت ہے اور اسٹیبلشمنٹ کی عمران خان سے ناراضگی نے پارٹی کارکنوں کو احتجاجی سیاست کی طرف دھکیلا ہے۔ نتیجہ یہ کہ صوبے کی توجہ سیاست پر ہے، سلامتی پر نہیں۔

مارچ کے دوران انٹیلی جنس ذرائع نے دعویٰ کیا کہ شرکاء میں گل بہادر گروپ سے منسلک ایک مشتبہ عسکریت پسند بھی شامل تھا۔ اب خواہ یہ الزام درست ہو یا نہ ہو، سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے اس پر کیا ردِعمل دیا؟ کیا انہوں نے کوئی واضح بیان جاری کیا؟ کیا کسی لیڈر نے کہا کہ "ہمارے مارچ میں خوارج کی کوئی جگہ نہیں”؟ جواب آپ کو معلوم ہے۔

سیاست اور ریاست کا فرق

خیبرپختونخوا کے ایک سابق گورنر نے واضح کہا کہ صوبہ دہشت گردی کا شکار ہے، اور پھر بھی پی ٹی آئی اسلام آباد کی طرف مارچ کرنا چاہتی ہے۔ یہ ترجیحات کا بحران ہے۔ جب آپ کے اپنے صوبے میں لوگ مر رہے ہوں، گھر اجڑ رہے ہوں، اور آپ وفاق کے خلاف سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنے نکل پڑیں، تو سوال اٹھتا ہے کہ اصل ایجنڈا کیا ہے؟

پی ٹی آئی نے اپنے بیان میں دہشت گردی کی مذمت کا ذکر کیا اور کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ قومی ترجیح ہونی چاہیے۔ لیکن یہ ایک عمومی، سیاسی، کاغذی بیان ہے، خوارج اور ٹی ٹی پی کو براہِ راست نہ نامزد کیا، نہ بطور دشمن قبول کیا۔ فرق صرف الفاظ کا نہیں، نیت کا ہے۔

جب خاموشی بولتی ہے

ایک قاعدہ ہے سیاست میں، آپ جس چیز کی مذمت سے گریز کرتے ہیں، اس سے آپ کا ایک رشتہ قائم ہو جاتا ہے، چاہے وہ رشتہ آپ مانیں یا نہ مانیں۔

پی ٹی آئی نے برسوں سے خوارج دہشت گردوں کے خلاف وہ واضح اور جرأتمندانہ موقف نہیں اپنایا جو ایک ذمہ دار سیاسی جماعت سے توقع کی جاتی ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول نے صاف کہا کہ دہشت گردی کو سیاسی عینک سے نہ دیکھا جائے، یہ قومی مسئلہ ہے اور تمام جماعتوں کو مل کر اس کا سامنا کرنا ہوگا۔ یہ درست موقف ہے۔ مگر جب تک پی ٹی آئی اس قومی یکجہتی کا حصہ بننے سے انکار کرتی رہے گی، تب تک عوام کو حق ہے کہ وہ سوال اٹھائیں۔

خیبرپختونخوا کے عوام ہر روز خوارج دہشت گردی کی قیمت ادا کرتے ہیں۔ انہیں ضرورت ہے ایسی قیادت کی جو ان کے ساتھ کھڑی ہو، نہ صرف اسلام آباد کے مارچوں میں، بلکہ دہشت گردوں کے خلاف کھل کر بولنے میں بھی۔ سیاست بعد میں ہوتی رہے گی، پہلے یہ سوال جواب مانگتا ہے:

پی ٹی آئی خوارج کے ساتھ ہے یا عوام کے ساتھ؟ خاموشی خود ایک جواب ہے۔

Author

اوپر تک سکرول کریں۔