Nigah

سیاست میں اصول کہاں گئے، مولانا صاحب؟

پاکستانی سیاست کا ایک انوکھا مظہر یہ ہے کہ یہاں وقت کے ساتھ چہرے بدلتے ہیں، بیانیے بدلتے ہیں، اتحاد بدلتے ہیں، مگر اقتدار کی تلاش کبھی نہیں بدلتی۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کئی دہائیوں سے پاکستانی سیاست کا ایک مستقل کردار ہیں۔ انہوں نے ہر دور میں مختلف سیاسی چہرے اپنائے، کبھی حکومت کے ستون بنے، کبھی اپوزیشن کی آواز۔ لیکن حالیہ دنوں میں ان کے بیانات نے ایک ایسی بحث چھیڑ دی ہے جو محض سیاسی اختلاف کی حدود سے بہت آگے نکل گئی ہے۔

مولانا صاحب نے شہداء کی قربانیوں کو جس انداز میں زیرِبحث لایا، اس نے پورے ملک میں ردعمل کی لہر پیدا کر دی۔ وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے واضح الفاظ میں کہا کہ فوجی جوانوں کی وطن کے لیے قربانی کو تنخواہ سے جوڑنا غیر منصفانہ ہے اور یہ شہداء اور ان کے خاندانوں کی دل آزاری کے مترادف ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کوئی شخص محض تنخواہ کے لیے جان نہیں دیتا۔ ان کے بقول مولانا نے صرف ایک ادارے کو نہیں بلکہ ہزاروں شہداء، غازیوں، بیواؤں اور یتیموں کے جذبات کو مجروح کیا۔

یہ بات درست ہے کہ جمہوریت میں اختلافِ رائے ہر شہری کا حق ہے۔ ادارو ں پر تنقید سیاست کا حصہ ہو سکتی ہے، حکومتی پالیسیوں پر سوال بھی اٹھائے جا سکتے ہیں۔ لیکن شہداء کی قربانیوں کو کسی سیاسی نکتے کے لیے استعمال کرنا ایک ایسی لکیر ہے جسے پار کرنا کسی بھی ذمہ دار سیاستدان کو زیب نہیں دیتا۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ مساجد، امام بارگاہیں اور مدارس شہداء کے خون کی بدولت آباد ہیں، مولانا کا بیانیہ ملک دشمن بیانیہ ہے جس سے دشمن قوتیں خوش ہوں گی، اور موجودہ حالتِ جنگ میں ایک جماعت کے سربراہ کو ایسی بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔

پنجاب اسمبلی میں تیسری مذمتی قرارداد جمع ہوئی جس کے متن میں مولانا کے بیان کو افسوسناک، غیر ذمہ دارانہ اور قومی یکجہتی کے منافی قرار دیا گیا، اور کہا گیا کہ ان کے بیان سے شہدائے پاکستان کے ورثا کی دل آزاری ہوئی۔ یہ رسمی احتجاج نہیں، قوم کا اجتماعی درد ہے جو مختلف اسمبلیوں میں الفاظ کی صورت میں ڈھل رہا ہے۔ گلگت بلتستان اسمبلی میں بھی متفقہ قرارداد منظور کی گئی جس میں کہا گیا کہ غیر ذمہ دارانہ بیان سے شہداء اور قوم کے جذبات مجروح ہوئے، اور سیاسی و مذہبی قیادت سے مطالبہ کیا گیا کہ ذمہ دارانہ بیانات دیں اور قومی یکجہتی برقرار رکھیں۔

اب ذرا مولانا صاحب کی اس سیاسی یاترا پر نظر ڈالیں جو دہائیوں پر محیط ہے۔ جو بیانیہ آج وہ اپناتے ہیں اور جو مؤقف وہ کل رکھتے تھے، ان میں ایک گہرا تضاد نظر آتا ہے۔ رجیم چینج کے دور میں وہ اسی سسٹم کے ساتھ کھڑے تھے، آج اسی سسٹم کو للکار رہے ہیں۔ اقتدار ملے تو سب درست، محرومی آئے تو سارا نظام قابلِ اعتراض۔ پاکستانی سیاست کا یہ پرانا رواج ہے، مگر ایک مذہبی اسکالر سے اس سے بلند توقع رکھنا غیر فطری نہیں۔

ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے امید ظاہر کی کہ مولانا جلد اپنے بیان پر قوم کو اعتماد میں لیں گے کیونکہ ریاست کی عزت و وقار اور قومی بیانیے کی حفاظت ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ یہ ایک مدلل اور متوازن موقف ہے۔ اختلاف کی پوری گنجائش ہے، مگر قومی یکجہتی کی لکشمن ریکھا کا احترام ہر سیاستدان پر لازم ہے۔

سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے مولانا سے گزارش کی کہ وہ شہداء سے متعلق بیان واپس لیں اور اسے انا کا مسئلہ نہ بنائیں۔

یہ مشورہ درست ہے کیونکہ سیاسی پختگی کا تقاضا یہی ہے کہ جب بات حد سے گزر جائے تو پیچھے ہٹنا طاقت کی نشانی ہے، کمزوری کی نہیں۔

پاکستان اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ خوارج اور دہشت گرد خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بے گناہ شہریوں کا خون بہا رہے ہیں۔ پاک فوج کے جوان ان تاریکیوں میں لڑ رہے ہیں جہاں خوف اور بندوق آمنے سامنے ہوتے ہیں۔ ایسے ماحول میں شہداء کی قربانیوں کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کرنا صرف بے حسی نہیں، دشمن کو ہتھیار فراہم کرنے کے مترادف بھی ہو سکتا ہے۔

مولانا فضل الرحمان پاکستانی سیاست کے سینئر ترین اور تجربہ کار رہنما ہیں۔ انہی کے والد مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی پوری سیاسی زندگی میں دین اور وطن کو ایک ساتھ چلایا۔ آج ان کی یاد میں منعقد کانفرنسوں میں وہ بیانات آتے ہیں جو اس میراث کو مجروح کرتے ہیں۔ یہ سوچنے کا مقام ہے کہ سیاسی مفادات کی دوڑ میں وراثتِ عمل کہیں پیچھے تو نہیں رہ گئی۔

قوم باخبر ہے، جاگ رہی ہے اور ہر لفظ کا حساب مانگ رہی ہے۔ مذہبی منصب کا احترام اسی وقت ممکن ہے جب اس منصب کے تقاضے پورے کیے جائیں۔ سیاست کی بساط پر جیتنا اور ہارنا چلتا رہتا ہے، مگر قوم کے دلوں میں جگہ ان اعمال سے ملتی ہے جو شہداء کے خون کا احترام کریں، قومی یکجہتی کو تقویت دیں اور ذاتی مفاد سے پاکستان کو آگے رکھیں۔

اصول پرست سیاست کا وقت آ گیا ہے۔ مولانا صاحب سے پوری قوم کی درخواست ہے کہ وہ اپنے الفاظ پر نظرِ ثانی کریں، شہداء کے اہلِ خانہ کے زخموں پر مرہم رکھیں، اور اپنے سیاسی قد کو ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھانے سے بچائیں۔ یہی ان کی اصل سیاسی اور مذہبی عظمت ہوگی۔

Author

اوپر تک سکرول کریں۔