Nigah

بلوچستان کے پہاڑوں میں دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ

دگنان آپریشن: پہاڑ بھی محفوظ پناہ گاہ نہیں
[post-views]
چاغی کا ضلع، بلوچستان کے مغربی سرے پر واقع، صدیوں سے اپنے سنگلاخ اور دشوار گزار پہاڑی سلسلوں کے لیے مشہور رہا ہے۔ یہی ناقابلِ رسائی علاقے کبھی قدرتی قلعے سمجھے جاتے تھے ایسے قلعے جن تک عام انسان کا پہنچنا تقریباً ناممکن ہوتا تھا۔ دہشت گردوں نے بھی اسی جغرافیائی مشکل کو اپنی طاقت سمجھا اور ان پہاڑوں کے غاروں کو اپنی پناہ گاہ بنا لیا۔
لیکن دگنان آپریشن نے ثابت کیا ہے کہ اب یہ سوچ ماضی کا قصہ بن چکی ہے۔
سیکیورٹی فورسز نے دگنان کے سنگلاخ پہاڑی علاقے میں ایک منظم اور درست آپریشن کیا، دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور غاروں تک رسائی حاصل کی اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد تین دہشت گردوں کو ہلاک جبکہ متعدد پناہ گاہیں مکمل طور پر تباہ کر دیں۔ اس پورے آپریشن میں سیکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا یہ محض ایک آپریشنل کامیابی نہیں بلکہ تزویراتی سوچ، جدید تربیت اور قابلیت کا عملی مظاہرہ ہے۔
اس آپریشن کو محض ایک مقامی کارروائی کے طور پر دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ یہ ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے جو آپریشن رَدُّالفتنہ 3 کے تحت پورے بلوچستان میں جاری ہے۔ آپریشن رَدُّالفتنہ 3 کے تحت سیکیورٹی فورسز نے چاغی کے امین آباد اور سیاہ چنگ علاقوں سمیت پنجگور میں متعدد کارروائیاں کر کے درجنوں دہشت گرد ہلاک کیے اور صوبے بھر میں آپریشن کا دائرہ وسیع کیا ہوا ہے۔ اگست 2026 میں مستنگ، بولان، واشک، عوارہ، سبی، خضدار، ہرنائی اور نوشکی سمیت بلوچستان کے متعدد اضلاع میں 15 دہشت گرد ہلاک کیے گئے اور سیکیورٹی فورسز کی یہ کارروائیاں بلا تعطل جاری ہیں۔
جون 2026 میں چاغی کے ڈالبندین علاقے میں بھی ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے نتیجے میں پانچ دہشت گرد ہلاک ہوئے، جن کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور مواصلاتی آلات برآمد ہوئے۔ اسی طرح جولائی 2026 میں ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) نے ڈالبندین کے ہڈگ گڈانی ہوٹل کے قریب آپریشن کر کے تین دہشت گردوں کو ہلاک کیا جو ایل پی جی ٹینکرز اور بھاری گاڑیوں کو آگ لگانے اور مقامی لوگوں سے بھتہ خوری میں ملوث تھے۔
یہ اعداد و شمار ایک واضح تصویر پیش کرتے ہیں چاغی اور اس کے گرد و نواح میں دہشت گردوں نے ایک منظم نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا اور پہاڑی علاقوں کو محفوظ گڑھ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنی آپریشنل صلاحیت برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ دگنان آپریشن نے اس سوچ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔
دہشت گردوں کی حکمتِ عملی کا ایک اہم ستون ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ دشوار گزار اور دور دراز علاقے انہیں مستقل پناہ فراہم کریں گے۔ وہ سمجھتے تھے کہ پہاڑوں کی اونچائی، غاروں کی گہرائی اور راستوں کی مشکل انہیں ریاستی طاقت کی پہنچ سے دور رکھے گی۔ دگنان نے اس خیال کا جنازہ نکال دیا۔ سیکیورٹی فورسز نے چاغی کے سیاہ چنگ علاقے میں ایک دہشت گرد گاڑی کا پیچھا کرتے ہوئے اسے روکا، فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گردوں کو ہلاک کیا اور ان سے ایم 16 رائفل، سنائپر رائفل، ایل ایم جی کے راؤنڈز اور وائرلیس سیٹ سمیت بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا۔ یہ برآمد شدہ اسلحہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردوں کی آپریشنل صلاحیت محدود ہوتی جا رہی ہے لیکن خطرہ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق 2026 کی دوسری سہ ماہی میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان نے مجموعی طور پر ملک کے تقریباً 96 فیصد تشدد سے متعلقہ ہلاکتیں ریکارڈ کیں۔ بلوچستان میں کل اموات کا 34 فیصد یعنی 265 اموات ریکارڈ ہوئیں۔ یہ اعداد و شمار اس لیے اہم ہیں کیونکہ یہ بتاتے ہیں کہ مسئلہ سنجیدہ ہے اور آپریشنز کا دباؤ برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔
دگنان آپریشن کی کامیابی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس نے مقامی آبادی کو ایک واضح پیغام دیا ہے۔ جب دہشت گرد پہاڑوں میں بیٹھ کر بھتہ خوری، اغوا اور آتش زنی جیسے جرائم کرتے ہیں تو اس کا سب سے زیادہ نقصان انہی علاقوں کے عام شہریوں کو ہوتا ہے جن کا نہ روزگار سے ناطہ رہتا ہے نہ سفر محفوظ رہتا ہے۔ چاغی اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں دہشت گرد ڈکیتی، بھتہ خوری اور تاوان کے لیے اغوا جیسی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں اور ان کے خلاف آپریشنز نے ان کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا۔
چاغی کا علاقہ معدنی دولت سے مالا مال ہے یہ وہ سرزمین ہے جس نے 1998 میں پاکستان کی جوہری طاقت کا اعلان دیکھا۔ اس علاقے میں امن، ترقی کی پہلی شرط ہے۔ جب تک یہاں دہشت گرد آزادانہ گھومتے رہیں، نہ سرمایہ کاری آئے گی نہ مقامی نوجوانوں کو روزگار ملے گا۔ دگنان آپریشن نے اس راہ میں ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔
زیرو ٹالرنس کی پالیسی محض ایک نعرہ نہیں یہ ایک عملی حکمتِ عملی ہے جو بار بار دہشت گردوں کو حیران کرتی رہی ہے۔ جب وہ پہاڑوں پر چڑھے تو سیکیورٹی فورسز ان کے غاروں تک جا پہنچیں۔ جب انہوں نے دور دراز علاقوں کو پناہ گاہ سمجھا تو آپریشن نے وہاں بھی دروازہ کھٹکھٹایا۔ پیغام بالکل واضح ہے:
پاکستان کی سرزمین پر کوئی جگہ دہشت گردوں کے لیے محفوظ نہیں رہے گی نہ میدان، نہ صحرا، اور نہ سنگلاخ پہاڑ۔

Author

  • مصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے  پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔