پاکستانی سیاست میں کچھ چہرے ایسے ہوتے ہیں جو دہائیوں سے اقتدار کے گلیاروں میں موجود رہتے ہیں، کبھی حکومت کے شانہ بشانہ، کبھی اپوزیشن کے صف اول میں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ایسی ہی سیاسی شخصیت ہیں جن کی حکمتِ عملی ہر دور میں بدلتی رہی ہے، مگر اقتدار کی تلاش ہمیشہ ثابت قدم رہی۔
حالیہ دنوں میں مولانا صاحب کے جو بیانات سامنے آئے ہیں، انہوں نے نہ صرف سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی بلکہ عام پاکستانی کے دل کو بھی تکلیف پہنچائی ہے۔ مولانا کے بیان میں شہیدوں اور غازیوں کی قربانیوں کو جس انداز میں زیرِبحث لایا گیا، وہ ان شہیدوں کے لواحقین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف قرار دیا گیا۔ ایک منجھے ہوئے سیاستدان سے ایسی بات "زبان کی پھسلن” قرار نہیں دی جا سکتی، کیونکہ وہ الفاظ کے وزن سے بخوبی واقف ہیں۔
شہداء کا احترام، ریاست کی سلامتی اور قومی یکجہتی وہ معاملات ہیں جنہیں وقتی سیاست سے بلند رکھنا ہی قومی مفاد ہوتا ہے۔ لیکن جب سیاسی مقاصد کی آنکھ پر پٹی بندھ جائے تو ایسے بنیادی اصول بھی بھلا دیے جاتے ہیں۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واضح الفاظ میں کہا کہ مولانا کا بیانیہ ملک دشمن بیانیہ ہے جس سے دشمن قوتیں خوش ہوں گی، اور موجودہ حالتِ جنگ میں ایک جماعت کے سربراہ کو ایسی بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔ یہ محض ایک سیاسی اختلاف نہیں، یہ قومی ضمیر کا سوال ہے۔
پنجاب اسمبلی میں مذمتی قراردادوں کا سلسلہ شروع ہوا اور قرارداد کے متن میں مولانا کے بیان کو افسوسناک، غیر ذمہ دارانہ اور قومی یکجہتی کے منافی قرار دیا گیا۔ یہ ردعمل محض رسمی احتجاج نہیں بلکہ قوم کے اجتماعی جذبات کا اظہار ہے۔
اب ملتان میں مفتی محمود کانفرنس کے موقع پر "انگریزوں کے وارثوں” والا بیان بھی تاریخی حقائق کے آئینے میں دیکھنا ضروری ہے۔ تاریخ کا طالب علم جانتا ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح اور ان کے ساتھیوں نے انگریزوں کے چنگل سے آزادی حاصل کی۔ دوسری طرف دو قومی نظریے کی مخالفت کا ریکارڈ تاریخ کی کتابوں میں موجود ہے۔ مولانا صاحب خود اس تاریخ سے بخوبی واقف ہیں، پھر بھی تاریخ کو مصلحت کی عینک سے دیکھنا ان کا پرانا وتیرہ رہا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مولانا فضل الرحمن رجیم چینج کے وقت اسی سسٹم کے ساتھ کھڑے تھے جسے آج وہ للکار رہے ہیں۔ یہ تضاد ان کے سیاسی کردار پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔
جب اقتدار میں حصہ ملتا ہے تو سب ٹھیک، جب محروم رہیں تو سارا نظام قابل اعتراض۔
ایم کیو ایم کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے یاد دلایا کہ ریاست کی عزت و وقار اور قومی بیانیے کی حفاظت ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ یہ بات ہر سیاستدان کے لیے لمحۂ فکریہ ہے، خواہ وہ حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے پوری قوم کی طرف سے درخواست کی کہ مولانا اپنے الفاظ واپس لیں، اس سے ان کے قد و قامت میں مزید اضافہ ہوگا۔ یہ احسن مشورہ ہے۔ سیاسی بزرگی کا تقاضا یہی ہے کہ غلطی کا اعتراف کمزوری نہیں بلکہ اصول پرستی کی نشانی ہے۔
پاکستان اس وقت بڑے نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگرد گروہ اور خوارج قوم کے سکون کو تباہ کرنے پر تلے ہیں۔ ایسے میں ہماری افواج کی قربانیوں کا احترام پوری قوم پر فرض ہے۔ کوئی بھی سیاسی اختلاف اس حد تک نہیں جانا چاہیے کہ شہداء کی عزت پر حرف آئے اور دشمن کو ہمارے خلاف مواد فراہم ہو۔
مذہبی حیثیت یا سیاسی تجربہ کسی کو بھی قومی احتساب سے بالاتر نہیں بناتا۔ مولانا فضل الرحمن ایک سینئر سیاستدان ہیں، ان سے امید ہے کہ وہ وقتی مفادات سے اوپر اٹھ کر قومی یکجہتی کے لیے کام کریں گے۔ پاکستان انشاءاللہ قائم و دائم رہے گا، مگر یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم سب، بالخصوص ہمارے رہنما، ملک کو اپنے سیاسی مفادات سے آگے رکھیں۔
اصول پرست سیاست کا وقت آ گیا ہے۔ قوم باخبر ہے، جاگ رہی ہے اور ہر بات کا حساب مانگ رہی ہے۔
Author
-
View all posts
Abbas Ahmed is a scholar of International Relations and Strategic Studies with expertise in global politics, security affairs, regional dynamics, and contemporary strategic challenges. His academic interests include foreign policy, geopolitical competition, conflict and cooperation, and emerging security trends, with a focus on understanding their implications for regional and international stability.