خیبر پختونخوا کی سیاست ان دنوں ایک عجیب موڑ پر کھڑی ہے۔ ایک طرف گورنر راج کا نفاذ، دوسری طرف تحریک انصاف کی سیاسی بیانیہ سازی، اور بیچ میں ایک ایسا عوام جو اب ہر دعوے کو آنکھیں کھول کر دیکھنے لگا ہے۔ حالیہ واقعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جھوٹے پروپیگنڈے کی عمر اب بہت مختصر رہ گئی ہے۔
11 اکتوبر 2026 کو وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر دیا، جس کے بعد صوبے کا انتظام گورنر کے ہاتھوں میں آ گیا۔ تحریک انصاف نے اسے غیر جمہوری اقدام قرار دیا اور عوامی احتجاج کی توقع باندھی۔ لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہی کہانی سناتے ہیں۔ پشاور کی گلیوں میں وہ طوفانی ہجوم نظر نہیں آیا جس کے بارے میں دعوے کیے جا رہے تھے۔ عوام کا یہ خاموش رویہ ایک بہت بڑا پیغام ہے۔
اسی دوران تحریک انصاف کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ گورنر راج کے بعد خیبر پختونخوا کی بی آر ٹی بسیں پنجاب منتقل کی جا رہی ہیں۔ اس بیانیے کا مقصد واضح تھا، صوبائی عصبیت کو بھڑکانا اور خیبر پختونخوا کے عوام کو پنجاب کے خلاف اکسانا۔ لیکن حقیقت بالکل مختلف نکلی۔
30 اگست 2026 کو خیبر پختونخوا کے مالیاتی مشیر مزمل اسلم نے واضح کیا کہ کے پی حکومت کو پشاور بی آر ٹی کے لیے 25 نئی بسیں موصول ہو گئی ہیں اور مزید 27 بسیں چین سے جلد آنے والی ہیں۔ ان بسوں کے اضافے سے پشاور بی آر ٹی کا کل بیڑا 296 گاڑیوں تک پہنچ گیا ہے۔ یعنی وائرل ویڈیو اگست 2026 میں پشاور ڈیلیور ہونے والی ان ہی نئی بسوں کی تھی، نہ کہ کسی منتقلی کی۔
مزمل اسلم نے یہ بھی بتایا کہ پنجاب کا کل بی آر ٹی بیڑا، اسلام آباد سمیت، صرف 206 بسوں پر مشتمل ہے، جبکہ پشاور اکیلے 296 بسیں چلا رہا ہے، جو پورے پاکستان میں کسی بھی شہر سے زیادہ ہے۔ یہ حقیقت تحریک انصاف کے اپنے دور کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے، مگر اسی پارٹی کے کارکن اسی منصوبے کو لے کر پروپیگنڈا کر رہے تھے۔
ستمبر 2026 میں کے پی حکومت نے مزید 50 الیکٹرک بسیں خریدنے کا اعلان کیا، جن کی مالیت 4.989 ارب روپے ہے۔ ان بسوں کو پانچ نئے بی آر ٹی راستوں پر چلایا جائے گا، جن میں مال آف حیات آباد سے جمرود، پشتخارہ سے بارہ بازار اور گلبہار سے دبگری گارڈن شامل ہیں۔ یعنی صوبائی بسیں منتقل ہونے کی بجائے نہ صرف بڑھ رہی تھیں بلکہ ان کے نیٹ ورک کو مزید وسیع کیا جا رہا تھا۔
ستمبر کے آخر میں وزیراعلیٰ سہیل افریدی نے نئی ہائبرڈ بسوں کا افتتاح کیا اور ساتھ ہی خواتین کے لیے خصوصی پنک بس سروس بھی شروع کی، جو خواتین کو محفوظ اور آرام دہ سفر کا موقع فراہم کرتی ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جو پروپیگنڈے کی دھول میں دبانے کی کوشش کی گئی۔
اب آتے ہیں اصل سوال کی طرف۔ 18ویں ترمیم کے بعد صحت، تعلیم اور عوامی فلاح کے شعبے صوبوں کو منتقل کیے گئے۔ صوبے کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ ان شعبوں میں کارکردگی دکھائے۔ لیکن ہوا کیا؟ سالوں تک وفاق کو کوسنے کو ہی سیاست سمجھا جاتا رہا۔ جب بجلی کی قیمت بڑھتی تو وفاق کا قصور، جب سڑک نہ بنتی تو وفاق کی سازش، جب ہسپتال بدحال ہوتا تو مرکز ذمہ دار۔ وفاق کی جانب سے تحریک انصاف پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائی میں تعاون نہیں کر رہی اور ریاستی اداروں سے مسلسل ٹکراؤ کی راہ اختیار کیے ہوئے ہے۔
سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق جنوری تا ستمبر 2026 میں صوبے میں شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں میں 16 فیصد کمی آئی ہے۔ یہ بہتری کسی تعاون اور مشترکہ کوشش کا نتیجہ ہے، مگر اسے بھی سیاسی بیانیے میں گم کر دیا گیا۔
عوام کی خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ جب گورنر راج نافذ ہوا تو کے پی کی گلیوں میں وہ سیلاب نہیں آیا جس کی پیشگوئی کی جا رہی تھی۔ یہ خاموشی در اصل ایک آواز ہے کہ عوام مسلسل ٹکراؤ، احتجاج اور پروپیگنڈے سے اکتا چکے ہیں۔ وہ بجلی، سڑک، ہسپتال اور روزگار چاہتے ہیں، نہ کہ ہر روز نئے دشمن اور ہر ہفتے نئی سازش کی کہانی۔
بی آر ٹی بسوں والے پروپیگنڈے نے ایک اور بات عیاں کر دی کہ جب آپ کے پاس دینے کو کچھ نہ ہو تو آپ لینے کا ڈر دکھاتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے عوام ذہین ہیں، وہ جھوٹ کو پہچانتے ہیں۔ انہوں نے دیکھا کہ بسیں جا نہیں رہیں بلکہ آ رہی ہیں، بیڑا سکڑ نہیں رہا بلکہ بڑھ رہا ہے اور صوبے کی ترقی کا سفر جاری ہے۔
پاکستان کی مضبوطی تقسیم میں نہیں، اتحاد میں ہے۔ جو سیاست عوام کو صوبوں اور شہروں کی بنیاد پر بانٹے، جو بیانیہ ریاستی اداروں کو دشمن بنا کر پیش کرے اور جو پروپیگنڈا پرانی ویڈیوز کو نئے جھوٹ کے لبادے میں پیش کرے، اس کا آخرکار وہی انجام ہوتا ہے جو آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ عوام اعتماد واپس لے لیتے ہیں۔
Author
-
View all posts
Abbas Ahmed is a scholar of International Relations and Strategic Studies with expertise in global politics, security affairs, regional dynamics, and contemporary strategic challenges. His academic interests include foreign policy, geopolitical competition, conflict and cooperation, and emerging security trends, with a focus on understanding their implications for regional and international stability.