پاکستان اور بحرین کے تعلقات محض رسمی سفارتی روابط کا نام نہیں بلکہ یہ مشترکہ مذہبی، ثقافتی اور سماجی وابستگی، باہمی احترام اور کئی دہائیوں پر محیط اعتماد پر قائم ایک مضبوط رشتہ ہے۔ دونوں ممالک نے مختلف علاقائی اور عالمی حالات میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون برقرار رکھا ہے اور یہی تسلسل آج ان تعلقات کو ایک زیادہ جامع اقتصادی اور تزویراتی شراکت داری کی طرف لے جا رہا ہے۔ اسلام آباد میں پاکستان بحرین مشترکہ وزارتی کمیشن کے تیسرے اجلاس کا انعقاد اسی ارتقائی عمل کی ایک اہم کڑی ہے، جس نے روایتی برادرانہ تعلقات کو تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے عملی مواقع میں تبدیل کرنے کی نئی بنیاد فراہم کی ہے۔
مشترکہ وزارتی کمیشن کے تیسرے اجلاس کی مشترکہ صدارت پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے کی۔ اعلیٰ سطح پر ہونے والی یہ ملاقات اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ اسلام آباد اور منامہ اب تعلقات کو صرف سیاسی خیرسگالی تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں ٹھوس معاشی نتائج سے جوڑنے کے خواہاں ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد پہلے ہی موجود ہے، اب اصل ضرورت اس اعتماد کو کاروبار، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، توانائی، افرادی قوت اور نئی منڈیوں میں تعاون کے ذریعے ایک پائیدار اقتصادی ڈھانچے میں تبدیل کرنے کی ہے۔
اجلاس میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، زراعت، غذائی تحفظ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، صحت، تعلیم اور افرادی قوت سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق اہم پیش رفت ہے۔ یہ تمام شعبے ایسے ہیں جہاں دونوں ممالک کی ضروریات اور صلاحیتیں ایک دوسرے کی تکمیل کر سکتی ہیں۔ پاکستان ایک بڑی زرعی معیشت، نوجوان افرادی قوت، تیزی سے ترقی کرتے آئی ٹی شعبے اور وسیع پیداواری امکانات کا حامل ملک ہے، جبکہ بحرین خلیج میں مالیاتی خدمات، سرمایہ کاری، توانائی، کاروباری سہولت اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے اعتبار سے نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ان صلاحیتوں کا باقاعدہ امتزاج دونوں ممالک کے لیے نئے اقتصادی امکانات پیدا کر سکتا ہے۔
پاکستان اور بحرین کے درمیان موجودہ دوطرفہ تجارت 550 ملین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ اسے ایک ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف ایک خوش آئند اور حقیقت پسندانہ اقتصادی خواہش کی نمائندگی کرتا ہے۔ تاہم اس ہدف کے حصول کے لیے صرف سرکاری سطح کے اعلانات کافی نہیں ہوں گے۔ دونوں ممالک کو کاروباری برادریوں کے درمیان براہ راست روابط بڑھانے، تجارتی وفود کے تبادلے، مشترکہ منصوبوں، سرمایہ کاری فورمز اور نجی شعبے کی شمولیت کو ترجیح دینا ہوگی۔ موجودہ تجارتی ساخت میں بھی نمایاں اقتصادی تکمیل دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان بحرین کو گوشت، چاول، سبزیاں، ٹیکسٹائل اور دیگر زرعی و صنعتی مصنوعات فراہم کرتا ہے، جبکہ بحرین سے پاکستان پٹرولیم مصنوعات، ایلومینیم اور فیرس اسکریپ درآمد کرتا ہے۔
غذائی تحفظ بالخصوص ایک ایسا شعبہ ہے جہاں پاکستان بحرین کے لیے طویل المدتی شراکت دار بن سکتا ہے۔ خلیجی ریاستوں کے لیے خوراک کی قابل اعتماد فراہمی ایک اہم تزویراتی ضرورت بن چکی ہے۔ پاکستان اپنی زرعی زمین، مویشیوں، چاول، پھلوں، سبزیوں اور حلال گوشت کی پیداوار کی بنیاد پر بحرین کے لیے محفوظ اور نسبتاً قریب سپلائی چین فراہم کر سکتا ہے۔ اگر زرعی سرمایہ کاری، کولڈ چین، فوڈ پروسیسنگ، اسٹوریج اور براہ راست لاجسٹکس پر توجہ دی جائے تو باہمی تجارت میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ اسی طرح بحرینی سرمایہ کاری پاکستان کے زرعی اور فوڈ پروسیسنگ شعبے کو جدید بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان انسانی روابط بھی تعلقات کی سب سے مضبوط بنیادوں میں سے ایک ہیں۔ بحرین میں ایک لاکھ 34 ہزار سے زائد پاکستانیوں کی موجودگی دونوں معاشروں کے درمیان ایک حقیقی انسانی پل کی حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستانی شہری بحرین کی معیشت، تعمیرات، خدمات، طبی شعبے، تکنیکی شعبوں اور دیگر پیشوں میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ کمیونٹی صرف ترسیلات زر کا ذریعہ نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور سماجی قربت کو مستحکم کرنے والی قوت بھی ہے۔ ہنرمند افرادی قوت کی تربیت، پیشہ ورانہ سرٹیفکیشن اور نئی مہارتوں کے فروغ کے ذریعے اس تعاون کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
دفاعی تعاون بھی پاکستان بحرین تعلقات کا ایک اہم ستون ہے۔ تربیت، افرادی قوت، ادارہ جاتی صلاحیت سازی اور دفاعی روابط دونوں ممالک کے درمیان موجود تزویراتی اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج اور دفاعی تربیتی اداروں کا وسیع تجربہ بحرین کے ساتھ سکیورٹی اور استعداد کار کے شعبوں میں تعاون کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ خلیج اور وسیع تر مشرق وسطیٰ میں بدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول کے تناظر میں یہ تعاون مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ پاکستان کی مستقل پالیسی خلیجی ممالک کے امن، سلامتی اور استحکام کی حمایت پر مبنی رہی ہے، جبکہ بحرین نے بھی پاکستان کے ساتھ دوستانہ اور تعاون پر مبنی تعلقات کو ترجیح دی ہے۔
تعلیم، صحت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی مستقبل کی شراکت داری کے نئے ستون بن سکتے ہیں۔ پاکستان کا تیزی سے پھیلتا ہوا آئی ٹی اور ڈیجیٹل سروسز سیکٹر بحرینی منڈی کے لیے سافٹ ویئر، فِن ٹیک، سائبر سکیورٹی اور ڈیجیٹل سروسز کے شعبوں میں اہم مواقع فراہم کر سکتا ہے۔ اسی طرح یونیورسٹی تعاون، طلبہ و اساتذہ کے تبادلوں اور مشترکہ تحقیق کے منصوبوں سے علمی روابط کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ صحت کے شعبے میں پاکستانی ڈاکٹرز، نرسنگ عملہ اور طبی ماہرین پہلے ہی خلیجی ممالک میں اچھی شہرت رکھتے ہیں، جس سے بحرین کے ساتھ مزید ادارہ جاتی تعاون کی گنجائش موجود ہے۔
پاکستان اور بحرین کی بین الاقوامی اور کثیرالجہتی فورمز پر قریبی ہم آہنگی بھی اس تعلق کی وسعت کو ظاہر کرتی ہے۔ دونوں ممالک متعدد علاقائی اور عالمی معاملات پر باہمی مشاورت اور سفارتی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ ہم آہنگی اس لیے اہم ہے کیونکہ آج اقتصادی اور سیاسی تعلقات ایک دوسرے سے الگ نہیں رہے۔ مضبوط سفارتی اعتماد تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتا ہے، جبکہ بڑھتے ہوئے اقتصادی مفادات سیاسی شراکت داری کو مزید پائیدار بناتے ہیں۔
مشترکہ وزارتی کمیشن کا حالیہ اجلاس اس اعتبار سے اہم ہے کہ اس نے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو ایک واضح اقتصادی سمت دی ہے۔ پاکستان اور بحرین کے پاس اب موقع ہے کہ وہ بھائی چارے کی روایتی زبان کو مشترکہ سرمایہ کاری، بڑھتی ہوئی تجارت، بہتر فضائی و بحری رابطوں، غذائی تحفظ، توانائی کے تعاون اور انسانی وسائل کی ترقی کے عملی منصوبوں میں تبدیل کریں۔ ایک ارب ڈالر کی تجارت کا ہدف صرف ایک عدد نہیں بلکہ دونوں ممالک کی بڑھتی ہوئی اقتصادی خواہش اور مستقبل کے اعتماد کی علامت ہے۔
پاکستان اور بحرین کے تعلقات کی اصل طاقت یہ ہے کہ انہیں کسی وقتی سیاسی مصلحت کے تحت تشکیل نہیں دیا گیا۔ یہ تعلقات باہمی احترام، عوامی روابط اور تاریخی اعتماد پر قائم ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اسی مضبوط بنیاد کو اقتصادی خوشحالی، سرمایہ کاری اور مشترکہ ترقی میں تبدیل کیا جائے۔ اسلام آباد میں ہونے والا تیسرا مشترکہ وزارتی کمیشن اسی سمت میں ایک عملی قدم ہے۔ اگر طے شدہ شعبوں میں مسلسل پیش رفت اور مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے تو پاکستان اور بحرین کی برادرانہ شراکت داری مستقبل میں ایک مضبوط اور باہمی فائدے پر مبنی اقتصادی اتحاد کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
Author
-
View all posts
Dr. Shahzaib Khan is a scholar of Political Science whose academic interests span political institutions, governance, public policy, comparative politics, and contemporary political developments. His work examines how states, institutions, and societies respond to evolving domestic and international challenges, with particular attention to political change, decision making, and democratic governance.