Nigah

مراد سعید کا افغانستان میں قیام اور سیاسی کنٹرول کا سوال

مراد سعید افغانستان میں، سوال جو خاموش نہیں رہ سکتے
[post-views]

 

پاکستان کی سیاست میں اکثر ایسے لمحے آتے ہیں جب واقعات خود بولنے لگتے ہیں، الفاظ کی ضرورت نہیں رہتی۔ پی ٹی آئی لیڈر مراد سعید کے افغانستان میں موجود ہونے اور وہاں سے خیبرپختونخوا کے معاملات کو کنٹرول کرنے کے الزامات ایک ایسا ہی لمحہ ہیں۔ یہ محض سیاسی الزام نہیں، بلکہ ایک سنجیدہ سوال ہے جس کا جواب پوری قوم مانگتی ہے۔

مارچ 2026 میں ایک انسداد دہشتگردی عدالت نے مراد سعید کو نو مئی کے جی ایچ کیو حملے کے مقدمے میں دس سال قید کی سزا سنائی، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے انہیں سینیٹ کی نشست سے نااہل قرار دیا۔ یہ شخص جو کبھی عمران خان کی کابینہ کا "بہترین وزیر” کہلاتا تھا، آج پاکستان کی عدالتوں کی نظر میں مجرم اور ریاست کی نظر میں مفرور ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا شخص افغانستان میں کیا کر رہا ہے؟

افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق مراد سعید پکتیکا صوبے کے دارالحکومت شاران میں ٹی ٹی اے لیڈر مولوی عبدالخالق آخوند کی پناہ میں ہے۔ تاہم پاکستان آبزرور کے مطابق 14 اکتوبر 2026 تک ان کی افغانستان میں موجودگی کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ لیکن جب حکومتی سطح پر اعتراف ہو، جب وزیراعظم کے مشیر سرعام بیان دیں، تو یہ محض افواہ نہیں رہتا۔

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا کہ مراد سعید افغانستان میں رہتے ہوئے خیبرپختونخوا کی سابق حکومت کو کنٹرول کر رہے تھے، اور یہ بھی الزام لگایا کہ سوہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ بنوانے میں مراد سعید کا کردار تھا، جبکہ عمران خان کو سوہیل آفریدی کا نام تک معلوم نہ تھا۔ یہ بیانات سنگین ہیں، اگر درست ہیں تو ریاست کے لیے انتہائی تشویشناک صورتحال ہے، اور اگر غلط ہیں تو ثابت کیوں نہیں کیا گیا؟

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سینیٹ میں بیان دیتے ہوئے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کے کئی افراد کے خوارج سے روابط ہیں، اور انہوں نے مناسب وقت پر شواہد پیش کرنے کا اعلان کیا۔ یہ وعدہ ابھی تک پورا نہیں ہوا، لیکن سوال ضرور کھڑا ہوا۔ پاکستان کا ایک مفرور سیاسی لیڈر دشمن ملک کی سرزمین پر بیٹھ کر اپنی پارٹی کو چلاتا رہا، اور کوئی آواز نہ اٹھائی گئی؟

ایک طرف خیبرپختونخوا میں خوارج کا بڑھتا ہوا جال، دوسری طرف پی ٹی آئی قیادت کا افغانستان سے "ریموٹ کنٹرول”۔ حکومت کا واضح مؤقف رہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا، لیکن اس کے بجائے صوبائی حکومت نے لانگ مارچ کا راستہ چنا۔ یہ ترجیحات بتاتی ہیں کہ جب ریاست اور دہشت گردی کے درمیان چناؤ آیا، تو کس طرف قدم اٹھایا؟

12 اکتوبر 2026 کو صدر مملکت نے وفاقی کابینہ کی سفارش پر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا۔ یہ فیصلہ آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت لیا گیا۔ حکومت نے اس اقدام کی بنیاد صوبے میں بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کو قرار دیا، جہاں اعداد و شمار کے مطابق 2024 سے 2026 کے دوران دہشت گردانہ واقعات میں تقریباً 196 فیصد اضافہ ہوا۔ اتنا بڑا اضافہ اتفاق نہیں ہو سکتا، یہ کسی منظم سرپرستی کی علامت ہے۔

رانا ثناء اللہ نے الزام عائد کیا کہ گفتگو کی ناکامی میں بنیادی کردار سوہیل آفریدی اور ان کے پیچھے بیٹھے مراد سعید نے ادا کیا، اور یہ کہ یہ لوگ سیاسی شخصیات کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے پر یقین نہیں رکھتے۔

یہ بیان سوچنے پر مجبور کرتا ہے، اگر مذاکرات نہیں، تو پھر راستہ کیا ہے؟ طاقت؟ اور وہ طاقت کہاں سے آتی ہے؟

پاکستان کا ہر باضمیر شہری سمجھتا ہے کہ سیاست اور دہشت گردی کے درمیان ایک واضح، ناقابل عبور لکیر ہونی چاہیے۔ جو شخص عدالت سے سزا یافتہ ہو، وطن میں آنے کی ہمت نہ رکھتا ہو، اور دشمن کی سرزمین پر کسی خوارج نواز مولوی کی پناہ میں بیٹھا ہو، وہ "سیاسی پناہ گزین” نہیں، وہ ریاست کا دشمن ہے۔

پی ٹی آئی نے ایمرجنسی کو صوبائی خودمختاری پر حملہ قرار دیا اور آئینی و جمہوری جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جو جدوجہد افغانستان کی سرزمین سے چلائی جائے، جو جماعت اپنے لیڈروں کو خوارج کے سایے میں بھیجے، وہ جدوجہد کس کے لیے ہے، پاکستان کے لیے یا پاکستان کے خلاف؟

پاکستان ایک مضبوط ریاست ہے۔ اس نے اندرونی اور بیرونی دونوں قسم کے طوفانوں کا مقابلہ کیا ہے۔ گورنر راج اور ایمرجنسی کا فیصلہ آسان نہیں تھا، لیکن ضروری تھا۔ وقت بتائے گا کہ کیا یہ ریاست بر وقت جاگی یا ابھی بہت کچھ باقی ہے۔ لیکن ایک بات واضح ہے، مراد سعید کا افغانستان میں ہونا محض خبر نہیں، ایک سوال ہے جو ہر پاکستانی کو پوچھنا چاہیے، اور ہر پی ٹی آئی کارکن کو اپنے اندر سے جواب ڈھونڈنا چاہیے۔

 

Author

  • Professor Dr. Waqas Khan

    Professor Dr. Waqas Khan is a scholar of climate change, security, diplomacy, and international affairs. He earned his PhD from Beijing University, China. His research focuses on the links between environmental challenges and global security, emphasizing international cooperation, strategic policy, and the role of diplomacy in addressing emerging global issues.

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔