Nigah

فضل الرحمان کے گرد سوالات اور احتساب کا پنڈورا باکس کھل گیا

فضل الرحمان کے گرد سوالات اور احتساب کا پنڈورا باکس کھل گیا
[post-views]

پاکستانی سیاست میں ایک کہاوت مشہور ہے کہ جب تک آپ اقتدار کے قریب ہیں، سوال آپ تک نہیں پہنچتے، لیکن جیسے ہی دوری بڑھتی ہے، سوال دروازے تک آ کھٹکھٹاتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اس کہاوت کی عملی تصویر ہے۔ اکتوبر 2026 کے آخری دنوں میں سی ڈی اے نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ پر نوٹس ارسال کیا، جس میں مکان مالک امان اللہ کو گرین ایریا پر بنے سیکیورٹی گارڈ کیبن اور جنریٹر ہٹانے کی ہدایت کی گئی۔ اس کے علاوہ نوٹس میں رہائشگاہ میں بنا کچن بھی بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا اور 15 دن میں تجاوزات ہٹانے کی ہدایت کرتے ہوئے تنبیہ کی گئی کہ اگر تجاوزات نہ ہٹائی گئیں تو سی ڈی اے خود ایکشن لے گا۔

ابتدائی نظر میں یہ ایک معمولی انتظامی معاملہ لگتا ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ یہ نوٹس پورے دارالحکومت میں جاری انسداد تجاوزات مہم کے تحت معمول کی کارروائی ہے اور دین یا سیاست کو غیرقانونی سرگرمیوں کے دفاع کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن جب آپ اس نوٹس کو پورے سیاق و سباق میں دیکھتے ہیں تو اصل سوال ابھرتا ہے، اس گھر کا مالک "امان اللہ” کون ہے؟ کیا مولانا فضل الرحمان اس مکان میں کرائے دار کی حیثیت سے رہتے ہیں اور کرایہ کہاں سے آتا ہے؟

یہ ایک نوٹس نہیں، بلکہ ایک پنڈورا باکس کا ڈھکن کھلنا ہے جس کے اندر سے سوال در سوال نکل رہے ہیں۔ پاکستان کی سیاست میں مولانا فضل الرحمان کئی دہائیوں سے قومی سطح پر فعال ہیں، لیکن ان کا ذریعہ آمدن ہمیشہ ایک معما رہا ہے۔ جب صحافی جگنو محسن نے انہیں انٹرویو میں پوچھا کہ آپ کا سلسلہ کیسے چلتا ہے تو انہوں نے کہا "یہ اللہ کی عطا ہے، اللہ جو دیتا ہے اس سے سلسلہ چلتا ہے۔” سہیل وڑائچ کے پروگرام "ایک دن جیو کے ساتھ” میں بھی یہی موقف تھا کہ کوئی ایک متعین ذریعہ آمدن نہیں ہے۔ ایسے جوابات ذاتی عقیدے کے لحاظ سے درست ہو سکتے ہیں، لیکن ایک پارلیمانی شخصیت سے جمہوری شفافیت کا تقاضا یہ ہے کہ ذریعہ معاش قابلِ تصدیق ہو۔

معاملے کا دوسرا رخ ضیاء الرحمان سے متعلق ہے۔ نیب خیبرپختونخوا نے افغان کمشنریٹ کے سابق کمشنر اور مولانا فضل الرحمان کے چھوٹے بھائی ضیاء الرحمان کو غیرقانونی بھرتیوں، مشینری کی خریدوفروخت میں کرپشن اور آمدن سے زیادہ اثاثے رکھنے کے الزامات پر نوٹس جاری کیا تھا۔ اب ایک بار پھر ضیاء الرحمان کے حوالے سے میرٹ کی خلاف ورزیوں کی تفصیلات سامنے آنا شروع ہوئی ہیں۔ یہ محض ایک فرد کا معاملہ نہیں، سوال یہ ہے کہ ایک سرکاری افسر نے اپنے عہدے کا کتنا فائدہ اٹھایا اور اس کے پس پشت سیاسی سرپرستی کا کردار کیا تھا؟

اس سے قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ضیاء الرحمان کو خیبرپختونخوا بلدیاتی انتخابات میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کیا تھا، جس میں انہیں بطور سرکاری افسر جے یو آئی امیدوار کی مہم چلانے کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا اور ان کی تصاویر انتخابی مواد پر شائع کی گئی تھیں۔ یعنی یہ سلسلہ نیا نہیں، یہ ایک پرانی کتاب کے نئے ابواب ہیں جو اب کھل رہے ہیں۔

اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایک بات واضح ہے کہ پاکستان میں احتساب کے اصول کو سب پر یکساں لاگو ہونا چاہیے۔ سیاسی وابستگی، مذہبی شناخت یا نظریاتی رنگ کسی کو بھی قانون کی گرفت سے مستثنیٰ نہیں کرتا۔ اگر سیکیورٹی کیبن قانون کی خلاف ورزی ہے تو وہ ہر شخص کے لیے خلاف ورزی ہے، چاہے وہ مولانا ہو یا وکیل، سیاستدان ہو یا تاجر۔

البتہ یہ بھی ضروری ہے کہ احتساب کا عمل سیاسی انتقام کا ذریعہ نہ بنے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسی نظیریں موجود ہیں جب اقتدار میں آنے والوں نے احتساب کے نام پر مخالفین کو نشانہ بنایا اور جب وہ خود اقتدار سے باہر ہوئے تو ان کے اپنے خلاف اسی ہتھیار کا استعمال ہوا۔ یہ چکر ملکی سیاست کو کمزور کرتا ہے اور عوام کا اعتماد متزلزل کرتا ہے۔

اصل ضرورت یہ ہے کہ ایک شفاف، مستقل اور آزاد احتساب کا نظام قائم ہو جو کسی ایک فرد یا جماعت پر موسمی طور پر لاگو نہ ہو بلکہ سب پر ایک جیسا، ہر موسم میں، یکساں طریقے سے نافذ ہو۔ جب تک ایسا نہیں ہوگا، ہر نئی کارروائی کو عوام سیاسی چال کی عینک سے دیکھتے رہیں گے، چاہے وہ واقعی قانون کی حکمرانی ہو یا محض انتقامی سیاست کا شاخسانہ۔

فضل الرحمان کا یہ "پنڈورا باکس” ابھی پوری طرح کھلا نہیں، سوال یہ ہے کہ اس باکس کے اندر جو بھی نکلے، اس سے انصاف ملے گا یا صرف سیاست کا ایک اور گھنا موسم آئے گا؟

Author

اوپر تک سکرول کریں۔