Nigah

آزاد کشمیر کا انتشار عوام اور معیشت پر بھاری پڑ گیا

jaac
[post-views]

آزاد کشمیر ایک ایسی سرزمین ہے جس کے لوگوں نے ہمیشہ صبر اور قربانی کی مثال پیش کی ہے۔ مگر گزشتہ ڈیڑھ سو دنوں میں اس خطے نے جو تکلیف دیکھی، اس کی ذمہ داری کسی بیرونی دشمن پر نہیں، بلکہ اس فسادی ایکشن کمیٹی پر عائد ہوتی ہے جس نے اپنی ضد اور ذاتی مفادات کی آڑ میں لاکھوں غریب کشمیریوں کی زندگی اجیرن کر دی۔

جون 2026 میں آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ بارہ پناہ گزین نشستیں آئینی طور پر تحفظ یافتہ ہیں اور انہیں آئینی ترمیم کے بغیر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس فیصلے کے بعد JAAC نے اپنے احتجاج کو مزید تیز کر دیا۔ اب یہ ضروری سوال اٹھتا ہے کہ کیا عدالتی فیصلے کے خلاف سڑکوں پر ہنگامہ آرائی اور عام شہریوں کی زندگی مفلوج کر دینا کسی بھی طرح جائز ٹھہرتا ہے؟

کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں، مارکیٹیں بند رہیں، سڑکیں سنسان ہو گئیں اور مظفرآباد، راولاکوٹ اور دیگر اہم شہروں میں معاشی سرگرمی بالکل ٹھپ ہو کر رہ گئی۔ یہ تصویر کسی احتجاج کی نہیں، بلکہ ایک سوچے سمجھے معاشی حملے کی ہے جس کا نشانہ وہی غریب عوام بنے جن کے نام پر یہ سب کچھ کیا جا رہا تھا۔

احتجاج اور سڑکوں کی بندش سے آزاد کشمیر کے سیاحتی شعبے کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ ہوٹل مالکان، ٹرانسپورٹ آپریٹرز اور چھوٹے کاروباری افراد نے کہا کہ سیاحوں کی تعداد میں زبردست کمی آئی اور سیزنل سیاحت پر انحصار کرنے والے کاروبار مالی نقصان سے دوچار ہوئے۔ یاد رہے کہ آزاد کشمیر کی معیشت کا بڑا حصہ سیاحت پر منحصر ہے۔ اسے تباہ کرنا کشمیر دشمنی ہے، نہ کہ کشمیری عوام کی خدمت۔

ایک مقامی تاجر محمد فتح یاب نے کہا کہ ہمارے کاروبار تباہ ہو گئے۔ "ایک بار کاروبار بگڑ جائے تو مہینوں بلکہ سالوں نہیں بھرتا۔” یہ الفاظ کسی رپورٹ کی زبان نہیں، یہ اس عام آدمی کی آواز ہے جس کے گھر کا چولہا بجھا، جس کے بچوں کی روٹی بند ہوئی اور جس کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ راولاکوٹ یا پونچھ میں رہتا ہے۔

بچوں کی تعلیم کا نقصان شاید سب سے بڑا المیہ ہے جو آنے والے برسوں میں مزید نمایاں ہو گا۔ 9 جون کو JAAC کی جانب سے بلائی گئی علاقہ گیر ہڑتال نے آزاد کشمیر کے بیشتر حصوں میں بازاروں، کاروباری اداروں، تعلیمی اداروں اور ٹرانسپورٹ سروسز کو مکمل طور پر بند کرا دیا۔ سکولوں کی یہ بندش محض ایک دن کی نہیں رہی بلکہ کئی ہفتوں تک بچے تعلیم سے محروم رہے۔

جو نسل آج پڑھنے کی عمر میں ہے، اس کے کھوئے ہوئے دن واپس نہیں آئیں گے۔

گزشتہ تین سالوں میں طویل احتجاجی مارچوں، سڑکوں کی ناکہ بندی اور احتجاجی سرگرمیوں سے سیاحت، کاروبار اور سرمایہ کاری کو بھاری نقصان پہنچا۔ تین سال! اتنے عرصے میں جو سرمایہ کار آزاد کشمیر میں آ سکتے تھے، جو روزگار پیدا ہو سکتے تھے، جو ترقیاتی منصوبے شروع ہو سکتے تھے، وہ سب کچھ اس انتشار کی نذر ہو گیا۔

آزاد کشمیر حکومت کا موقف رہا کہ پابندی شدہ JAAC نے پرتشدد سرگرمیوں سے ریاست کو 15 ارب روپے کا مالی نقصان پہنچایا اور اس گروہ کے بھارت نواز عناصر سے تعلقات ہیں۔ 15 ارب روپے کا نقصان! یہ رقم اگر ترقیاتی کاموں پر لگتی تو راولاکوٹ کے کتنے ہسپتال بنتے، پونچھ کے کتنے سکول تعمیر ہوتے اور کتنی سڑکیں بنتی؟

ستمبر 2026 میں آزاد کشمیر کے عوام نے پابندی شدہ JAAC کی ہڑتال کی کال کو رد کر دیا اور بازار، کاروباری مراکز کھلے رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ اور ٹریفک بھی چلتی رہی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب عوام نے خود اپنا فیصلہ سنا دیا۔ یہ خاموش انقلاب تھا۔ گلیوں میں کھلے دکان دار اور چلتی گاڑیاں اس بات کا اعلان تھیں کہ کشمیری عوام تھک چکی ہے، اور اب وہ کسی کے ایجنڈے کا ایندھن بننے کو تیار نہیں۔

حکومت نے الزام لگایا کہ JAAC نے بے بنیاد پروپیگنڈے پر مبنی سوشل میڈیا مہمات چلائیں تاکہ لوگوں کو ریاست کے خلاف بھڑکایا جا سکے۔ سوشل میڈیا کا ہتھیار جدید دور کا سب سے خطرناک ہتھیار ہے۔ جب کوئی گروہ حقائق کو توڑ مروڑ کر نوجوانوں کے ذہنوں میں زہر بھرے، تو وہ محض سیاست نہیں، بلکہ قوم کشی کرتا ہے۔

ریاست کا صبر قابلِ ستائش ہے۔ پونچھ کے ڈویژنل کمشنر وحید خان نے JAAC کے احتجاج کے باوجود پُرامن راستہ اختیار کیا اور مذاکرات کو ترجیح دی۔ یہ وہ ریاست ہے جس نے گولی کی بجائے بات چیت کا راستہ اپنایا۔ یہ وہ حکومت ہے جس نے بار بار مذاکرات کی میز سجائی۔ مگر ایک ایسے گروہ سے بات چیت کب تک ممکن ہے جس کا اصل مقصد مطالبات نہیں، بلکہ انتشار ہو؟

کشمیر کا مسئلہ حقیقی ہے، کشمیری عوام کی تکالیف حقیقی ہیں اور ان کے مسائل کا حل بھی ضروری ہے۔ مگر جو لوگ غریب عوام کو ڈھال بنا کر اپنی سیاسی دکانیں چمکاتے ہیں، انہیں یاد رہے: عوام ہمیشہ کیلئے بے وقوف نہیں بنتی۔ آزاد کشمیر کو امن، تعلیم، روزگار اور ترقی چاہیے، ناکہ بندی اور جلاؤ گھیراؤ نہیں۔

Author

  • Zubair Gul

    Zubair Gul is a lecturer and researcher with a particular interest in the China-Pakistan Economic Corridor, regional connectivity, development cooperation, and Pakistan-China relations. His academic work focuses on CPEC’s economic and strategic dimensions, infrastructure development, regional integration, and its broader implications for Pakistan’s growth and regional engagement.

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔