فلسطین میں ایک بار پھر طاقت کے ذریعے امن قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ تاریخ بارہا ثابت کر چکی ہے کہ بندوق کے زور پر کسی قوم کی آزادی کی خواہش ختم نہیں کی جا سکتی۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں مکمل لاک ڈاؤن کی تیاری اور تاریخی شہر الخلیل کی بندش کے احکامات اسی سوچ کا تسلسل ہیں۔ یہ محض ایک فوجی یا انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ لاکھوں فلسطینیوں کی روزمرہ زندگی، معاشی سرگرمیوں اور بنیادی انسانی حقوق پر ایک اور ضرب ہے۔ پاکستان کا اسرائیلی اقدامات کے خلاف اصولی مؤقف اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ کسی بھی قوم کو اجتماعی سزا دے کر امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
تیئیس اکتوبر کو الخلیل کے قریب ایک مسلح حملے میں دو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد نیتن یاہو نے شہر کی فوری بندش اور پورے مغربی کنارے میں وسیع پابندیوں کی تیاری کا حکم دیا۔ کسی بھی مسلح واقعے کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی ریاستی سلامتی کا حصہ ہو سکتی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پوری آبادی کو اس واقعے کا ذمہ دار سمجھ لیا جائے۔ ایک شخص کے عمل کی سزا دوسرے کو دینا انصاف نہیں۔ جب سڑکیں بند ہوتی ہیں، کاروبار رک جاتے ہیں اور مریض ہسپتال نہیں پہنچ پاتے تو اس کارروائی کا سب سے زیادہ نقصان ان لوگوں کو ہوتا ہے جن کا تشدد سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
الخلیل کی صورتحال اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی انتیس اکتوبر کی انسانی صورتحال سے متعلق رپورٹ کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں اور نقل و حرکت پر پابندیوں کے باعث علاقے کے چھ سو اکیانوے تعلیمی اداروں میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ طلبہ کو گھروں سے تعلیم حاصل کرنا پڑی۔ الخلیل کی بلدیہ کے مطابق تقریباً تین ہزار افراد بے گھر ہوئے، اگرچہ اقوام متحدہ نے واضح کیا کہ ان اعداد و شمار کی مزید تصدیق درکار ہے۔ ان اعداد کے پیچھے عام انسانوں کی زندگیوں کی کہانیاں ہیں۔ کسی بچے کے لیے اسکول جانا، کسی مزدور کے لیے روزگار کمانا اور کسی بیمار کے لیے علاج حاصل کرنا سیاسی مراعات نہیں بلکہ بنیادی انسانی ضروریات ہیں۔
اسرائیلی حکومت اپنی کارروائیوں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نام دیتی ہے۔ یقیناً بے گناہ انسانوں کے خلاف تشدد کی کوئی گنجائش نہیں، چاہے متاثرہ فرد کسی بھی قوم یا مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔ تاہم سلامتی کے نام پر ایسے اقدامات جو غیر متعلقہ شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دیں، نہ اخلاقی اعتبار سے قابل دفاع ہیں اور نہ بین الاقوامی انسانی قانون کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ۔ اجتماعی سزا پر پابندی کا اصول اسی لیے موجود ہے کہ مسلح تنازعات میں عام شہریوں کو ریاستی انتقام کا نشانہ بننے سے محفوظ رکھا جا سکے۔
مغربی کنارے کا بحران صرف فوجی پابندیوں تک محدود نہیں۔ اسرائیلی بستیوں کی مسلسل توسیع، فلسطینی زمینوں پر قبضہ، گھروں کی مسماری اور آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں نے مقامی آبادی کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ فلسطینی خاندان نسلوں سے جن علاقوں میں آباد ہیں، وہاں ان کے لیے اپنی زمین، کاروبار اور رہائش برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ زیتون کے باغات فلسطینی معیشت اور ثقافت کا اہم حصہ ہیں، مگر کسانوں کو اپنی فصلوں تک رسائی میں بھی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ زمین سے محرومی صرف معاشی نقصان نہیں ہوتی، یہ انسان کی شناخت، تاریخ اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بھی متاثر کرتی ہے۔
اس صورتحال کا ایک اہم پہلو بین الاقوامی قانون ہے۔ دسمبر دو ہزار سولہ میں منظور ہونے والی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد دو ہزار تین سو چونتیس واضح کرتی ہے کہ انیس سو سڑسٹھ سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کے قیام کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ قرارداد اسرائیل سے آبادکاری کی تمام سرگرمیاں فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ جولائی دو ہزار چوبیس میں عالمی عدالت انصاف نے بھی اپنی مشاورتی رائے میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی مسلسل موجودگی کو غیر قانونی قرار دیا۔ سوال یہ ہے کہ جب بین الاقوامی ادارے قانونی اصول واضح کر چکے ہیں تو ان پر عمل درآمد کیوں نہیں ہو رہا؟
یہاں عالمی طاقتوں کی ذمہ داری نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش ظاہر کرنا ضروری ضرور ہے، مگر صرف بیانات حالات نہیں بدلتے۔ اگر عالمی برادری واقعی دو ریاستی حل کی حامی ہے تو اسے ایسے اقدامات بھی کرنے ہوں گے جو فلسطینی علاقوں کی جغرافیائی وحدت کو محفوظ بنائیں۔ غیر قانونی آبادکاری کے خلاف مؤثر سفارتی اور اقتصادی اقدامات، انسانی حقوق کی آزادانہ نگرانی، جبری بے دخلی کی روک تھام اور متاثرہ خاندانوں کی بحالی اس سلسلے میں اہم ہو سکتے ہیں۔ قانون کی ساکھ اسی وقت برقرار رہتی ہے جب اس کا اطلاق طاقتور اور کمزور دونوں پر یکساں ہو۔
پاکستان کا فلسطین کے بارے میں مؤقف تاریخی، اخلاقی اور قانونی بنیادوں پر قائم ہے۔ اسلام آباد مسلسل فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کرتا آیا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ پائیدار امن صرف ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر مربوط فلسطینی ریاست کے قیام سے ممکن ہے۔ ایسی ریاست جس کی سرحدیں انیس سو سڑسٹھ سے پہلے کی حدود پر مبنی ہوں اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہو۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم اور دیگر سفارتی فورمز پر اس مؤقف کو مزید مؤثر انداز میں پیش کرے اور فلسطینی شہریوں کے تحفظ کے لیے مشترکہ عملی اقدامات کی حمایت جاری رکھے۔
اسرائیلی قیادت کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ مسلسل پابندیاں، فوجی کارروائیاں اور زمینوں پر قبضہ دیرپا سلامتی کی ضمانت نہیں بن سکتے۔ ایسی پالیسیاں فلسطینیوں میں محرومی اور بے اعتمادی کو مزید گہرا کرتی ہیں۔ امن کے لیے ضروری ہے کہ عام شہریوں کے حقوق کا احترام کیا جائے، تشدد کا خاتمہ ہو اور سیاسی مذاکرات کے لیے حقیقی گنجائش پیدا کی جائے۔ کسی بھی تنازعے کا مستقبل مستقل خوف اور غیر یقینی صورتحال پر استوار نہیں کیا جا سکتا۔
مغربی کنارے میں حالیہ پابندیاں عالمی برادری کے لیے ایک اہم امتحان ہیں۔ فلسطینی عوام کو ہمدردی کے بیانات سے زیادہ اپنے بنیادی حقوق کے عملی تحفظ کی ضرورت ہے۔ انہیں اپنے گھروں میں محفوظ رہنے، اپنے بچوں کو تعلیم دلانے، اپنی زمینوں پر کام کرنے اور آزادانہ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ اگر دنیا ایک منصفانہ اور پائیدار امن چاہتی ہے تو اسے صرف فوری کشیدگی کم کرنے کے بجائے اس کے بنیادی اسباب، بالخصوص غیر قانونی قبضے اور فلسطینی حق خودارادیت سے انکار، پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ انصاف کے بغیر امن کا کوئی بھی وعدہ ادھورا رہے گا۔
Author
-
View all posts
Muhammad Sudais is pursuing a PhD in International Relations, with a research focus on United States interests and strategic engagement in Asia. His academic work examines American foreign policy, regional power competition, security dynamics, and the evolving geopolitical importance of Asia within the broader international system.