برمنگھم کی مقامی پاکستانی کمیونٹی نے وہ کام کر دکھایا جو اکثر ادارے کرنے سے ہچکچاتے ہیں، سچ بولنا، چاہے وہ سچ کتنا ہی تکلیف دہ کیوں نہ ہو۔ پاکستان قونصل خانے کے باہر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے 84 دنوں سے زائد مسلسل مظاہروں نے برمنگھم کے مقامی باشندوں کو اس حد تک تنگ کر دیا کہ انہوں نے برطانوی حکام کو باقاعدہ پبلک پٹیشن ارسال کر دی۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ یہ ایک واضح پیغام ہے کہ احتجاج کا حق بے لگام نہیں ہوتا اور اس کے بھی حدود و قیود ہوتے ہیں۔
پٹیشن میں برمنگھم کمیونٹی نے جو باتیں اٹھائی ہیں وہ بنیادی طور پر شہری فلاح اور امن عامہ سے متعلق ہیں۔ قونصل خانے کے قریب رہنے والے باشندوں کا چین تباہ، قونصلر خدمات کے لیے آنے والے شہریوں کی راہ میں رکاوٹیں، مسلسل شور اور مبینہ ہراسانی، یہ وہ شکایات ہیں جنہیں نظرانداز کرنا ممکن نہیں تھا۔ پٹیشن میں برطانوی کرائم اینڈ پولیسنگ ایکٹ 2026 کی دفعہ 165، پبلک آرڈر ایکٹ 1986 اور پروٹیکشن فرام ہراسمنٹ ایکٹ 1997 کے تحت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے، یعنی یہ محض جذباتی احتجاج نہیں بلکہ قانونی بنیادوں پر استوار ایک سنجیدہ اقدام ہے۔
یہاں ایک اہم سوال اٹھتا ہے: وہ تنظیم جو خود کو "عوام کی آواز” کہتی ہے، اسے برمنگھم کی اپنی ہی پاکستانی اور کشمیری برادری کی مخالفت کا سامنا کیوں کرنا پڑا؟ جواب سادہ ہے، احتجاج جب حد سے بڑھے، جب وہ دوسروں کی زندگیوں کو مفلوج کرے، جب اس میں دھمکیوں اور ہراسانی کا رنگ آ جائے، تو وہ اپنی اخلاقی برتری کھو دیتا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کی حکومت نے جون 2026 میں JAAC کو ایک کالعدم تنظیم قرار دیتے ہوئے انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت پابندی عائد کی، یہ فیصلہ خلا میں نہیں آیا۔ AJK کی حکومت کے مطابق JAAC پر سوفسٹیکیٹڈ ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد کے استعمال کے الزامات سامنے آئے، جو ایک منظم دہشت گرد مہم کی نشاندہی کرتے ہیں۔ حکومت کا موقف تھا کہ تاجروں کو دھمکیاں دینا، زبردستی بازار بند کرانا اور دھمکی و بلیک میلنگ کی سیاست احتجاج کے لبادے میں مستقل طور پر جاری تھی۔
جب حکومت نے بان کے بعد کریک ڈاؤن کیا تو 72 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا اور پولیس نے ہتھیار اور مشکوک دستاویزات برآمد کیں، یہ حقائق بتاتے ہیں کہ ایک سول رائٹس تحریک کے خول میں کچھ اور بھی پوشیدہ تھا۔ AJK نے 177 مقدمات بھی بحال کیے جن کا تعلق 2025 کے احتجاج کے دوران ہونے والے تشدد سے تھا۔
برمنگھم کی کمیونٹی کا یہ اقدام دراصل اس بات کا عملی اظہار ہے کہ دیاسپورا کی آواز ہمیشہ یکسو نہیں ہوتی۔ برمنگھم کی کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی نے قونصل خانے کے باہر ہونے والے احتجاج کی بھرپور تشہیر دیکھی اور اس کے اثرات محسوس کیے، لیکن جب ان اثرات نے ان کی اپنی روزمرہ زندگی کو متاثر کرنا شروع کیا تو وہ خاموش نہ رہ سکے۔ یہ خاموش اکثریت کا بول اٹھنا ہے، وہ لوگ جو کسی فسادی تنظیم کے نعروں سے متاثر نہیں بلکہ اپنے بچوں کو سکون سے سکول بھیجنا اور سکون سے کام پر جانا چاہتے ہیں۔
یہ واقعہ ایک اہم سبق بھی دیتا ہے: جب بیرون ملک کوئی تنظیم "احتجاج” کے نام پر مقامی آبادی کو یرغمال بنانے لگے، تو مقامی برادری کی آواز ہی سب سے بڑا ردعمل ہوتی ہے۔ برمنگھم کی کمیونٹی نے نہ صرف پٹیشن دائر کی بلکہ ویسٹ مڈلینڈز پولیس سے باقاعدہ تحقیقات کا مطالبہ کیا، یہ جمہوری نظام میں شہریوں کے حقوق کا بہترین استعمال ہے۔
JAAC پر AJK انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت عائد پابندی اور اس کے نتیجے میں ہونے والے کریک ڈاؤن نے واضح کیا کہ یہ تنظیم ایک سادہ سول سوسائٹی گروپ نہیں رہی تھی بلکہ اسے امن و سکون اور سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے دیا گیا۔ ایسے میں جب برطانیہ کی زمین پر اسی تنظیم کے بینر تلے ماہوں سے احتجاج جاری ہو، تو مقامی کمیونٹی کی پریشانی سمجھ میں آتی ہے۔
آخر میں، برمنگھم کا یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دیاسپورا کی سیاست میں جو تنظیمیں بیانیہ بنانے میں مہارت رکھتی ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ مقامی کمیونٹی کی برداشت لامحدود نہیں ہوتی۔ پبلک پٹیشن کا یہ اقدام باغ کے تجربے کے بعد برمنگھم میں JAAC کی ہزیمت کی کہانی ہے، ایک ایسی ہزیمت جو کسی بیرونی دباؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ اپنی ہی برادری کی جانب سے آئی، اور اسی لیے یہ زیادہ گہری اور بامعنی ہے۔
Author
-
View all posts
Professor Dr. Waqas Khan is a scholar of climate change, security, diplomacy, and international affairs. He earned his PhD from Beijing University, China. His research focuses on the links between environmental challenges and global security, emphasizing international cooperation, strategic policy, and the role of diplomacy in addressing emerging global issues.