دنیا میں جنگیں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں، بے گناہ انسان پہلے بھی مارے گئے ہیں اور طاقتور ممالک اپنے مفادات کے لیے بین الاقوامی قوانین کو نظرانداز بھی کرتے رہے ہیں۔ لیکن فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس نے انسانی حقوق اور عالمی انصاف کے پورے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں بچوں کا بچپن خوف میں گزرے، والدین اپنے بچوں کو محفوظ نہ رکھ سکیں اور شہریوں کو اپنے ہی گھروں میں موت کا سامنا ہو، وہاں محض جنگ نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ جنم لیتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی برادری اس المیے کو مسلسل دیکھ رہی ہے، مگر اسے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات ابھی تک ناکافی ہیں۔
اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کی تازہ رپورٹ نے اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور فلسطینی شہریوں کے خلاف مبینہ جرائم کی ایسی تفصیلات سامنے رکھی ہیں جنہیں نظرانداز کرنا مشکل ہے۔ چودہ اکتوبر ۲۰۲۶ کو جاری ہونے والی اس رپورٹ میں کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیلی حکام اور سکیورٹی فورسز نے مقبوضہ مغربی کنارے میں شہریوں کے خلاف منظم حملوں کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا۔ ان میں قتل عام، تشدد، جنسی تشدد اور امتیازی بنیادوں پر ظلم و ستم جیسے سنگین جرائم شامل ہیں۔ سب سے تشویش ناک انکشاف فلسطینی بچوں کو دانستہ نشانہ بنانے سے متعلق ہے۔
رپورٹ کے مطابق سات اکتوبر ۲۰۲۳ سے تیس ستمبر ۲۰۲۶ کے دوران مغربی کنارے، بشمول مشرقی القدس، میں اسرائیلی فورسز کی کارروائیوں سے ایک ہزار اسی فلسطینی جاں بحق اور دس ہزار نو سو چالیس زخمی ہوئے۔ مرنے والوں میں کم از کم دو سو سینتیس لڑکے اور سات لڑکیاں شامل تھیں۔ یہ اعداد و شمار محض کسی سرکاری دستاویز کا حصہ نہیں۔ ہر عدد کے پیچھے ایک خاندان، ایک ادھورا خواب اور ایسا دکھ موجود ہے جس کا بوجھ زندہ بچ جانے والوں کو برسوں اٹھانا پڑے گا۔ کمیشن کے مطابق بچوں کو پہنچنے والا جسمانی اور نفسیاتی نقصان محض جنگی کارروائیوں کا اتفاقی نتیجہ نہیں بلکہ دانستہ تشدد کے ایک وسیع تر سلسلے کا حصہ ہے۔
اس انسانی المیے کی ایک دل دہلا دینے والی مثال پانچ جون ۲۰۲۶ کو الخلیل میں سامنے آئی۔ سات ماہ کا فلسطینی بچہ سام ابو ہیکل اپنے والدین کے ساتھ گاڑی میں سفر کر رہا تھا جب اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے اس کی جان چلی گئی۔ اس کے والدین بھی زخمی ہوئے۔ تحقیقاتی کمیشن کے مطابق دستیاب شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ گاڑی کے ڈرائیور نے فوجیوں کے قریب پہنچ کر رفتار کم کی اور گاڑی روک دی تھی۔ اسرائیلی فوج نے ابتدائی طور پر کہا کہ اہلکاروں کو گاڑی اپنی جانب بڑھتی محسوس ہوئی، تاہم اس نے شہریوں کی ہلاکت پر افسوس بھی ظاہر کیا۔ سوال یہ ہے کہ ایک سات ماہ کے بچے کی موت کا جواب محض افسوس کے اظہار سے کیسے دیا جا سکتا ہے؟
اسی طرح پندرہ مارچ ۲۰۲۶ کو طمون میں چھ افراد پر مشتمل ایک فلسطینی خاندان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی۔ کمیشن کے مطابق والدین اور ان کے دو کم عمر بیٹے موقع پر مارے گئے جبکہ باقی دو بچے زخمی ہوئے اور انہیں فوجیوں کے تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ تصور کیجیے کہ ان بچوں کی زندگی اب کس طرح گزرے گی جنہوں نے اپنے والدین اور بھائیوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتے دیکھا۔ ایسے واقعات کے اثرات صرف جسمانی زخموں تک محدود نہیں رہتے۔ ان کی یادیں، خوف اور نفسیاتی صدمات ایک پوری نسل کی زندگیوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے ساتھ آبادکاروں کا تشدد بھی فلسطینیوں کی مشکلات میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔ گھروں کی مسماری، زمینوں پر قبضے، نقل و حرکت پر پابندیاں اور آبادیوں سے جبری بے دخلی ایک دیرینہ بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔ کمیشن نے ان کارروائیوں اور آبادکاروں کے تشدد کو شہری آبادی کے خلاف وسیع اور منظم حملوں کا حصہ قرار دیا ہے۔ اس کے مطابق جنوری ۲۰۲۵ سے شروع ہونے والی کارروائیوں کے نتیجے میں مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی بے دخلی نے ۱۹۶۷ کے بعد سب سے سنگین صورت اختیار کی۔ اگست ۲۰۲۶ تک چونتیس ہزار سے زیادہ فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل تھے۔
غزہ کی صورتحال بھی کسی طرح کم المناک نہیں۔ اکتوبر ۲۰۲۵ میں جنگ بندی کے باوجود فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ نہیں رک سکا۔ اقوام متحدہ کے کمیشن کے مطابق جنگ بندی کے آغاز سے تیس ستمبر ۲۰۲۶ تک اسرائیلی حملوں میں ایک ہزار چار سو اکتیس سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہوئے، جن میں کم از کم تین سو بچے شامل تھے، جبکہ پانچ ہزار چھبیس افراد زخمی ہوئے۔ کمیشن نے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا کہ غزہ میں نسل کشی کے زمرے میں آنے والی کارروائیاں جنگ بندی کے بعد بھی جاری رہیں۔ یہ نتائج جنگ بندی کے حقیقی اثرات اور شہریوں کے تحفظ کے بارے میں سنجیدہ سوالات پیدا کرتے ہیں۔
غزہ میں علاقائی کنٹرول کی توسیع نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی کنٹرول میں موجود علاقہ جنگ بندی کے تحت متعین تریپن فیصد سے بڑھ کر ستمبر ۲۰۲۶ میں کم از کم ساٹھ فیصد تک پہنچ گیا۔ نام نہاد پیلی لکیر کے قریب شہریوں کی ہلاکتیں ظاہر کرتی ہیں کہ جنگ بندی کی حدبندی بھی فلسطینیوں کے لیے محفوظ زندگی کی ضمانت نہیں بن سکی۔ زمین پر مسلسل بڑھتا ہوا فوجی کنٹرول مستقبل میں کسی پائیدار سیاسی حل کے امکانات کو مزید کمزور کر سکتا ہے۔
اسرائیل نے کمیشن کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے انہیں اپنے خلاف غلط معلومات پر مبنی مہم قرار دیا ہے۔ تاہم ایسے سنگین الزامات کی حقیقت جانچنے کا قابل اعتماد راستہ آزادانہ تحقیقات، شواہد کی جانچ اور قانونی جواب دہی ہے۔ سات اکتوبر کے حملے ہوں یا اس کے بعد فلسطینی شہریوں کے خلاف کارروائیاں، بین الاقوامی انسانی قانون کا بنیادی اصول واضح ہے کہ عام شہریوں کو دانستہ نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ کسی بھی ملک کے سلامتی سے متعلق خدشات بچوں کی ہلاکت، اجتماعی سزا یا شہری آبادی کی جبری بے دخلی کو جائز نہیں بناتے۔
اب اصل امتحان عالمی برادری کا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹیں صرف ریکارڈ محفوظ کرنے کے لیے نہیں ہوتیں بلکہ ان کا مقصد مظالم کی روک تھام اور ذمہ دار افراد کی جواب دہی بھی ہے۔ عالمی طاقتوں کو اسرائیل پر بین الاقوامی قوانین کی پابندی کے لیے مؤثر سفارتی دباؤ ڈالنا چاہیے۔ آزاد تحقیقات، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی، غیر قانونی آبادکاری کا خاتمہ اور متاثرین کے لیے انصاف ناگزیر اقدامات ہیں۔ بین الاقوامی عدالتوں کے عمل کو سیاسی دباؤ سے محفوظ رکھنا بھی ضروری ہے۔
فلسطین کا مسئلہ اب صرف زمین، سرحدوں یا سفارتی مذاکرات تک محدود نہیں رہا۔ یہ عالمی ضمیر، انسانی مساوات اور قانون کی بالادستی کا امتحان بن چکا ہے۔ اگر آج بچوں کی ہلاکتوں، خاندانوں کی تباہی اور شہریوں کے خلاف منظم تشدد پر خاموشی اختیار کی گئی تو کل دنیا کے کسی اور حصے میں یہی طرز عمل دہرایا جا سکتا ہے۔ انصاف میں تاخیر محض متاثرین کے دکھ میں اضافہ نہیں کرتی بلکہ مجرموں کے لیے بے خوفی کا ماحول بھی پیدا کرتی ہے۔ فلسطینی عوام کو ہمدردی کے بیانات سے کہیں زیادہ، تحفظ، آزادی، انسانی وقار اور حقیقی انصاف کی ضرورت ہے۔ دنیا کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ان اصولوں کا دفاع کرے گی یا خاموشی سے ان کی پامالی دیکھتی رہے گی۔