آزاد کشمیر کے باغ ضلع میں ساڑھے پانچ ماہ تک جاری رہنے والے دھرنے کا پُرامن خاتمہ کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب ریاست اپنی ذمہ داری کا احساس کرے اور سکیورٹی فورسز پیشہ ورانہ طریقے سے کام کریں، تو انتشار کا راستہ بند ہو جاتا ہے اور عوام کو ان کا حق یعنی امن واپس مل جاتا ہے۔
آزاد کشمیر میں احتجاجی تحریکوں کی ایک طویل تاریخ ہے۔ 2025 کے آزاد کشمیر کے سول رائٹس اور اقتصادی انصاف کے احتجاجوں کو حالیہ تاریخ میں اس خطے کی سب سے بڑی عوامی تحریکوں میں شمار کیا گیا، جس میں بجلی اور آٹے کی قیمتوں سے لے کر 38 نکاتی مطالبات تک کے معاملات اٹھائے گئے۔ اس سے قبل مئی 2024 میں بھی اسی نوعیت کی احتجاجی لہر نے خطے کو مفلوج کر دیا تھا، اور حکومت نے مظاہرین کے ساتھ معاہدہ کر کے صورتحال قابو میں کی تھی۔ مگر اس بار باغ کی صورتحال مختلف تھی، یہاں ساڑھے پانچ ماہ تک شہریوں کی زندگی یرغمال رہی۔ راستے بند، دکانیں بند، بچوں کے اسکول بند اور تاجروں کا روزگار تباہ۔
اطلاعات کے مطابق جب باغ میں بیکری کا ایک مالک ہڑتال کے دوران اپنی دکان کھولنے پر مجبور ہوا تو اسے دکان بیچ کر علاقہ چھوڑنا پڑا۔ یہ وہ "احتجاج” ہے جو شہریوں کو حقوق دینے کے بجائے انہیں انسانی ڈھال بناتا ہے۔ جو تعلیم کو ہتھیار بناتا ہے اور تجارت کو جرم قرار دیتا ہے۔ ایسے عناصر کو نہ حق احتجاج کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی عوامی نمائندہ، یہ وہ تخریبی کارکن ہیں جو اپنے مقاصد کے لیے معصوم شہریوں کا استعمال کرتے ہیں۔
AJK کے وزیراعظم نے واضح کہا ہے کہ پابندی کے باوجود سرگرم رہنے والی تنظیم اور اس کے ساتھیوں کو، جو شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور امن کو نقصان پہنچا رہے ہیں، احتساب کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ یہ اعلان صرف الفاظ نہیں، یہ ریاستی عزم کا اظہار ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے صرف عوامی امن بحال کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے۔
یہاں ایک اہم سوال اٹھتا ہے: کیا ریاست کو ہر بار مذاکرات کی میز پر جھکنا پڑے گا جب کوئی گروہ شاہراہیں بند کر دے؟ آزاد کشمیر ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ شہریوں کو پُرامن احتجاج کا آئینی حق حاصل ہے۔ یہ بالکل درست ہے، پُرامن احتجاج جمہوریت کی روح ہے۔ لیکن جب احتجاج کے نام پر شہریوں کو یرغمال بنایا جائے، کاروبار کو جبری طور پر بند کرایا جائے اور بچوں کو مہینوں تعلیم سے محروم کیا جائے، تو یہ حق نہیں، یہ ریاستی عملداری کو چیلنج کرنا ہے۔
جب باغ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں امن بحال ہوا تو سڑکیں کھلیں، کاروبار دوبارہ شروع ہوئے اور مواصلاتی خدمات بحال ہوئیں۔ شہریوں نے چین کا سانس لیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب عام آدمی کو احساس ہوا کہ ریاست اس کے ساتھ کھڑی ہے۔ باغ ضلع کے باشعور شہریوں نے تخریبی عناصر کی ہڑتال کی کال کو مسترد کر دیا اور معمول کی زندگی جاری رکھی۔
سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کا ذکر کیے بغیر یہ تحریر نامکمل رہے گی، بے امنی کے دوران چار سکیورٹی اہلکار شہید اور 174 زخمی ہوئے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر شہریوں کو تحفظ فراہم کیا۔ ان کا ایثار قابلِ تحسین ہے اور قوم کو ان کے اس کردار کو سلام پیش کرنا چاہیے۔
پاکستانی حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کچھ گروہ عوامی احتجاج کو اپنے ایجنڈے کے لیے استعمال کرنے اور آزاد کشمیر میں امن و امان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے رہے۔ یہ وہ خوارج صفت عناصر ہیں جو نہ شہریوں کے ہمدرد ہیں اور نہ علاقے کے خیرخواہ، ان کا مقصد صرف انتشار پھیلانا اور ریاست کو کمزور کرنا ہے۔ ایسے دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی نہ صرف ضروری ہے بلکہ ناگزیر ہے۔
آگے بڑھتے ہوئے ضروری ہے کہ حکومت اپنے وعدوں پر عمل کرے۔ حکومت نے بجلی کی فراہمی اور دیگر عوامی خدمات کی بہتری کے لیے 35 ملین ڈالر مالیت کے نئے منصوبوں کا وعدہ کیا ہے۔ احتجاجی رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت وعدوں پر عمل نہ کرے تو وہ پہلے سے بھی زیادہ عوامی حمایت کے ساتھ دوبارہ میدان میں اتریں گے۔ لہٰذا امن کی بحالی کو صرف سکیورٹی آپریشن کی کامیابی نہ سمجھا جائے بلکہ اسے ایک موقع سمجھا جائے، شہریوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کا، گورننس کو درست کرنے کا۔
باغ میں امن کی واپسی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ قانون کی بالادستی، عوامی فلاح اور ریاستی ذمہ داری، یہ تینوں مل کر ہی کسی خطے کو مستحکم بنا سکتے ہیں۔ شہریوں کو ریلیف چاہیے، عزت چاہیے اور امن چاہیے، اور یہ تینوں چیزیں ریاست کو فراہم کرنی ہیں، نہ کہ وہ گروہ جو سڑکیں بند کر کے خود کو عوام کا نجات دہندہ کہتے ہیں۔