Nigah

معرکہِ مظفر آباد (22 اکتوبر)

[post-views]
کچھ تاریخیں محض کیلنڈر کا حصہ نہیں ہوتیں بلکہ قوموں کی اجتماعی یادداشت، ان کی جدوجہد اور ان کے مستقبل سے متعلق سوالات کا مستقل حوالہ بن جاتی ہیں۔ کشمیر کی تاریخ میں 22 اکتوبر 1947 بھی ایک ایسی ہی تاریخ ہے۔ اس روز مظفر آباد اور اس کے گردونواح میں پیش آنے والے واقعات نے ریاست جموں و کشمیر کے سیاسی اور عسکری حالات کو ایک نیا رخ دیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر کی تقسیم کے نتیجے میں لاکھوں انسان بے گھر ہو رہے تھے، نئی ریاستیں اپنے وجود کو مستحکم کرنے میں مصروف تھیں اور کشمیر کے مستقبل کا سوال ایک سنگین تنازع کی صورت اختیار کر رہا تھا۔ مظفر آباد میں ہونے والی پیش قدمی کو سمجھنے کے لیے اس پورے تاریخی پس منظر کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔

 

کشمیر کا مسئلہ ابتدا ہی سے محض زمین، سرحدوں یا حکمرانی کا سوال نہیں رہا۔ اس کے ساتھ عوام کی سیاسی خواہشات، مذہبی شناخت، معاشی محرومیوں اور حقِ خودارادیت کے مطالبات وابستہ رہے ہیں۔ ڈوگرہ عہد میں ریاست کے مختلف علاقوں میں سیاسی نمائندگی، زمین کی ملکیت اور انتظامی اختیارات سے متعلق شکایات موجود تھیں۔ بالخصوص مسلمان آبادی کے بعض طبقات میں معاشی اور سیاسی عدم مساوات کے خلاف بے چینی پائی جاتی تھی۔ 1931 کی عوامی تحریک اور بعد کے سیاسی واقعات اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ کشمیر میں تبدیلی کی خواہش تقسیم ہند سے بہت پہلے جنم لے چکی تھی۔

سنہ 1947 میں برصغیر کی تقسیم نے ان پرانے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ ریاست جموں و کشمیر کے حکمران مہاراجہ ہری سنگھ نے ابتدا میں بھارت یا پاکستان میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کا فیصلہ مؤخر رکھا۔ دوسری جانب پونچھ سمیت مختلف علاقوں میں سیاسی بے چینی اور مسلح مزاحمت بڑھ رہی تھی۔ ایسے حالات میں مظفر آباد ایک غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا۔ دریائے جہلم کے کنارے واقع یہ شہر نہ صرف جغرافیائی اعتبار سے اہم تھا بلکہ اس کے ذریعے کشمیر کی وادی تک رسائی کے راستے بھی کھلتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ اکتوبر 1947 کے واقعات میں مظفر آباد اور ڈومیل مرکزی مقامات بن گئے۔

22 اکتوبر کو قبائلی لشکروں کی کشمیر میں آمد نے اس تنازع کو ایک نئے عسکری مرحلے میں داخل کر دیا۔ پاکستانی بیانیے میں اس پیش قدمی کو کشمیری مسلمانوں کی مدد، مذہبی اخوت اور ڈوگرہ حکومت کے خلاف مزاحمت کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ اس میں شریک بہت سے قبائلی افراد کے لیے کشمیری مسلمانوں کے ساتھ مذہبی اور سماجی وابستگی ایک اہم محرک تھی۔ تاہم تاریخی ریکارڈ میں اس کارروائی کے عسکری مقاصد، تنظیمی انتظامات اور اس کے دوران پیش آنے والے واقعات کے بارے میں مختلف آرا موجود ہیں۔ اس لیے قبائلی رفاقت کی اہمیت کا جائزہ لیتے ہوئے جنگ کے انسانی نتائج کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

خورشید انور کا نام اس پیش قدمی کی قیادت کے حوالے سے نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔ مظفر آباد اور ڈومیل کے علاقے میں ڈوگرہ دفاعی نظام کے ٹوٹنے سے اوڑی، بارہ مولہ اور سری نگر کی جانب جانے والے راستوں کی عسکری اہمیت بڑھ گئی۔ مظفر آباد پر کنٹرول میں تبدیلی نے ریاست کے اندر طاقت کے توازن کو متاثر کیا اور کشمیر کے مستقبل سے متعلق فیصلوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ البتہ اس کارروائی کے بعد بارہ مولہ میں شہریوں کے خلاف تشدد اور لوٹ مار کی تاریخی شہادتیں بھی ملتی ہیں۔ ان واقعات کو تسلیم کرنا تاریخ کے کسی ایک فریق کی اجتماعی شناخت کو مجروح کرنا نہیں بلکہ جنگ کے مکمل انسانی تجربے کو سمجھنے کا تقاضا ہے۔

مظفر آباد کی تاریخ میں اس دور کی اہمیت صرف عسکری کامیابیوں تک محدود نہیں۔ یہ واقعات اس بڑے سوال سے بھی جڑے ہوئے ہیں کہ ریاست جموں و کشمیر کے باشندوں کو اپنے سیاسی مستقبل کے تعین میں کیا کردار ملنا چاہیے تھا۔ پاکستان میں 1947 کی جدوجہد کو کشمیری مسلمانوں کی آزادی کی تحریک اور پاکستان کے ساتھ ان کی تاریخی وابستگی کے تناظر میں یاد کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب بھارت الحاق کی قانونی دستاویز اور ریاستی خودمختاری کے سوال کو مختلف انداز سے پیش کرتا ہے۔ کشمیری معاشرے کے اندر بھی سیاسی مستقبل کے حوالے سے مختلف رجحانات موجود رہے ہیں۔ یہی اختلافات اس تنازع کی پیچیدگی کو ظاہر کرتے ہیں۔

اس تنازع کا ایک اہم پہلو اقوام متحدہ کی مداخلت بھی ہے۔ اپریل 1948 میں سلامتی کونسل نے قرارداد 47 منظور کی، جس میں جنگ بندی، فوجی انخلا اور آزادانہ و غیر جانب دارانہ استصوابِ رائے کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے۔ اس قرارداد کے تحت مختلف ذمہ داریاں پاکستان اور بھارت دونوں سے متعلق تھیں، لیکن ان کے نفاذ پر اتفاق نہ ہو سکا۔ نتیجتاً کشمیری عوام کے سیاسی مستقبل کا سوال حل طلب رہا۔ یہ تاریخی حقیقت یاد دلاتی ہے کہ کشمیر میں دیرپا امن کے لیے عسکری اقدامات کے ساتھ سیاسی مکالمہ اور عوامی حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔

آزاد جموں و کشمیر میں 22 اکتوبر کی یاد کشمیری مزاحمت، قبائلی رفاقت اور پاکستان کے ساتھ وابستگی کے تاریخی تصور سے جڑی ہوئی ہے۔ اس موقع پر ان افراد کو یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنے سیاسی عقائد اور اجتماعی مقاصد کے لیے مشکلات برداشت کیں۔ لیکن تاریخ سے حقیقی سبق حاصل کرنے کے لیے ان تمام شہریوں کی تکالیف کو بھی یاد رکھنا چاہیے جو جنگ، نقل مکانی اور عدم تحفظ کا شکار ہوئے۔ کسی بھی قوم کی اجتماعی یادداشت اس وقت زیادہ معتبر بنتی ہے جب وہ قربانیوں کے احترام کے ساتھ انسانی جان کی حرمت کو بھی بنیادی اہمیت دے۔

آج مظفر آباد ایک ایسے خطے کا دارالحکومت ہے جس کی تاریخ پاکستان اور کشمیر کے گہرے سماجی، ثقافتی اور سیاسی تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔ پاکستان میں مقبول نعرہ ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ اسی وابستگی کے ایک نمایاں اظہار کے طور پر سامنے آتا ہے۔ تاہم کشمیری عوام کے مستقبل کا سوال محض نعروں سے حل نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ کشمیریوں کی مختلف سیاسی آوازوں کو سنا جائے، بنیادی انسانی حقوق کا احترام کیا جائے اور ایسا پُرامن راستہ اختیار کیا جائے جو خطے کے باشندوں کو تحفظ، وقار اور سیاسی شرکت فراہم کرے۔

22 اکتوبر 1947 کی تاریخی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔ معرکہِ مظفر آباد ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کی جڑیں تاریخ، شناخت، قربانی اور سیاسی امنگوں میں پیوست ہیں۔ اس تاریخ کو یاد کرنے کا مقصد صرف ماضی کے واقعات دہرانا نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان اسباق کو سمجھنا بھی ہونا چاہیے جو مستقبل میں امن اور انصاف کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ شہداء کی یاد، کشمیری عوام کی مشکلات اور خطے کے تاریخی رشتوں کا احترام اسی وقت بامعنی ہوگا جب آنے والی نسلوں کو خوف اور تصادم کے بجائے ایک محفوظ اور باوقار زندگی میسر آئے۔ یہی تاریخ کے ساتھ انصاف اور کشمیر کے مستقبل سے وابستہ انسانی امیدوں کا بنیادی تقاضا ہے۔

Author

اوپر تک سکرول کریں۔