پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جو قیمت ادا کی ہے، اسے محض اعداد و شمار میں بیان کرنا آسان نہیں۔ نیکٹا کے مطابق ۲۰۰۱ سے ۲۰۲۲ کے دوران دہشت گردی کے باعث تقریباً ۸۳ ہزار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان میں وہ بچے بھی شامل تھے جو صبح اسکول گئے مگر واپس نہ آئے، وہ والدین بھی جن کے خاندان اجڑ گئے اور وہ اہلکار بھی جنہوں نے دوسروں کی زندگیاں بچاتے ہوئے اپنی جان قربان کردی۔ اس طویل اور تکلیف دہ تجربے نے ہمیں ایک حقیقت سمجھائی ہے۔ دہشت گرد کو مار دینا ضروری ہوسکتا ہے، لیکن دہشت گردی کو جنم دینے والی سوچ ختم کرنا کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔
پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف غیر معمولی قربانیاں دی ہیں۔ فوجی کارروائیوں سے ان کے ٹھکانے تباہ ہوئے، منصوبے ناکام بنائے گئے اور کئی نیٹ ورک کمزور پڑے۔ اس کے باوجود انتہاپسندی کا خطرہ برقرار ہے۔ وجہ یہ ہے کہ بندوق کسی دہشت گرد کو روک سکتی ہے، مگر اس نظریے کو نہیں جو کسی دوسرے نوجوان کو بندوق اٹھانے پر آمادہ کرتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں پُرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام قومی سلامتی کی ایک بنیادی ضرورت بن جاتی ہے۔
آج انتہاپسند تنظیموں کا ایک بڑا ہتھیار سوشل میڈیا ہے۔ یہ تنظیمیں کسی واقعے کی چند سیکنڈ کی ویڈیو اٹھاتی ہیں، اسے اصل پس منظر سے الگ کرتی ہیں اور پھر ایسے انداز میں پیش کرتی ہیں کہ دیکھنے والا غصے اور نفرت میں مبتلا ہوجائے۔ بعض اوقات جھوٹی خبریں اتنی تیزی سے پھیلتی ہیں کہ حقیقت سامنے آنے تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ قرآن مجید سورۂ حجرات کی آیت ۶ میں خبر کی تصدیق کا حکم دیتا ہے۔ یہ تعلیم آج کے ڈیجیٹل ماحول میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، جہاں ایک غیر مصدقہ پیغام ہزاروں ذہنوں کو متاثر کرسکتا ہے۔
اصل مسئلہ صرف جھوٹی خبر کا نہیں بلکہ اس کے پیچھے چھپے مقصد کا ہے۔ شدت پسند نوجوانوں کے احساسِ محرومی، غصے اور شناخت کے سوالات کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہیں۔ پہلے انہیں بتایا جاتا ہے کہ معاشرے میں ان کی کوئی جگہ نہیں، پھر یہ باور کرایا جاتا ہے کہ تشدد ہی عزت حاصل کرنے کا واحد راستہ ہے۔ انٹرنیٹ پر فرضی شناختوں کے ذریعے دوستی اور ہمدردی کا اظہار کیا جاتا ہے، جس کے بعد آہستہ آہستہ انتہاپسند نظریات ذہن میں اتارے جاتے ہیں۔ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے نوجوانوں کو ڈیجیٹل آگاہی، قابلِ اعتماد رہنمائی اور سوال کرنے کی آزادی دینا ہوگی۔
انتہاپسند گروہ مذہب کی تعلیمات کو بھی اپنے مقاصد کے لیے توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔ خودکش حملوں کو قربانی اور بے گناہوں کے قتل کو مذہبی فریضہ قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حالانکہ قرآن مجید سورۂ مائدہ کی آیت ۳۲ میں انسانی جان کی حرمت بیان کرتا ہے، جبکہ سورۂ نساء کی آیت ۲۹ خود کو ہلاک کرنے سے روکتی ہے۔ پاکستان کے مختلف مکاتبِ فکر کے علما نے پیغامِ پاکستان کے ذریعے خودکش حملوں کی واضح مذمت کی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ پیغام صرف سرکاری تقریبات تک محدود نہ رہے بلکہ مساجد، مدارس، تعلیمی اداروں اور معاشرتی گفتگو کا مستقل حصہ بنے۔
تعلیم انتہاپسندی کے خلاف سب سے مضبوط دفاع بن سکتی ہے، بشرطیکہ اسے صرف ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ نہ سمجھا جائے۔ ایک ایسا نوجوان جو مختلف آرا سننے، دلیل پرکھنے اور اختلاف برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، اسے نفرت انگیز پروپیگنڈے کا شکار بنانا نسبتاً مشکل ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے علم حاصل کرنے کے راستے کی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ اس لیے تعلیمی اداروں میں تنقیدی سوچ، اخلاقی تربیت، شہری ذمہ داریوں اور پرامن مکالمے کو فروغ دینا ضروری ہے۔ نوجوانوں کو یہ اعتماد بھی ملنا چاہیے کہ ان کی رائے اہمیت رکھتی ہے۔
خیبر پختونخوا اور بلوچستان جیسے علاقوں میں بعض حقیقی سماجی اور معاشی شکایات کو انتہاپسند تنظیمیں اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ جہاں نوجوان روزگار، تعلیم اور انصاف کے مواقع محدود محسوس کرتے ہیں، وہاں تشدد کو تبدیلی کا راستہ بنا کر پیش کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ تاہم محرومی کسی صورت بے گناہوں کے قتل کا جواز نہیں بن سکتی۔ ریاست کو چاہیے کہ جائز شکایات سنے، مقامی آبادی کو فیصلہ سازی میں شریک کرے اور انصاف تک رسائی بہتر بنائے۔ قرآن مجید کی سورۂ نساء کی آیت ۱۳۵ بھی انصاف پر ثابت قدم رہنے کی تاکید کرتی ہے۔
دہشت گردی کے خلاف حکمتِ عملی میں ان افراد کی بحالی کا سوال بھی اہم ہے جو انتہاپسند نظریات ترک کرکے معاشرے میں واپس آنا چاہتے ہیں۔ ہر معاملے کو اس کی نوعیت کے مطابق دیکھنا ہوگا۔ سنگین جرائم میں ملوث افراد کے لیے قانونی جواب دہی لازمی ہے اور متاثرین کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ دوسری طرف ایسے افراد جن کی حقیقی اصلاح ممکن ہو، انہیں نفسیاتی مشاورت، تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور نگرانی کے ساتھ دوبارہ معاشرتی زندگی کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔ نیکٹا کی ۲۰۲۴ کی پالیسی میں بحالی اور سماجی شمولیت کو اہمیت دی گئی ہے۔ یہ کمزوری نہیں بلکہ مستقبل کے خطرات کم کرنے کی کوشش ہے۔
فرقہ وارانہ نفرت بھی انتہاپسندی کو زندہ رکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔ جب کسی شہری کو اس کے عقیدے، مذہب یا شناخت کی وجہ سے دشمن بنا کر پیش کیا جائے تو معاشرتی اعتماد کمزور پڑتا ہے۔ پاکستان جیسے متنوع معاشرے میں یہ رجحان خاص طور پر خطرناک ہے۔ مذہبی رہنماؤں، اساتذہ اور سماجی کارکنوں کو مشترکہ طور پر نفرت انگیز بیانیے کی مخالفت کرنا ہوگی۔ اقلیتوں کا تحفظ، عبادت گاہوں کی سلامتی اور قانون کا یکساں نفاذ ایک مضبوط اور پُرامن معاشرے کی بنیادی شرائط ہیں۔ قرآن مجید سورۂ ممتحنہ کی آیت ۸ میں پُرامن لوگوں کے ساتھ بھلائی اور انصاف کی تعلیم دیتا ہے۔
اب سوال یہ نہیں کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف مزید کتنی کارروائیاں کرسکتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کتنے نوجوانوں کو انتہاپسند تنظیموں کی بھرتی سے پہلے محفوظ کرسکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ریاستی اداروں، علما، اساتذہ، میڈیا، خاندانوں اور سول سوسائٹی کے درمیان مستقل تعاون ناگزیر ہے۔ کامیابی صرف گرفتار دہشت گردوں کی تعداد سے نہیں بلکہ نوجوانوں میں بڑھتے اعتماد، بہتر مواقع، کم ہوتی بھرتی اور معاشرتی ہم آہنگی سے بھی جانچی جانی چاہیے۔
پاکستان نے میدانِ جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس جدوجہد کو گھروں، کلاس رومز، مساجد اور ڈیجیٹل دنیا تک پھیلایا جائے۔ کسی نوجوان کو انتہاپسندی کے راستے سے واپس لانا محض ایک فرد کی زندگی بچانا نہیں بلکہ ممکنہ طور پر کئی دوسرے خاندانوں کو تباہی سے محفوظ رکھنا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف دیرپا کامیابی تبھی ممکن ہوگی جب معاشرہ خوف کے مقابلے میں اعتماد، نفرت کے مقابلے میں برداشت اور تشدد کے مقابلے میں انصاف کو اپنا راستہ بنائے گا۔ کیونکہ دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کامیابی صرف بندوق سے نہیں بلکہ ذہنوں اور دلوں کو جیتنے سے حاصل ہوگی۔
Author
-
View all posts
Muhammad Sudais is pursuing a PhD in International Relations, with a research focus on United States interests and strategic engagement in Asia. His academic work examines American foreign policy, regional power competition, security dynamics, and the evolving geopolitical importance of Asia within the broader international system.