امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کے اعلان نے خطے بھر میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے درمیان واقع حساس جغرافیائی پٹی میں رہنے والے عوام کے لیے ایسی ہر پیش رفت محض سفارتی خبر نہیں ہوتی بلکہ اس کے ساتھ ان کی روزمرہ زندگی، سلامتی کے احساس اور مستقبل کی امیدیں بھی جڑی ہوتی ہیں۔ گلگت بلتستان میں اس خبر کے بعد خوشی کے جو مناظر دیکھنے میں آئے، وہ اسی وسیع تر نفسیاتی اور قومی کیفیت کا اظہار تھے۔ اسکردو اور دیگر علاقوں میں لوگوں کا سڑکوں پر نکلنا، مٹھائیاں تقسیم کرنا اور امن کے حق میں جذبات کا اظہار کرنا اس امر کی علامت ہے کہ یہ خطہ عالمی کشیدگی کے اثرات کو گہرائی سے محسوس کرتا ہے اور امن کی ہر خبر کو اپنے اجتماعی سکون سے جوڑ کر دیکھتا ہے۔
گلگت بلتستان کی حساس جغرافیائی حیثیت کے باعث یہاں کے عوام علاقائی اور عالمی سیاست کے اتار چڑھاؤ سے ہمیشہ باخبر رہتے ہیں۔ یہ خطہ سرحدی اہمیت، دفاعی تناظر اور قومی سلامتی کے وسیع تر فریم ورک میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بین الاقوامی سطح پر کوئی بڑی کشیدگی کم ہوتی ہے تو یہاں اس کے اثرات محض خبروں تک محدود نہیں رہتے بلکہ ایک اجتماعی اطمینان کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ امریکا–ایران تناؤ میں کمی کو یہاں کے عوام نے صرف دو ممالک کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے ایک ایسے امکان کے طور پر لیا جس سے پورے خطے میں عدم استحکام، معاشی دباؤ اور جنگی ماحول کے خدشات کم ہو سکتے ہیں۔
اس ردعمل کا ایک اہم پہلو پاکستان کے ساتھ گلگت بلتستان کے عوام کی گہری جذباتی وابستگی بھی ہے۔ یہاں جب قومی یا بین الاقوامی اہمیت کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو عوامی ردعمل میں صرف علاقائی تشویش نہیں بلکہ قومی شناخت کا عنصر بھی نمایاں ہوتا ہے۔ اسکردو کی سڑکوں پر خوشی منانے والے افراد دراصل امن کے ساتھ ساتھ اپنے اس تعلق کا اظہار بھی کر رہے تھے جو وہ پاکستان کی ریاست، اس کے اداروں اور قومی مفاد کے ساتھ محسوس کرتے ہیں۔ یہ مناظر اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے لوگ اپنے آپ کو قومی دھارے سے الگ نہیں بلکہ اس کا فعال اور حساس حصہ سمجھتے ہیں۔
اس موقع پر پاکستانی قیادت کے کردار پر بھی گفتگو ہوئی اور عوامی سطح پر یہ تاثر سامنے آیا کہ پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے، سفارتی توازن برقرار رکھنے اور امن کے بیانیے کو تقویت دینے میں مثبت کردار ادا کیا۔ اگرچہ بین الاقوامی تنازعات کے حل میں متعدد طاقتیں، بیک چینل رابطے، علاقائی مفادات اور عالمی سفارت کاری کے کئی پرت در پرت عوامل شامل ہوتے ہیں، تاہم پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ ایک اہم موقع ہوتا ہے کہ وہ خود کو محض ردعمل دینے والی ریاست کے بجائے ایک ذمہ دار، متوازن اور امن پسند فریق کے طور پر پیش کرے۔ گلگت بلتستان کے عوامی ردعمل کو اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے، جہاں مقامی لوگوں نے قومی قیادت کی سفارتی کاوشوں کو اپنے فخر اور اطمینان کے ساتھ جوڑا۔
تاہم اس سارے منظرنامے کو صرف جذباتی عینک سے دیکھنا کافی نہیں ہوگا۔ اصل سوال یہ بھی ہے کہ کیا ایسے عوامی مظاہرے پاکستان کے اندر سیاسی اعتماد، قومی یکجہتی اور ریاستی بیانیے کی قبولیت کی علامت ہوتے ہیں؟ بظاہر اس کا جواب ہاں میں دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ عوامی اعتماد صرف نعروں یا وقتی اجتماعات سے نہیں بلکہ دیرپا کارکردگی، شفاف قیادت، معاشی استحکام اور عوامی مسائل کے حل سے مضبوط ہوتا ہے۔ اگر قیادت واقعی عالمی امن، علاقائی استحکام اور قومی مفاد کے تحفظ میں مؤثر کردار ادا کرتی ہے تو ایسے لمحات وقتی ردعمل سے آگے بڑھ کر پائیدار سیاسی اعتماد کی بنیاد بھی بن سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان کے تناظر میں یہ واقعہ ایک اور اہم حقیقت بھی سامنے لاتا ہے: دور افتادہ اور جغرافیائی طور پر مشکل علاقوں میں رہنے والے لوگ عالمی سیاست سے لاتعلق نہیں ہوتے۔ ان کے نزدیک جنگ، پابندیاں، سفارتی بحران اور خطے میں طاقتوں کی کشمکش براہ راست ان کی نفسیات، تجارت، سیاحت، نقل و حرکت اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کرتی ہے۔ اس لیے جب امن کی کوئی خبر آتی ہے تو اسے سب سے زیادہ شدت سے وہی معاشرے محسوس کرتے ہیں جو طویل عرصے سے غیر یقینی حالات کے سائے میں جیتے رہے ہوں۔ گلگت بلتستان کے جشن کو اسی انسانی اور سماجی پس منظر میں سمجھنا چاہیے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ قومیں صرف جنگی نعروں سے نہیں بلکہ امن کے اجتماعی خواب سے مضبوط ہوتی ہیں۔ اگر عوام نے اس خبر پر خوشی منائی تو اس کا مطلب صرف یہ نہیں کہ انہوں نے ایک سفارتی پیش رفت کو سراہا، بلکہ یہ بھی کہ وہ تصادم کے بجائے استحکام، خوف کے بجائے امید اور کشیدگی کے بجائے معمول کی زندگی چاہتے ہیں۔ یہی وہ جذبہ ہے جو کسی بھی ریاست کے لیے اصل سرمایہ ہوتا ہے۔ جب عوام امن، یکجہتی اور ذمہ دار قیادت کے تصور کے ساتھ کھڑے ہوں تو ریاست کی سفارتی پوزیشن بھی زیادہ مضبوط دکھائی دیتی ہے۔
آخر میں، امریکا–ایران جنگ بندی پر گلگت بلتستان کا ردعمل ایک اہم سماجی و قومی اشارہ ہے۔ یہ اس خطے کے عوام کے سیاسی شعور، قومی وابستگی اور امن پسند مزاج کی عکاسی کرتا ہے۔ اس میں جذبات بھی ہیں، قومی فخر بھی، اور ایک بہتر عالمی ماحول کی امید بھی۔ اصل کامیابی اب یہ ہوگی کہ ایسے لمحات کو محض تقریبات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں داخلی استحکام، علاقائی ہم آہنگی اور عوامی اعتماد کے مضبوط تر ڈھانچے میں تبدیل کیا جائے۔ تبھی یہ خوشی ایک خبر سے بڑھ کر قومی پختگی کی علامت بن سکے گی۔
Author
-
View all postsڈاکٹر سید حمزہ حسیب شاہ ایک تنقیدی مصنف اور تجزیہ کار ہیں جو بین الاقوامی تعلقات میں مہارت رکھتے ہیں، خاص طور پر ایشیا اور جغرافیائی سیاست پر توجہ دیتے ہیں۔ انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اردو میں اور علمی اور پالیسی مباحثوں میں فعال طور پر حصہ ڈالتا ہے۔