بھارتی مبصر برہما چیلانی کی یہ دلیل کہ پاکستان اور ایران کو ایک ہی درجے میں رکھ کر دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ دونوں مسلم اکثریتی ریاستیں ہیں، علمی اعتبار سے کمزور، سیاسی طور پر جانب دار، اور تزویراتی اعتبار سے گمراہ کن ہے۔ اس تصور کو وہ “نیوکلیئر اسلام ازم” جیسے اشتعال انگیز عنوان کے تحت پیش کرتے ہیں، حالانکہ جوہری سیاست کی بنیاد مذہبی شناخت نہیں بلکہ ریاستی ڈھانچہ، قانونی ذمہ داریاں، عسکری نظریات، کمانڈ اینڈ کنٹرول کے ادارے، اور علاقائی توازنِ قوت ہوتا ہے۔ جب تجزیے کی بنیاد قانون، تاریخ اور تزویراتی حقائق کے بجائے مذہبی شناخت کو بنا دیا جائے تو بحث سنجیدہ پالیسی سے ہٹ کر تہذیبی تعصب میں بدل جاتی ہے۔ یہی اس پورے بیانیے کا بنیادی مسئلہ ہے: یہ وضاحت کم اور دھند زیادہ پیدا کرتا ہے۔
اس دلیل کی سب سے بڑی کمزوری قانونی سطح پر نمایاں ہوتی ہے۔ پاکستان کو جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ پاکستان اس معاہدے کا دستخط کنندہ ہی نہیں۔ دوسری طرف ایران اس معاہدے کا حصہ ہے، اس لیے اس پر افزودگی، نگرانی، حفاظتی اقدامات اور بین الاقوامی معائنوں سے متعلق واضح قانونی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ یہی بنیادی فرق اس دعوے کو کمزور کر دیتا ہے کہ امریکہ یا عالمی نظام دونوں کے ساتھ ایک ہی پیمانے پر برتاؤ کرے۔ جو ریاستیں عالمی عدم پھیلاؤ کے ڈھانچے میں مختلف قانونی حیثیت رکھتی ہوں، ان کے بارے میں ایک سا ردعمل لازم قرار دینا دراصل قانون کو سیاسی نعرے میں بدل دینا ہے۔ چیلانی کی دلیل اسی غلط مفروضے پر کھڑی ہے کہ مختلف قانونی دائروں میں موجود ریاستوں سے یکساں سلوک نہ کیا جائے تو یہ لازماً منافقت ہے، حالانکہ بین الاقوامی قانون میں یکسانیت نہیں بلکہ ذمہ داریوں کی نوعیت اہم ہوتی ہے۔
امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کو بھی جان بوجھ کر سادہ اور یک رخی انداز میں پیش کیا جاتا ہے، گویا واشنگٹن نے ہمیشہ پاکستان کے جوہری پروگرام کے لیے نرم گوشہ رکھا ہو۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ امریکہ کی پاکستان کے ساتھ وابستگی کبھی بھی نظریاتی ہم آہنگی پر مبنی نہیں رہی بلکہ ہر دور میں اس کے اپنے فوری تزویراتی مفادات غالب رہے۔ سرد جنگ میں پاکستان سوویت توسیع پسندی کے مقابل ایک اہم ریاست تھا۔ افغانستان میں سوویت مداخلت کے بعد وہ امریکی حکمتِ عملی کا مرکزی ستون بن گیا۔ پھر نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو ایک بار پھر فیصلہ کن اہمیت حاصل ہوئی۔ ان تمام ادوار میں عدم پھیلاؤ کے اصول کبھی سختی سے نافذ کیے گئے، کبھی نظرانداز کیے گئے، اور کبھی مؤخر کر دیے گئے۔ اس طرزِ عمل کو تضاد ضرور کہا جا سکتا ہے، مگر اسے کسی مسلم ریاست کے لیے خصوصی رعایت یا مذہبی بنیاد پر نرم رویہ قرار دینا حقائق سے انحراف ہے۔
پاکستان کے جوہری پروگرام کی تاریخی بنیاد بھی کسی مذہبی محرک میں نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کی سخت اور غیر متوازن سلامتی صورتِ حال میں پیوست ہے۔ 1974 میں بھارت کے نام نہاد “پرامن جوہری دھماکے” نے پورے خطے کے تزویراتی ماحول کو بدل دیا۔ یہی وہ واقعہ تھا جس نے بعد میں نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے قیام کی راہ ہموار کی، کیونکہ دنیا نے دیکھ لیا کہ سول جوہری سہولتوں کو عسکری رخ بھی دیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کا جوہری پروگرام اسی پس منظر میں ابھرا جہاں ایک طرف بھارت کی روایتی اور جوہری برتری بڑھ رہی تھی اور دوسری طرف دونوں ممالک کے درمیان جنگوں، بحرانوں اور مسلسل کشیدگی کی تاریخ موجود تھی۔ اس تناظر کو نظرانداز کر کے پاکستان کے جوہری پروگرام کو کسی مذہبی شناخت کے ساتھ جوڑ دینا تاریخ اور تزویرات دونوں کی نفی ہے۔ ایران کا معاملہ بالکل الگ ماحول میں تشکیل پایا، اس لیے دونوں کی تاریخوں کو ایک سانچے میں ڈھالنا کمزور تقابل ہے۔
اگر واقعی عالمی عدم پھیلاؤ کے نظام میں دوہرے معیار تلاش کرنے ہیں تو زیادہ مضبوط مثال پاکستان نہیں بلکہ بھارت ہے۔ بھارت جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے باہر رہتے ہوئے بھی 2008 میں ایک غیر معمولی رعایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا، جس نے اسے نیوکلیئر سپلائرز گروپ سے سول جوہری تعاون کے دروازے کھول دیے۔ اس استثنا کی نوعیت معمولی نہیں تھی، کیونکہ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ عالمی اصول سب کے لیے برابر نہیں۔ مزید یہ کہ بھارت آج بھی اپنے تمام جوہری تنصیبات کو مکمل بین الاقوامی نگرانی کے تحت نہیں لایا، اس کے باوجود اسے عالمی سطح پر ایک ذمہ دار شراکت دار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کو مسلسل ایک مخصوص اور مشتبہ عینک سے دیکھا جاتا ہے۔ اگر اصول واقعی غیر جانب دار ہوتے تو سوال یہ اٹھتا کہ ایک غیر دستخط کنندہ ریاست کو کس بنیاد پر ایسی رعایتیں ملیں جن سے اس کی جوہری اور تزویراتی گنجائش مزید وسیع ہوئی۔
بھارت کی جوہری صلاحیت اور اس کی مسلسل توسیع بھی اس بحث میں مرکزی اہمیت رکھتی ہے۔ عالمی تخمینوں کے مطابق بھارت کے پاس جوہری ہتھیاروں کی قابلِ ذکر تعداد موجود ہے، جبکہ خطے کے کئی ماہرین اس کے ذخیرے اور پیداوار کی رفتار کو مزید بلند قرار دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت نے میزائل ٹیکنالوجی میں نمایاں پیش رفت کی ہے، طویل فاصلے تک مار کرنے والے نظام تیار کیے ہیں، اور متعدد صلاحیتوں کے حامل ہتھیاروں کے تجربات بھی کیے ہیں۔ لیکن اس عسکری توسیع کے باوجود بھارت کو ایک کلیدی تزویراتی ساتھی سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر امریکہ اور مغربی دنیا کے ایک بڑے حصے کی جانب سے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ عدم پھیلاؤ کا عملی اطلاق قانونی اصولوں سے زیادہ جغرافیائی سیاست سے متاثر ہوتا ہے۔ چنانچہ یہ کہنا کہ دنیا پاکستان کے ساتھ محض اس کے مسلم ہونے کے باعث نرم ہے، حقیقت کے برعکس ہے؛ زیادہ درست بات یہ ہے کہ طاقتور ریاستیں اپنے مفادات کے مطابق اصولوں کی نئی تشریح کرتی رہتی ہیں۔
“نیوکلیئر اسلام ازم” جیسی اصطلاح کا ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ یہ خود اپنی منطق کے بوجھ تلے دب جاتی ہے۔ اگر جوہری شناخت کو مذہب کے پیمانے سے ناپا جائے تو پھر یہی پیمانہ دوسرے غیر دستخط کنندہ جوہری ممالک پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ اگر تہذیبی یا مذہبی شناخت ہی اصل تجزیاتی بنیاد ہے تو پھر صرف مسلم ممالک کو الگ کر کے کیوں دیکھا جاتا ہے؟ کیوں بعض دوسری ریاستوں کی جوہری حیثیت کو مذہبی یا نظریاتی عینک سے نہیں پرکھا جاتا؟ اسی طرح بھارت کے اپنے سیاسی بیانیے میں بھی تہذیبی قوم پرستی، مذہبی اکثریت پسندی اور عسکری وقار کا امتزاج وقت کے ساتھ زیادہ واضح ہوا ہے۔ اگر ایک طرف مذہبی شناخت کو جوہری تجزیے میں داخل کیا جائے تو دوسری طرف بھی اسی اصول کے تحت سوالات اٹھنے چاہییں۔ مگر ایسا نہیں کیا جاتا، کیونکہ اصل مقصد علمی یکسانیت نہیں بلکہ ایک منتخب ہدف کو مشکوک بنانا ہوتا ہے۔
تاریخی پھیلاؤ کے نیٹ ورکس کے بارے میں بھی محتاط اور متوازن رویہ ضروری ہے۔ پاکستان کا نام عموماً اے کیو خان کے حوالے سے لیا جاتا ہے، لیکن یہ پورا باب بھی اکثر سیاسی نعرے بازی کا شکار ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں ریاست، فرد، غیر رسمی نیٹ ورک، اور بین الاقوامی منڈیوں کے کردار ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ اس کے باوجود پورے پاکستانی جوہری ڈھانچے کو ایک شخص یا ایک مرحلے کی بنیاد پر مستقل مشتبہ قرار دینا درست نہیں۔ مزید برآں، عالمی سطح پر جوہری اور حساس ٹیکنالوجی کی گردش کی تاریخ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے جتنی اسے عام سیاسی مباحث میں بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس لیے ایسے حساس موضوعات کو سادہ مذہبی خانوں میں تقسیم کرنا نہ صرف تحقیق کے خلاف ہے بلکہ پالیسی فہم کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔
آخر میں اصل مسئلہ یہ نہیں کہ دو مسلم ممالک کے جوہری پروگراموں کا تقابل کر کے عالمی منافقت کو بے نقاب کیا جا رہا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس قسم کا تقابل جنوبی ایشیا اور وسیع تر عالمی جوہری سیاست کی اصل ساختی حقیقتوں سے توجہ ہٹا دیتا ہے۔ جوہری سیاست کی دنیا میں طاقت، قانون، اتحاد، خطرات، تاریخی تجربات، عسکری منصوبہ بندی اور علاقائی دشمنیاں اصل کردار ادا کرتی ہیں، نہ کہ مذہبی شناخت۔ پاکستان اور ایران کو ایک ہی مذہبی خانے میں رکھ کر ان کی جوہری پالیسیوں کو سمجھنے کی کوشش علمی دیانت کے خلاف ہے۔ اس سے نہ عالمی دوہرے معیار کی سنجیدہ تشریح ممکن ہے اور نہ جنوبی ایشیا کی سلامتی حرکیات کی درست تفہیم۔ چیلانی کا بیانیہ اسی لیے ناقابلِ قبول ہے کہ وہ قانون کو نعروں میں، تزویرات کو تعصب میں، اور پیچیدہ حقائق کو ایک سہل مگر گمراہ کن مذہبی فریم میں بدل دیتا ہے۔
Author
-
View all posts
مصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔